dollar_updates

روپیہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں تگڑا، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رہی مندی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی (جے ٹی این آن لائن بزنس رپورٹ ) روپیہ غیر ملکی کرنسیاں

زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے ڈالر یورو اور پاﺅنڈ کو تنزلی

کا سامنا رہا، گزشتہ دو ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 805 ملین ڈالر سرپلس

ہونے اور ترسیلات زر میں اضافے سے روپے پر دباﺅ محدود رہا۔ درآمدات میں

کمی کی وجہ سے بھی زرمبادلہ کی طلب محدود رہی حالانکہ ہفتہ وار کاروبار

کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے باعث ڈالر کی قدر 166 روپے سے تجاوز کر

گئی تھی لیکن رسد برقرار رہنے سے ڈالر کی قدر میں دوبارہ تنزلی ہوئی۔

===: یہ بھی پڑھیں، پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں آ گیا، سٹیٹ بینک
——————————————————————————————-

گزشتہ ہفتے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 4 پیسے گھٹ کر 165 روپے 79

پیسے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی

کے 166.20 روپے پر مستحکم رہی۔ انٹربینک میں یورو کی قدر مجموعی طور

پر 3 روپے 41 پیسے گھٹ کر 193 روپے 22 پیسے پر آ گئی۔ اوپن مارکیٹ

میں یورو کرنسی کی قدر 3 روپے کی کمی سے 194 روپے ہوگئی۔ انٹر بینک

مارکیٹ میں برطانوی پاﺅنڈ کی قدر 3.55 روپے گھٹ کر 211.69 روپے ہو گئی

جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں برطانوی پاﺅنڈ کی قدر 3.50 پیسے گھٹ کر

213 روپے ہو گئی۔

===: سٹاک ایکسچینج؛ گذشتہ ہفتے سرمایہ کاروں کو 126 ارب کا نقصان

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران مندی چھائی رہی جس کی

بدولت 26 سرمایہ کاروں کے ارب 57 کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار 227 روپے ڈوب

گئے۔ ہفتہ وار کاروبار کے 4 سیشنز میں مندی اور ایک سیشن میں محدود تیزی

رونما ہوئی۔ حکومت کی جانب سے 169 درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم

کر کے صنعتوں کو سستا خام مال مہیا کرنے کا اقدام بھی سٹاک مارکیٹ پر اثر

انداز نہ ہو سکا بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی، گزشتہ دو

ماہ میں بجٹ خسارہ 440 ارب ڈالر تک پہنچنے، موسم سرما میں قدرتی گیس

کے بحران کی شدت بڑھنے سے مقامی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں اور

برآمدات متاثر ہونے کی خبروں کی وجہ سے ملک کے سرمایہ کاروں میں

اعتماد کا فقدان رہا۔

===: کرونا کی دوسری لہر نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا، ماہرین

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کرونا کی دوسری لہر سے معاشی سرگرمیاں

متاثر ہونے کے خدشے نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ ہفتہ وار

کاروبار کے دوران تسلسل سے مندی کے باعث انڈیکس کی 42000 پوائنٹس کی

نفسیاتی حد بھی گر گئی۔ مجموعی طور پر مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے

ایک کھرب 26 ارب 57 کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار 227 روپے ڈوب گئے۔ جس

سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی گھٹ کر 78 کھرب 18 ارب 84 کروڑ

19 لاکھ 62 ہزار 837 روپے ہو گیا۔ ہفتے وار کاروبار کے دوران انڈیکس کی

بلند سطح 42553 پوائنٹس اور کم ترین سطح 41417 پوائنٹس رہی جبکہ

67.69 ارب روپے مالیت کے 12.32 ارب شئیر کا کاروبار ہوا۔

===: ہفتے وار کاروبار میں 100 انڈیکس 803.53 پوائنٹس گھٹ گیا

ہفتے وار کاروبار میں 100 انڈیکس 803.53 پوائنٹس گھٹ کر 41701.23

پوائنٹس پربند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 440.58 پوائنٹس گھٹ کر

17605.68 پوائنٹس پربند ہوا، کے ایم آئی 30 انڈیکس 1774.34 پوائنٹس گھٹ

کر 66558.61 پوائنٹس پربند ہوا اور کے ایم آئی پی ایس ایکس انڈیکس 391.15

پوائنٹس گھٹ کر 29790.12 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

روپیہ غیر ملکی کرنسیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply