روس یوکرین مذاکرات شروع
Spread the love

بیلاروس (جے ٹی این آن لائن نیوز) روس یوکرین مذاکرات شروع

تنازع کے حل کیلئے بیلاروس کی سرحد پر روسی اور یوکرینی سفارتکاروں کے

درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا جس میں فریقین دس نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر

رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کو پانچ

روز ہوگئے ہیں جس میں ہلاکتوں اور ایک دو سر ے کو نقصان پہنچانے کے

متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔روس فوجیں یوکرین کے دارالحکومت میں

پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جبکہ دوسرے بڑے شہر

خارکیف میں داخل ہوچکی ہیں جہاں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔یوکرین میں

روسی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد کیف اور

خار کیف میں دھماکوں کی آوازیں دوبارہ سنی گئی ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق

یوکرینی فضائیہ روسی فوج کے قافلوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے جس سے

نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے

کہ بیلا روس یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، اس

حوالے سے یوکر ین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ بیلا روس کے

صدر الیگزینڈر لوکا شینکو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بیلاروس اپنی فوج یوکرین

میں نہیں بھیجے گا۔جبکہ روسی افواج نے یوکرائن کے دارالحکومت کیف کو

اِسوقت محاصرے میں لے رکھا ہے۔کیف کے میئر ویٹالی کلٹسکو نے شہر کے گرد

روسی محاصرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے روسی فوج شہر سے باہر جانے

کے تمام راستے بند کر رہی ہے۔ شہر پر قبضے کی صورت میں شہریوں کا انخلا

ممکن نہیں کیونکہ تمام راستے بند ہیں۔ فضائی حملوں کی آوازیں شہر میں گونج

رہی ہیں۔ کیف میں لگایا جانیوالا کرفیو صبح ہٹا دیا گیا ۔شہریوں کو زیر زمین پناہ

گاہوں سے نکلنے، کھانے پینے کی اشیاء کی خرید و فروخت، دکانیں کھولنے کی

اجازت دی گئی ۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلنا شروع ہوگئی ہے۔دارالحکومت میں

کرفیو رات 10 بجے دوبارہ شروع ہوگا جو صبح 7 بجے تک نافذ رہے گا۔گزشتہ

دو روز کے دوران دارالحکومت کیف کے مضافاتی علاقوں میں کئی دھماکے

ہوئے، شہر کے مرکز میں کوئی روسی میزائل حملہ نہیں ہوا تاہم اس کا خدشہ

برقرار ہے ۔دا ر ا لحکومت پر اب تک یوکرائن کا کنٹرول ہے۔ کیف کے حکام نے

خبردار کیا ہے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور شہر کے تقریباً ہر ضلع میں سڑکوں

پر لڑائی جاری ہے۔کیف کے رہائشیو ں کو صرف بہت ضرورت کے تحت دن کے

وقت گھروں اور پناہ گاہوں کو چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ادھرسلامتی

کونسل میں یوکرین سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگا می اجلاس آج

بلانے کی قراردادمنظور کر لی گئی ، روس نے قرار داد کی مخالفت کی تاہم قواعد

کے باعث جنر ل اسمبلی کا اجلاس بلانے سے نہیں روک پایا، قرار داد کے حق

میں 11 ووٹ آ ئے۔سلامتی کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں روس سمیت پانچ

سپر پاورز کی ویٹو پاور سلب کر لی گئی، یوکرین پر حملے کیخلاف جنرل اسمبلی

کا فوری ہنگامی اجلاس بلانے کی منظو ری دیدی گئی۔ قرارداد کے حق میں گیارہ

ممالک نے ووٹ دیا، چین، بھارت، عرب امارات نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔

دوسری جانب جی 7 ممالک نے روس پر مزید پابندیوں کی دھمکی دیدی۔ امریکہ ،

برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، اٹلی اور جاپان کی جانب سے مشترکہ اعلامیے

میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی علاقوں پر قبضے کو تسلیم نہیں کیا جائیگا، روس نے

حملے بند نہ کیے تو مزید پابندیاں لگا دیں گے،امریکہ ، یورپی یونین، برطانیہ اور

کینیڈا کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کے بعد روسی کرنسی اپنی قدر کھو بیٹھی ،

روبل ڈالر کے مقابلے میں پہلی بار 20 فیصد تک گر گیا ۔ سوئفٹ بینکاری سسٹم

سے نکالے جانے کے بعد روس کو پٹرول اور گندم کی برآمدات کی ڈیلنگ میں

شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف

نسل کشی کا مقدمہ بھی دائرکردیا ہے جس میں یوکرین پرروسی حملے فوری

طورپررکوانے کی استدعا سمیت روس سے یوکرین پرکئے گئے حملے میں ہوئے

نقصان کا ہرجا نہ دلوانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔دوسری جانب ڈنمارک

کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج

کیخلاف لڑنے کیلئے بننے والی بین الاقوامی بریگیڈ میں شامل ہونے کی اجازت

دیدی ہے۔ ایک بیان میں ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ ڈنمارک کے شہری روس سے

لڑنے کیلئے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معا ملہ ہے کوئی

بھی اپنی پسند سے فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنے والے تمام

یوکرینی شہر یوں کیساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کیلئے بھی ہے جو روس

کیخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

روس یوکرین مذاکرات شروع

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: