Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

ماضی کی روایتی جرگہ کمیٹیاں بامقابلہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کونسلز

Spread the love

روایتی جرگہ کمیٹیاں

خیبر پختونخوا میں عوام کے معاشرتی تنازعات اور مسائل کے حل کیلئے ماضی

میں بھی علاقائی سطح پر کمیٹیاں بنیں، اور اس حوالے سے کردار ادا کرتی رہیں

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں کی کارکردگی میں تیزی آنے کی

بجائے کمی آتی رہی، اور یوں ان کوششوں کا پہیہ رکتا رہا جس کی وجہ کمیٹیوں

کے اراکان کی ذاتی مصروفیات یا پھر امن کمیٹیوں کی سربراہی ایسے افراد کے

ہاتھوں میں چلے جانا ہے جو کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر امن کمیٹیوں اور اس

کی بدولت جُڑے کے تعلقات کا غلط استعمال تھا، ایسی صورتحال میں بعض جگہ

یہ امن کمیٹیاں امن و امان برقرار رکھنے کے بجائے خرابی امن کا باعث بھی

بنتی دکھائی دیں، اور عوامی عدم اعتماد کے باعث وقت گزرنے کیساتھ خود بخود

اپنا وجود کھو گئیں-

=یہ بھی پڑھیں= دشمن داری ہی مردانگی کی علامت کیوں—؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد 2014ء میں

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس اور عدالت پر سے مقدمات کا بڑھتا

ہوا بوجھ کم کرنے، اور روایتی جرگہ سسٹم کے ذریعے عوام کے مختلف آپسی

تنازعات کو خونی واقعات میں بدلنے سے پہلے ہی انہیں حل کرنے کے اغراض

و مقاصد کیلئے پولیس کی زیر سرپرستی ” ڈی آر سی ” ڈسپیوٹ ریزولیوشن

کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا-

=ضرور پڑھیں= انصاف کی طلبگار شیباگُل بھی ظلم کا شکار

اس نظام کارکردگی اور اس کی بدولت آنیوالی مثبت تبدیلیوں میڈیا کیساتھ بات

چیت میں روشنی ڈالتے ہوئے سربراہ پشاور شہر پولیس ایس پی عتیق شاہ نے

بتایا کہ قیام سے لے کر اب تک صرف دارالحکومت پشاور کے علاقہ گلبہار میں

پانچ ہزار سے درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 55 فیصد مختلف تنازعات جن

میں قتل مقاتلے کی دشمنیوں، لڑائی جھگڑوں، گھریلو ناچاکیوں جیسے مسائل

سمیت پیسوں کے لین کے تنازعات کو ایک دو تاریخوں میں حل کیا گیا، یاد رہے

کہ گلبہار (ڈی آر سی) میں غیر ملکی باشندوں کے مسائل بھی انتہائی خوش

اسلوبی کیساتھ نمٹائے گئے-

=-،-=چینی باشندہ ڈی آر سی سسٹم سے فوری انصاف کا معترف

ان تنازعات میں قابل ذکر ایک چینی باشندے کا یہاں کے مقامی شخص کیساتھ

کاروباری لین دین میں ایک ملین کا تنازع چلا آ رہا تھا، جسے صرف دوسری

تاریخ میں حل کر کے مقامی شخص سے ایک ملین روپے لے کر چینی باشندے

کے حوالے کئے دیئے گئے بھی شامل ہے، جس پر چینی باشندے نے پاکستان

میں ڈی آر سی کے نظام انصاف کو سراہتے ہوئے ممبران اور پولیس آفسیرز کا

شکریہ ادا کیا کچھ اسی طرح پشاور گلبرگ، صوابی، ایبٹ آباد اور دیگر اضلاع

کی ڈی آر سیز کی کارکردگی بھی انتہائی بہتر رہی، جس کی شروعات صوبائی

دارالحکومت پشاور سے کی گئی، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ بھی وسیع

ہوتا رہا-

=-،-=ڈی آر سی کی کامیابی کی وجوہات

DRCs Members
ڈی آر سی کی بدولت صوبے میں گزشتہ سات سالوں میں ہزاروں چھوٹے بڑے

کیسز آسانی کے ساتھ حل ہو چکے ہیں، جس کا فائدہ عوام اور حکومت دونوں کو

پہنچ رہا ہے، ماضی میں بننے والی جرگہ امن کمیٹیوں کے مقابلے میں ڈی آر

سی کی کارکردگی کافی زیادہ بہتر رہی ہے، جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ڈی آر

سی کے ممبران معاشرے کے بہترین افراد جن میں علماء، دانشور، شعراء،

ڈاکٹرز، سابقہ فوجی آفیسرز اور صحافیوں وغیرہ کا چناؤ، خواتین و اقلیتی اراکین

ہیں، جبکہ دوسری بڑی وجہ اس نظام کو پولیس اور حکومت دونوں کی بھرپور

سرپرستی حاصل ہونا ہے-

=-،-= قتل و غارت گری کا شروع ہونیوالا نیا سلسلہ

چند ماہ پہلے اچانک ذاتی دشمنیوں کی بناء پر اجتماعی قتل و غارت گری کا ایک

ایسا سلسلہ شروع ہوا، جس نے صوبے کا امن و امان تباہ کر کے رکھ دیا، جس

سے شہریوں میں بھی عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی، کہیں ایک ہی گھرانے کے

بچوں سمیت سات افراد قتل تو کہیں 5 اور 8 انسانی جانوں کا ضیاع عام ہو گیا

جس پر انسپکٹرجنرل پولیس آف خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے سخت

ہدایات جاری کیں کہ صوبے میں روایتی جرگہ سسٹم میں تیزی لائی جائے، کھلی

کچہریوں اور جرگہ انعقاد کیلئے انتظام، سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے، جرگہ

نظام کو فعال کریں اور بہترین حکمت عملی کا مظاہر کرتے ہوئے کلاشنکوف

کلچر کیخلاف عوامی آگاہی مہم چلائی جائے، علاوہ ازیں ڈی آر سی کے ادارے

مزید مستحکم بنائیں اور انہیں بہتر استعمال میں لایا جائے، تاکہ اس طرح کے

واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے-

مثالی پولیس کے سربراہ بھی مثالی خوبیوں کے حامل
IGP KPK Muazam Jaj Ansari
آئی جی پی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری

=-،-=مختصر تعارف=-،-=

معظم جاہ انصاری جون 2021ء میں صوبہ خیبر پختونخوا پولیس کے 29 ویں

سربراہ بنے، ان کا تعلق پاکستان پولیس سروس کے 17 کامن سے ہے، وہ اس

سے قبل انسپیکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر بلوچستان میں بھی اپنی خدمات

سر انجام دے چکے ہیں، انہوں نے طویل عرصہ فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بطور

کمانڈنٹ گریڈ اکیس میں خدمات انجام دیں، وہ جوائنٹ ڈائریکٹ جنرل انٹیلیجنس

بیورو بلوچستان، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) گوادر اور سندھ میں ڈائریکٹر

ایف آئی اے کے طور پر خدمات انجام دیں، وہ کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں

سینئر سپرٹینڈنٹ آف آف پولیس رہ چکے ہیں-

قائد اعظم پولیس اور اقوام متحدہ پولیس میڈلز ہولڈر آفیسر

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہونیوالے بہادر آفیسر نے

انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، محکمہ پولیس میں ان کی

شجاعت اور بہادری کے اعتراف میں انہیں قائداعظم پولیس میڈل سے بھی نوازا

گیا، جو کہ ملک میں سب سے بڑا پولیس بہادری کا ایوارڈ ہے، انہوں نے بوسینا

ہرزیگوینا میں اقوام متحدہ کا پولیس میڈل بھی حاصل کیا-

=-،-= سربراہ کی ہدایات پر کے پی پولیس کا بروقت و مستعد عمل
SP City Peshawar Atiq Shah
ایس پی سٹی پشاور عتیق شاہ

انسپکٹر جنرل پولیس کے پی کے کی جانب سے واضح احکامات پولیس حرکت

میں آ گئی، جس کے بعد پشاور، صوابی، ملاکنڈ اور ابیٹ آباد سمیت صوبے کے

دیگر اضلاع کی پولیس حرکت میں آ گئی اور ہر جگہ روایتی جرگہ کے ذریعے

سابق دشمنیوں و دیگر تنازعات کے خاتمے کیساتھ ساتھ مخالفین کے آپس میں

شیر و شکر ہونے کی خبروں کا تانتا بندھ گیا، صوبے بھر اور بالخصوص ان

اضلاع میں جہاں دشمنیوں کی بناء پر قتل مقاتلے کی شرح زیادہ ہے کی پولیس

نے اسلحہ نمائش سے لوگوں میں خوف ہراس پھیلانے اورخرابی امن کا باعث

بننے والے افراد سمیت ان گروہوں جو ذاتی دشمنی کی آڑ میں پولیس کی پھرتیاں،

کلاشنکوف کلچر کو فروغ دے رہے ہیں کے خلاف بھرپور کارروائیاں عمل میں

لائی جارہی ہیں جبکہ زمینوں جائیدادوں پر قبضہ یا ان تنازعات پر دشمنیوں کے

خاتمے کے لئے آگاہی مہم میں علاقوں کے علماء و مشران سے مل کر ایسے

مسائل کے حل کیلئے بھرپور اقدامات جاری ہیں-

ایس پی صوابی بنارس خان کا روایتی جرگہ سے خطاب

دوسری جانب کئی اضلاع میں قائم ڈی آر سیز نے بھی اپنی کارکردگی رپورٹس

پیش کرنا شروع کر دی ہیں، جن کے مطابق چند ماہ کے دوران لین دین تنازعات

حل کر کے کڑوروں روپے حق داروں کو دلائے گئے، درجنوں قتل مقاتلوں،

زمینوں اور پلاٹس پر عرصہ دراز سے چلی آنیوالی دشمنیوں کا خاتمہ کر دیا گیا،

جبکہ دشمنیاں پالنے کی آڑ میں منشیات فروشی، بھتہ خوری اور شہریوں میں اپنا

رعب دبدبہ پیدا کرنے کیلئے بدمعاشی کرنیوالوں کو بھی پابند سلاسل کر دیا گیا،

واضح رہے خونی دشمنیوں کے خاتمے کیلئے کے پی کے پولیس کے اتنے بڑے

اقدام کی مثال ماضی میں نہیں ملتی- اس حوالے سے عوامی و سماجی حلقوں نے

آئی جی پی معظم جاہ انصاری کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج

تحسین پیش کیا ہے۔

پولیس کا ہے فرض مدد آپکی اور عوام کی ذمہ داریاں

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے سے اسلحہ کلچر اور نئی نسل کو خونی

دشمنیاں پالنے سے بچانے کی خاطر صوبائی پولیس کو ان کارروائیوں، روائتی

جرگہ سسٹم اور کھلی کچہریوں کے انعقاد کو اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی کا حصہ

بنانا ہو گا تاکہ معاشرے سے خونی دشمنیوں جیسے ناسور کا نام و نشان ہمیشہ

کیلئے مٹ جائے، کسی بھی معاشرے میں پولیس کی اولین ذمہ داری شہریوں کے

جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، جہاں ضرورت پڑے تو ان کی مدد کیلئے

محافظ پہنچ جائیں، کیونکہ ” پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی “- لیکن ہم نے کبھی

یہ سوچا ہے کہ بحیثیت شہری ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، عوام

کے تعاون بغیر کسی بھی جگہ مکمل امن و امان قائم کرنا ممکن نہیں اور جرائم

کے خاتمے کیلئے جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کرنا بھی ہر شہری پر فرض

ہے، اس معاملے میں پولیس کی مدد نہ کرنا جرائم کے پھلنے پھولنے کی ایک

بڑی وجہ ہے-

=-،-= کھلی کچہری میں فرض شناس پولیس آفیسر کا شکوہ
KPK Police Officer
آفیسر جرگہ میں عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی اس ویڈیو میں بھی پشاور کا ایک نڈر اور فرض

شناس افسرکھلی کچہری میں گاؤں کے معززین اور علاقہ مشران کو یہی

سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی جانب سے پولیس کیساتھ مکمل تعاون

نہیں کرنے کا شکوہ کرتا سنائی دے رہا ہے- کیونکہ ایسے حالات میں عوام کا

پولیس کے ساتھ مکمل تعاون ہی آنیوالی نسل کو جرائم سے پاک پر امن اور مہذب

معاشرہ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے- (= دیکھئے ویڈیو =)

پولیس میں خود احتسابی، جزا و سزا کا عمل عوامی اعتماد کا ضامن

محکمہ پولیس میں خود احتسابی اور سزا و جزا کے عمل کو ہرحال میں یقینی

بنانے سے ہی پولیس کے وقار میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ عوام میں ان پر

اعتماد برقرار رہنا ممکن ہو گا جس کے لئے عوام اور پولیس کے مابین دوستی

کی فضاء قائم کرنا ہو گی-

روایتی جرگہ کمیٹیاں ، روایتی جرگہ کمیٹیاں

روایتی جرگہ کمیٹیاں ، روایتی جرگہ کمیٹیاں

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply