رنگ روڈ کرپشن سکینڈل

راولپنڈی رنگ روڈ کرپشن سکینڈل،سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمود،لینڈ کلیکٹروسیم تابش گرفتار

Spread the love

رنگ روڈ کرپشن سکینڈل

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس نے کہا ہے کہ

راولپنڈی رنگ روڈ کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد سابق کمشنر راولپنڈی و پروجیکٹ ڈائریکٹر

محمد محمود اور چیئرمین لینڈ ایکوزیشن عباس تابش کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

انکوائری 50 روز میں مکمل کی گئی،2018میں گذشتہ حکومت نے رنگ روڈ کی الائنمنٹ منظور کی

، سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود نے اسے تبدیل کردیا،اس سے پروجیکٹ کی لاگت میں اضافے

کے ساتھ زمین کی قیمت بھی بڑھی، ہاؤسنگ اٹھارٹیز کے بینیفشریز کے خلاف کیس نیب کے حوالے

کیا جا رہا ہے ، سکینڈل میں سیاست دانوں کے کردار کے حوالے سے جوبھی ہے، ہم وہ بات کریں

گے جس کا ہمارے پاس ثبوت ہو گا ، سیاسی شخصیات کے بارے تفصیلات نیب کو بھجوائیں گے

،ابھی تک براہ راست کسی سیاسی شخصیت کی سرمایہ کاری سامنے نہیں آئی، دبئی سمیت مختلف

مقامات سے بے نامی سرمایہ کاری سامنے آرہی ہے ، اینٹی کرپشن کی تاریخ میں پہلی بار کسی

کمشنر کو گرفتار کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم پر کوئی دبا نہیں ، کمشنر راولپنڈی نے اس

منصوبے میں تبدیلیاں کیں، الائنمنٹ میں بغیر منظوری کے اتھارٹی لیٹرز جاری کیے، لمبائی تبدیل کی

اور بغیر اجازت کے دو ارب 60 کروڑ روپے خرچ کیے جس سے لینڈ ایکوزیشن گرانٹ چھ سے 16

ارب تک پہنچ گئی ، 10 ہاؤسنگ سوسائٹیز میں غیر قانونی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے ،انکوائری

ٹیم نے تفتیش کے دوران 21 ہزار کاغذات کو چیک کیا اور 100 سے زائد افسران سے تحقیقات کیں ۔

بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ انکوائری 50 روز میں مکمل کی

گئی۔گوہر نفیس کا مزید کہنا تھا کہ 2018 میں گذشتہ حکومت نے رنگ روڈ کی الائنمنٹ منظور کی

تھی جس کو سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود نے تبدیل کیا جس سے پروجیکٹ کی لاگت میں

اضافے کے ساتھ زمین کی قیمت بھی بڑھی۔ان کا کہنا تھا کہ جس کمپنی کو کنسلٹینسی کے لیے ہائر

کیا گیا اس کو بغیر منظوری کے نئی الائنمنٹ پر لگایا گیا۔ گوہر نفیس نے مزید بتایا کہ پروجیکٹ

مینیجر کو کہا گیا کہ وزیراعلی سے منظوری لی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا، بعد ازاں مں صوبہ نیسپاک

کو دے گیا گیا، جس کا فائدہ سوسائٹی مالکان کو ہوا۔انہوں نے بتایا کہ نئی الائنمنٹ میں ٹریفک کی

روانی کا تبادلہ ہونا تھا، اس کا کچھ حصہ اسلام آباد میں آتا ہے، جس کی اجازت سی ڈی اے نے نہیں

دی جبکہ اس کے باوجود اشتہارات میں اس کو حصہ بنایا گیا اور الائنمنٹ فائنل ہوئے بغیر ہی دو ارب

60 کروڑ روپے کی زمین خریدی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اٹک میں غیر متعلقہ شخص سے زمین

خریدی گئی، راولپنڈی میں لوگوں کو کم جبکہ اٹک میں زیادہ پیسے دیے گئے۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی

کرپشن پنجاب کے مطابق حکومتی پیسے کا ضیاع کیا گیا۔ پروجیکٹ سے فائدہ اٹھانے والوں سے

متعلق اقدام ابھی زیرغور ہے۔گوہر نفیس کا کہنا تھا کہ اٹک میں جتنا بھی کام ہوا اس کی مں ظوری

نہیں لی گئی، جس کا فائدہ سوسائٹیوں نے اٹھایا، ہاؤسنگ اٹھارٹیز کے بینیفشریز کے خلاف کیس نیب

کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکینڈل میں سیاست دانوں کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم

وہ بات کریں گے جس کا ہمارے پاس ثبوت ہو گا۔ سیاسی شخصیات کے بارے تفصیلات نیب کو

بھجوائیں گے۔ابھی تک براہ راست کسی سیاسی شخصیت کی سرمایہ کاری سامنے نہیں آئی، دبئی

سمیت مختلف مقامات سے بے نامی سرمایہ کاری سامنے آرہی ہے۔

رنگ روڈ کرپشن سکینڈل

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply