ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ، رمیز راجہ کی متوقع پالیسی سامنے آ گئی

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ، رمیز راجہ کی متوقع پالیسی سامنے آ گئی

Spread the love

لاہور، کراچی (جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) رمیز راجہ متوقع پالیسی

سابق کپتان رمیز راجہ کو چیئرمین کرکٹ بورڈ کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد کئی

اہم اور فوری چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی کرسی

سنبھالنے کے بعد رمیز راجہ کو نیوزی لینڈ ٹیم کی میزبانی کیساتھ ٹی ٹونٹی ورلڈ

کپ کیلئے ایک مضبوط پاکستانی ٹیم کا انتخاب اہم ایشو ہے اور یہ فیصلہ بھی کرنا

ہو گا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق، باؤلنگ کوچ وقار یونس اور ان کے ساتھیوں پر

مشتمل ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ ہی میگا ایونٹ میں جانا ہے یا پھر اس سیٹ اپ میں

تبدیلی لانا ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی کے متوقع نئے چیئرمین نے

پرانے ساتھی کرکٹرز سے مشاورت بھی شروع کردی ہے، ایک سابق کرکٹر نے

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رمیز راجہ اچانک اور فوری تبدیلیوں سے

گریز کرنے کی پالیسی اپنانے کو ترجیح دیں گے جبکہ قومی ٹیم کے انتخاب سے

پہلے رمیز راجہ مینجمنٹ اور چیف سلیکٹر محمد وسیم سے ملاقاتیں کریں گے

جس میں وہ کوچنگ اور ٹیم سلیکشن کے حوالے سے اپنی رائے دیں گے۔ ذرائع

کے مطابق ٹیم مینجمنٹ اور پی سی بی سیٹ اپ میں تبدیلیاں ورلڈ کپ کے بعد کی

جائیں گی۔ چیف سلیکٹر محمد وسیم کی جگہ کسی سینئر کرکٹر کو یہ ذمہ داری

سونپی جائے گی۔ نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں ڈائریکٹر اکیڈمیز ندیم خان اور

کوچنگ سٹاف میں بھی ردوبدل دیکھنے کو ملے گا۔ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر

کیساتھ پی سی بی میں بھی چند پرانے چہروں کی واپسی ہو سکتی ہے، سابق چیف

آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کی بھی کرکٹ بورڈ میں اہم عہدے پر واپسی بھی ہو

سکتی ہے۔

=-،-= رمیز راجہ پی سی بی کی کمان سنبھالنے والے تیسرے سابق قائد ہونگے

رمیز راجہ پی سی بی کی کمان سنبھالنے والے تیسرے سابق کپتان ہوں گے، تاہم

اس سے قبل اے ایچ کاردار اور جاوید برکی بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

رمیز راجہ پی سی بی کے 36 ویں چیئرمین بننے والے ہیں، 13ستمبر کو گورننگ

بورڈ کی میٹنگ میں ان کے انتخاب کی کارروائی مکمل ہو جائیگی، وہ پی سی بی

کی کمان سنبھالنے والے تیسرے سابق کپتان ہوں گے، اس سے قبل اے ایچ کاردار

اور جاوید برکی نے فرائض سر انجام دیے۔ ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ بھی

چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر فائز رہے ہیں، اے ایچ کاردار کا سب سے بڑا

کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈپارٹمنٹس کی ٹیمیں متعارف

کرائیں، اس سے کھلاڑیوں کو معاشی استحکام ملا اور مستقبل کیلیے تحفظ حاصل

ہوا۔ رمیز راجہ ایک ایسے بورڈ کا چارج سنبھالیں گے جس نے پیٹرن اور وزیر

اعظم عمران خان کی ہدایت پر اداروں کی ٹیمیں سرے سے ختم کرکے 6 صوبائی

ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کا سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس سے قبل فرسٹ کلاس

کرکٹرز ظفر الطاف اورڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی بطور پی سی بی چیئرمین کام کیا

ہے، جولائی 1954ء سے 1960ء تک صدور، وزرائے اعظم بورڈ کے سربراہ

رہے، مجموعی طور پر 4 لیفٹیننٹ جنرلز، ایک فیلڈ مارشل، ایک ایئر مارشل، 7

سول سرونٹس، ایک صحافی، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ایک میڈیکل ڈاکٹر، سپریم

کورٹ کے 2 چیف جسٹس، اتنے ہی جج اور 3 بزنس مین چیئرمین پی سی بی رہے

ہیں۔ ان میں سے جسٹس اے آر کارنیلس اور ایئر مارشل نور خان کو بطور

چیئرمین سب سے کامیاب قرار دیا جاتا ہے، جسٹس اے آر کارنیلس کے دور میں

لوگو اور پہلا آئین بھی تیار کیا گیا تھا۔

=-،-= مستقبل میں رمیز بھائی کے فیصلوں کو دیکھنا ہو گا، آفریدی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ رمیز راجہ کرکٹ کو

سمجھتے ہیں، دنیائے کرکٹ دیکھی ہے، تجربہ کار ہیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ

تبدیلی ضروری تھی جو کہ اب ہو گئی ہے، مستقبل میں رمیز بھائی کے فیصلوں

کو دیکھنا ہو گا۔ آفریدی نے کہا کہ پی سی بی میں میرٹ پر لوگوں کو آگے لائیں،

حفیظ اور شعیب ملک کی ضرورت ہے، دونوں کو چانس ملنا چاہیے، اتنے بڑے

عہدے پر ذاتی معاملات کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ حالیہ

عرصے کے دوران کئی نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا، نوجوان کھلاڑی

پرفارم نہیں کرسکے۔ سابق کپتان نے کہا کہ شعیب ملک کی خدمات ہیں، اس کی

پاکستان کرکٹ کو ضرورت ہے، محمد حفیظ اور شعیب ملک کو ورلڈ کپ سکواڈ

میں شامل کرنا چاہئے۔

رمیز راجہ متوقع پالیسی ، رمیز راجہ متوقع پالیسی ، رمیز راجہ متوقع پالیسی

رمیز راجہ متوقع پالیسی ، رمیز راجہ متوقع پالیسی ، رمیز راجہ متوقع پالیسی

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply