رمیز راجہ کے پاس کھیل اور کھلاڑیوں کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع

رمیز راجہ کے پاس کھیل اور کھلاڑیوں کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع

Spread the love

( تحریر:— افضل افتخار) رمیز راجہ بہترین موقع

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ تین سال کیلئے

بلامقابلہ پی سی بی کے 36 ویں چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔ بورڈ کے نئے

چیئرمین کے انتخاب کے لئے بورڈ آف گورنرز کا خصوصی اجلاس نیشنل ہائی

پرفارمنس سینٹر لاہور میں منعقد ہوا۔ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں پی سی بی

کے الیکشن کمشنر جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید نے انتخاب کرایا اور خصوصی

اجلاس کی صدارت کی۔ گورننگ بورڈ کے خصوصی اجلاس میں رمیز راجہ کے

مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہ آیا جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے رمیز

راجہ کے کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ بننے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یار رہے وہ

2014ء تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں اور آئی

سی سی چیف ایگزیکٹو کمیٹی میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ عبدالحفیظ

کاردار، جاوید برکی اور اعجاز بٹ کے بعد وہ چوتھے کرکٹرز اور تیسرے سابق

کپتان ہیں، جنہوں نے بطور سربراہ کرکٹ بورڈ کا چارج سنبھالا ہے۔ گورننگ

بورڈ کے اجلاس میں اسد علی خان، جواد قریشی، عاصم واجد جواد،عارف سعید

اوعالیہ ظفر نے شرکت کی۔ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان بھی اس اہم

اجلاس کا حصہ تھے۔

= یہ بھی پڑھیں= ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ، رمیز راجہ کی متوقع پالیسی سامنے آ گئی

اجلاس کے شرکاء نے رمیز راجہ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد

انہوں نے چیئرمین کی کرسی پر بیٹھ کر چیف الیکشن کمشنر اور بورڈ ممبرز کا

شکریہ ادا کیا۔ رمیزراجہ نے کرکٹ کی بہتری کے لئے مستقبل کے پلانز پر

روشنی ڈالی اور کہا میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ ہم

پاکستان کرکٹ کو میدان کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر مضبوط کریں اور

پرواز چڑھائیں۔ میری پہلی ترجیح قومی کرکٹ ٹیم میں اس سوچ، ثقافت و نظریے

کو متعارف کروانا ہے جس نے کبھی پاکستان کو کرکٹ کی سب سے خطرناک

ٹیم بنا دیا تھا، ہم سب کو قومی کرکٹ ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ان کی

مطلوبہ ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسی برانڈ کی کرکٹ

کھیلیں جس کی ان سے شائقین کرکٹ توقع کرتے ہیں۔

=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کے دورہ کے لئے پہنچ چکی ہے

یہ نہ صرف کرکٹ شائقین بلکہ پوری قوم کے لئے خوشی کا موقع ہے، نیوزی

لینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورہ پر ہے اور امید ہے کہ یہ دورہ یادگار ثابت ہو گا-

اٹھارہ سال کیوی ٹیم کی پاکستان نہ آنے کی کئی وجوہات ہیں، مگر یہ موقع

صرف خوشی کا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوچکی ہے-

پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس حوالے سے کاوشیں قابل تعریف ہیں، نیوزی لینڈ کے

بعد انگلینڈ کی مینز و ویمنز کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آنا ہے اور اگلے سال

آسٹریلیا کی ٹیم بھی پاکستان کھیلنے کے لئے آئے گی بس جس وقت کا انتظار تھا

وہ آ گیا ہے، دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیمیں پاکستان کا رخ کر رہی ہیں جو اس بات

کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کھیلوں کے لئے پر امن ہے جسے ماضی میں

صرف بدنام کیا گیا تاکہ یہاں پر کرکٹ کی سرگرمیاں نہ ہو سکیں مشکل وقت

گزر گیا ہے اور اب امید ہے کہ پاکستان اپنی ہر ہوم سیریز کا انعقاد پاکستان ہی

میں منعقد کرے گا اور ہر ٹیم شیڈول کے مطابق شرکت کرے گی، پاکستان اور

نیوزی لینڈ کے درمیان تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز شیڈول ہے

سترہ ستمبرکو پہلا ون ڈے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، تین ون ڈے راولپنڈی

میں ہوں گے جس کے بعد پانچ ٹی ٹونٹی میچوں کے لئے نیوزی لینڈ کی ٹیم لاہور

کا دورہ کرے گی، مہمان ٹیم کو جو سکیورٹی فراہم کی وہ قابل تعریف ہے اور ہر

کھلاڑی اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا، کیوی کھلاڑیوں نے جب پاکستانی سر

زمین پر قدم رکھا تو ان کی خوشی بھی دیدنی تھی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا

ہے کہ وہ بھی پاکستان آ کر کھیلنا چاہتے تھے اور ان کو بھی وقت کا شدت سے

انتظار تھا، بلاشبہ پاکستانی شائقین کرکٹ دنیا میں کسی اور ملک کے شائقین سے

پیچھے نہیں ہیں اور جس طرح سے ہمیشہ ہی پاکستانی شائقین نے غیر ملکی

کھلاڑیوں کو سر پر بٹھایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور اسی لئے ہر غیر ملکی

ٹیم یہاں پر یادگار یادیں وابستہ کر کے واپس جاتی ہے اور دوبارہ پاکستان آ کر

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

کھیلنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے، اُمید ہے کہ کیوی کرکٹرز بھی یہاں پر

پاکستانی شائقین کی مہمان نوازی سے خوب لطف اندوز ہوں گے اور اگلی مرتبہ

وہ اس وقت کا انتظار کریں گے کہ کب ان کو دوبارہ پاکستان آ کر کھیلنے کا موقع

ملتا ہے، دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی بات کی جائے تو پاکستان کرکٹ

بورڈ کے نئے چیئرمین رمیز راجہ نے کمان سنبھال لی ہے اور ان سے بہت

امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں جبکہ ان کی جانب سے بھی کرکٹ کی ترقی و

فروغ کے لئے کئے عزم کو قابل قدر نظروں سے دیکھا جا رہا ہے، کرکٹ کی

دنیا میں وسیع تجربہ کے حامل رمیز راجہ کے پاس کھیل اور کھلاڑیوں کو پروان

چڑھانے کا بہترین موقع ہے، امید ہے کہ وہ اس کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور

اس عہدہ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں کرکٹ کے لئے بہترین اقدامات

کریں گے اور بورڈ کے دیگر اعلی عہدیداران ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

رمیز راجہ بہترین موقع ، رمیز راجہ بہترین موقع ، رمیز راجہ بہترین موقع

رمیز راجہ بہترین موقع ، رمیز راجہ بہترین موقع ، رمیز راجہ بہترین موقع

Leave a Reply