رمضان شوگر ملز کیس، شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر وکلاء کے دلائل مکمل

Spread the love

لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور مسٹر جسٹس مرزاوقاص رئوف پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو رمضان شوگر ملز کیس میں میاںشہباز شریف کی درخواست ضمانت پروکلاء کے دلائل مکمل ہوگئے ۔فاضل بنچ نے میاں شہباز شریف کے سابق سیکرٹری (عمل درآمد)فواد حسن فوادکی ناجائز اثاثوں کے کیس میں ضمانت کی درخواست پروکلاء کوآج 13فروری کودلائل کے لئے طلب کر لیا۔فاضل بنچ نے میاں شہباز شریف کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جن لوگوں کو ملزم بنانا چاہیے تھا ،نیب نے انہیں گواہ بنا دیاہے۔فاضل بنچ نے میاں شہباز شریف کے وکیل سے کہا امجد صاحب آپ اپنے بندوں کو سمجھائیں،آپ کے بندے باہر جا کہ پریس کانفرنس کرتے ہیں،ہم اپنی سمجھ کے لئے آپ سے اور نیب کے وکیل سے سوال جواب کرتے ہیں،یہ لوگ باہر جا کر پریس کانفرنس شروع کر دیتے ہیں آج یہ ہو گیا وہ ہو گیا۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ رمضان شوگرملز کیس میں حمزہ شہباز بھی ملزم ہیں ،نیب صرف اسی کو گرفتار کرتا ہے جو تفتیش میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے ،حمزہ مکمل تعاون کر رہا ہے جو دستاویزات مانگتے ہیں مہیا کرتا ہے ،نیب کے وکیل نے کہا کہ ان لوگوں کی رمضان شوگر ملز نے آلودہ پانی کے نکاس کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا،رمضان شوگر ملز نے نالہ بنانے کی بجائے ایک تالاب بنا دیا جہاں آلودہ پانی جمع ہوتاتھا۔مقامی رہائشیوں نے شکایت کی کہ رمضان شوگر ملز کی وجہ سے زیر زمین پانی آلودہ ہورہاہے ، سابق ایم پی اے مولانا رحمت اللہ نے میاںشہباز شریف کو بھی اس مسئلے ہر بطور مل مالک درخواست دی،ایم پی اے رحمت اللہ کی درخواست پر شہباز شریف نے رمضان شوگر ملزکے آلودہ پانی کے نکاس کے لئے نالہ تعمیر کرنے کی مد میں فوری طور پر 2 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا، عدالت نے استفسار کیا کیا آپ نے رحمت اللہ کو ملزم بنایا؟پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نہیں، رحمت اللہ کو ملزم نہیں بنایا گیا،عدالت نے کہا آپ نے اصل شخص کو ملزم قرار دیے بغیر ہی کیس بنا دیا،کیا نالے کی اراضی کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا؟ نیب کے تفتیشی نے کہا کہ نہیں، ابھی تک نالے کی اراضی کا ریکارڈ قبضے میں نہیں لیا۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ کے مطابق رمضان شوگر ملز نے مولانا رحمت اللہ کو نالہ بنوانے کے لئے استعمال کیا،آپ کے بیان سے لگتا ہے کہ مولانا رحمت اللہ ملز مالکان سے ملا ہوا تھا،آپ کو مولانا رحمت اللہ کو ملزم بنانا چاہیے تھا آپ نے گواہ بنا دیا،بتایا جائے کہ پہلے یہاں نالہ تھا یا نہیں،نیب کے وکیل نے کہا کہ زمین پی ایچ اے کی ہے جن کا بیان ہے کہ یہاں پہلے نالہ نہیں تھا،جس جگہ نالہ بنایا گیا وہاں کوئی آبادی نہیں صرف رمضان شوگر ملز ہے، شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نالہ رمضان شوگر ملز کے لئے نہیں بلکہ 7مختلف آبادیوں کے لئے بنایا گیا،نیب کے وکیل نے کہا کہ ابھی تک ان آبادیوں کو نالہ سے لنک کیا گیا نہ انہوں نے کبھی درخواست دی ،یہ نالہ رمضان شوگر ملز کے لئے ہی بنا جس کے لئے مرکزی سڑک تک کو کاٹا گیا،شہبازشریف کے وکیل نے کہا کہ رمضان شوگر ملز کو قائم ہوئے 25 سال ہو چکے، اس دوران اہل علاقہ کو سیوریج کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں، عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ رمضان شوگر ملز کے ساتھ واٹر ڈرینج کی کتنی لمبائی 12 کلومیٹر ہے،عدالت نے پوچھا سیوریج ڈرین لائن رمضان شوگر ملز سے کتنی دور سے شروع ہوتی ہے؟تفتیشی افسر نے بتایا کہ سیوریج ڈرین لائن رمضان شوگر ملز سے آدھا کلومیٹر دور سے شروع ہوتی ہے، شہباز شریف کے وکیل نے کہا پہلی بار واٹر ڈرین بنی ہے، اس نالے کے اردگرد 7گائوں ہیں جس کا سیوریج اس نالے میں جاتا ہے،نالے کی تعمیر سے دھورٹہ، دین پور کالونی، خضر حیات، اڈہ جامعہ آباد، قمر کے کالونی، بھٹو کالونی، موریاں والہ خان دا کوٹ کی آبادیوں کے لئے سہولت پیداہوئی ہے۔عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں رمضان شوگرملز حمزہ شہباز کی ہے، اس کے ویسٹ واٹر کیلئے نالہ بنایا گیا؟آپ نے کہا کہ نالے کے لئے فزیبیلٹی رپورٹ نہیں بنی اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ نیب کے وکیل نے کہا کہ 26 اکتوبر 1986 ء کے پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے تحت مپونسپل کارپوریشن کی حدود سے دور بنائے گئے صنعتی یونٹس پر انتظامات متعلقہ مالکان کی ذمہ داری ہوتی ہے، رمضان شوگر ملز میونسپل کارپوریشن کی حدود سے دور واقع ہے، 2005ء ، 2006ء ،2009ء اور 2010 ء کے ریکارڈ کے مطابق شوگرملز میں آلودہ پانی کے لئے تالاب تعمیر کیا گیا، رمضان شوگر ملز کے پاس اپنے گندے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام موجود نہیں، علاقہ مکینوں کے بیانات بھی موجود ہیں، گائوں عدلانہ میں رمضان شوگر ملز کے گندے پانی سے علاقے میں ہیپاٹائٹس پھیلا۔

Leave a Reply