صحافت کا روشن چراغ گُل، آہ--- رحیم اللہ یوسف زئی وفات پا گئے

صحافت کا روشن چراغ گُل، آہ— رحیم اللہ یوسف زئی وفات پا گئے

Spread the love

پشاور(خصوصی رپورٹ بیورو چیف،عمران رشید خان) رحیم اللہ یوسفزئی وفات

Journalist Imran Rasheed

قومی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی اور ماہر افغانستان اور شمالی پاکستان امور و مایہ ناز تجزیہ نگار

رحیم اللہ یوسفزئی انتقال کر گئے۔ رحیم اللہ یوسفزئی مرحوم گزشتہ ایک سال سے علیل

تھے انہیں کینسر تھا اور انکا علاج پشاور میں ہورہا تھا، تاہم نو ستمبر 2021ء کو

جمعرات کی شام وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، سینئر صحافی رحیم اللہ کا

نماز جنازہ آج 10 ستمبر بروز جمعتہ المبارک دن 11 بجے صوبہ خیبر پختونخوا

میں ان کے آبائی گاؤں کاٹلنگ ضلع مردان میں انذر گئی نزد سوات ایکپریس وے

انٹرچینج کے قریب واقع علاقہ خان ضمیر بانڈہ میں ادا کیا جائے گا۔

=-،-= قومی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کی زندگی پر ایک نظر

افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن

لادن کا پہلا انٹرویو کرنے والے رحیم اللہ یوسفزئی 10 ستمبر 1954 کو مردان

شہر کے گاؤں شموزئی میں پیدا ہوئے اور وہی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور

بعد ازاں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے پشاور آئے جبکہ سندھ کالج

سے گریجویٹ کیا اور پھر کراچی یونیورسٹی زیر تعلیم رہے، وہ پشاور میں

انگریزی اخبار دی نیوز ( انٹرنیشنل ) کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر، روزنامہ جنگ کے

لیے بطور کالم نگار کام کرتے رہے، اس سے پہلے ٹائم میگزین کے لیے بھی کام

کیا جبکہ وہ بی بی سی اردو اور بی بی سی پشتو سمیت متعدد عالمی صحافتی

اداروں سے بھی وابسطہ تھے انہیں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے انٹرویو

کی وجہ سے کافی شہرت ملی، رحیم اللہ یوسفزئی وہ واحد صحافی تھے جنہوں

نے افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر کا انٹرویو کیا اور 1995 میں

خود قندھار گئے وہ ایک نڈر صحافی تھے افغانستان میں جاری جنگ میں بمباری

کے باوجود اپنی صحافتی زمہ داری جاری رکھی حالانکہ اس دوران وہ ایک

دھماکے میں معجزانہ طور پر بال بال بچے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

رحیم اللہ یوسفزئی ملکی سیاسی معاملات سمیت افغانستان اور شمال مغربی

پاکستان کے امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے، مرحوم کو دنیائے صحافت

میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا انہوں نے صحافت اور تحقیق کے شعبے

نمایاں خدمات انجام دیں رحیم اللہ یوسفزئی کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں

حکومت پاکستان نے انہیں 2004 میں تمغہ امتیاز اور 2009 میں ستارہ امتیاز

سے نوازا رحیم اللہ یوسفزئی کے دار فانی سے کوچ کرجانے کے بعد پیدا ہونے

والے خلاء کو مدتوں تک پر نہیں کیا جا سکتا۔

=-،-= صدرمملکت، وزیراعظم، آرمی چیف، سیاسی و مذہبی قیادت کا اظہار افسوس

صدر مملکت عا ر ف علوی، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید

باجوہ، وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری، گورنر کے پی کے شاہ فرمان،

وزیراعلی کے پی کے محمود خان صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف ،چیئرمین

پیپلزپارٹی بلاو ل بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے قا ئد ین

نے سینیئر صحافی اور ماہر افغان اُمور رحیم اللہ یوسفزئی کی وفات پر دکھ اور

افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں ںنے کہا رحیم اللہ یوسفزئی کے انتقال سے صحافت

کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوا، ہم ایک سنجیدہ اور غیر جانبدار صحافی سے

محروم ہوگئے ہیں ، رحیم اللہ یوسفزئی کی جمہوری اور صحافتی خد مات لائق

تحسین ہیں،جنہیں تادیر یاد رکھا جائیگا، اللہ تعالی مرحوم کو غریقِ رحمت

فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

پولیس حکام کا سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے انتقال پر اظہار افسوس

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا معظم جا انصاری اور چیف کیپٹل بولیس عباس احسن

نے قومی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی اور ماہر افغان امور رحیم اللہ یوسفزئی

گہرے رنج و الم کا اظہار کیا انہوں نے مرحوم کی
پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور

علمی و صحافتی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی المناک

موت کو عظیم سانحہ قرار دیا ہے ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا

اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے غم میں برابر کے

شریک ہیں،انہوں نے مرحوم کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل

کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک انتہائی نفیس اور شریف النفس انسان

تھے جبکہ صحافت کے شعبے میں ان کو اکیڈمی کا درجہ حاصل تھا

انکی وفات سے پیدا ہونے والے خلاء کو مدتوں تک پر نہیں کیا جا سکے گا

=-،-= رحیم اللہ یوسفزئی کا انتقال صحافت کا بڑا نقصان، صدر و جنرل سیکرٹری پی پی سی

پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عمران بخاری نے کہا

ہے کہ پی پی سی کی منتخب باڈی اپنے تمام اراکین اور صحافی برادری کی

جانب سے جناب رحیم اللہ یوسفزئی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی

ہے۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان، دوست احباب، یہاں کی صحافت بلکہ

اس پورےخطہ کے لئے ایک بڑا نقصان ہے، پشاور پریس کلب کے ارکان مشکل

کی اس گھڑی میں ان کے خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ

سے مرحوم کے درجات کی بلندی اور غمزدہ خاندان کو صبرجمیل کی دعاء

کرتی ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی وفات ، رحیم اللہ یوسفزئی وفات ، رحیم اللہ یوسفزئی وفات

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply