افغان سہولت کار، “را” ایجنٹ سشما، امریکہ کی طفل تسلی، پاکستان کا صبر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“را” ایجنٹ سشما

909 کو اسے اپنوں کی جانب سے اہم پیغام موصول ہوا تھا، اسے ڈی کوڈ کرنے میں وقت درکار تھا لیکن تاخیر کی کوئی گنجائش نہ تھی، اس کا ابھی رابعہ کیساتھ گھومنے پھرنے کا موڈ تھا اور وہ بغیر کسی ذہنی تنائو کے رابعہ کیساتھ مزید وقت گزارنا چاہتا تھا لیکن شاید قسمت کو اسکا دو تین روز سے زیادہ چین لینا منظور نہ تھا۔
اس نے گاڑی کا رخ سٹرلنگ سے لندن کی طرف موڑ دیا تھا، اسکی نیند اڑ چکی تھی- 5 گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد وہ گھر پہنچ گیا تھا-

یہ بھی پڑھیں : سب فراڈ، صرف اولاد اپنی، رابعہ کا نیا انداز

ریحان اور شہزاد حسب معمول جاب پر جا چکے تھے۔ 909 فوراً باتھ روم میں گھس گیا اور گرم پانی سے شاور لینا شروع کر دیا حتیٰ کہ اس کی تھکان کافی کم ہو گئی، قریب آدھے گھنٹے کے بعد وہ باہر نکلا اورتولیہ لپیٹے سیدھا کچن میں چلا گیا- وہاں اس نے فریج سے دودھ نکال کر گرم کیا اور غٹا غٹ پی گیا، پھر سپلف سلگایا، آنکھیں بند کئے اس نے اسے ختم کیا اور پھر پیغام کو ڈی کوڈ کرنا شروع کر دیا،
لندن ہوم آفس کے علاقہ کرائیڈن میں ایک سہولتکار گھس آیا تھا جو مقامی بینک ’’ Abbey ‘‘ میں بطور پروموٹر آفیسر بھرتی ہوا تھا، اس کا نام محسن تھا اور وہ افغان نژاد تھا، مستقل قیام کا ویزہ رکھتا تھا، اس نے بینک کیساتھ فراڈ کرنا تھا-

Abbey Bank London

محسن خان کا کام معصوم پاکستانیوں کو پھنسانا تھا

بینک کو ایسے ہی لالچی اور فراڈئیوں نے ڈبو ڈالا۔ محسن کا کام پاکستانیوں کے اکائونٹ کھلوا کر انہیں 900 پائونڈ تک کریڈٹ ڈلوانا تھا۔ اس میں بھی اس کے 200 پائونڈ شمارہوتے تھے۔ 909 کو یہ تمام معلومات اس سے ملاقات کے بعد معلوم ہوئیں۔ محسن خان کا کام معصوم پاکستانیوں کو پھنسانا تھا، اس شخص سے ملنا اب ضروری تھا، کون تھا اس کے پیچھے، یہ جاننا تھا۔
اس کے علاوہ افغان پرائیویٹ کیب ڈرائیوروں کی سرگرمیاں خاصا پروان چڑھ چکی تھیں، کابل سے آنیوالے افراد پاکستانی شناخت کارڈ استعمال کر رہے تھے جوبھی پیسہ افغانستان بھیجا جا رہا تھا وہ منشیات فروشوں کو منتقل ہو رہا تھا اور نام پاکستان کا بدنام ہو رہا تھا-

Talibanmoney laundring

برطانیہ کی اس درجہ خوشحالی پاکستان اور افغانستان میں جرائم

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار جدید ٹیکنالوجی کو دفاتر میں استعمال کرتے اور چرس پیتے، کیمرے گھما گھما کرمناظر چیک کرتے، اہم شخصیات ان کا فوکس تھا، باہر دنیا کو کیا عذاب بھگتنا پڑ رہا ہے، انہیں زیادہ جاننے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہاں کی عدالتیں صرف ثبوت پر چلتی تھیں اور ہوائی جرائم کو پکڑنا ناممکن تھا۔ برطانیہ کی اس درجہ خوشحالی ہی پاکستان اور افغانستان میں جرائم کی بڑی وجہ بنتی جا رہی تھی۔
ایک اچھے خاصے افغان کا والد افغانستان میں افیون کا زمیندار تھا۔ وہ اس کی فروخت کیلئے بہترین گاڑیاں خریدتے تھے جس کیلئے انہیں سرمایا درکار تھا اوروہ ان کی اولاد انہیں مہیا کر رہی تھی۔افغانستان کی نئی نسل برطانیہ کو کندھا بنا کر اپنی بندوق چلا رہی تھی۔

crydon street London

محسن خان سے 909 نے 15 منٹ میں اپنائیت کا رشتہ کھڑا کر لیا

909 کرائیڈن پہنچ گیا بینک سے معلومات پر پتہ چلا کہ پروموٹر آفیسر کا نام محسن خان ہے اور وہ لنچ پر باہر گیا ہے، 909 نے اس کی طبیعت جانتے ہوئے اس دکان کا رخ کیا جہاں وہ موجود ہو سکتا تھا، وہ اس علاقے سے انتہائی واقف تھا۔ محسن خان اسے نظر آ گیا، 909 جانتا تھا کہ وہ بینک کے لباس میں ہی ہو گا اور بینک کا بیج بھی اس نے لگایا ہو گا- یہی کچھ ہوا، محسن خان پکڑا گیا تھا، 909 نے اسے صرف پندرہ منٹ صرف کئے اور اپنائیت کا رشتہ کھڑا کر لیا-

مزید پڑھیں : افغان جنگ، رائل آرمی اور “جو” کی ڈیٹ پر آمادگی

محسن کی ایک دوست بھی تھی جو انڈین تھی، اسکی عمر لگ بھگ 32 سال تھی، اس کا نام سشما تھا وہ نیپالین نژاد تھی، وہ پیزا ہٹ میں ملازمہ اور ڈش واشر تھی، یہ سب اس کی پلاننگ تھی کہ کس طرح لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا جا سکتا ہے، وہ چھٹیوں کے ویزہ پر برطانیہ آئی تھی، اس کیٹیگری میں اسے مخصوص عرصے کیلئے کام کرنے کی سہولیت مہیا تھی، بھارت اس کیٹیگری میں ’’را‘‘ کی متعدد لڑکیوں کو برطانیہ بجھوا چکا تھا، 909 اس حوالے سے کام کرکے اپنی رپورٹ پہلے ہی فائنل کر چکا تھا،
اس مرتبہ اس کا پالا ایک منجھی ہوئی بھارتی لڑکی سے پڑا تھا جو پاکستانیوں کو ہٹ کرتی تھی کیونکہ وہ شراب نوشی اور لڑکی کو بری نظر سے دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے اور شیلٹر کا بہترین ذریعہ بھی تھے۔ “را” ایجنٹ سشما

RAWhome office UK

کابل میں بھارتی سفارتخانہ انتہائی طاقتور، ایران انڈیا کا سیکنڈ نیٹ ورک

’’را‘‘ نے اپنی کام کی لڑکیوں کو واپس ہی نہ آنے دیا اور انہیں وہاں غیر قانونی حیثیت سے رہنے کا ہی پابند کر دیا تھا، ایک وقت آنا تھا کہ انہیں برطانوی شہریت مل جانی تھی۔ دوسری جانب کابل میں بھارتی سفارتخانہ انتہائی طاقت حاصل کرتا جا رہا تھا، وہاں مقیم بھارتی افسران کو ایک ہی ٹارگٹ دیا جا رہا تھا کہ کس طرح بیرون ملک سے ہنڈی کے ذریعے آنیوالے پیسوں کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پھینکنا ہے، روابط استوار کرنے ہیں، بس۔ غیر قانونی رقم تہران کے ذریعے بھی پاکستانی حدود میں اژدھے کی صورت کوئٹہ کے راستے داخل ہو رہی تھی، یہ بھارت کا سیکنڈ نیٹ ورک تھا-

پاکستانی وافغانی لارڈز دولت میں کھیل رہے تھے

بھارت پاکستان کو چاروں جانب سے گھیرے میں لے رہا تھا، پاکستانی فوج کو مسلسل آگاہی مل رہی تھی لیکن وہ ابھی صرف رپورٹس اکٹھی کرنے پر ہی اکتفا کر رہی تھی عملی طور پر کچھ بھی کرنیکی پوزیشن میں نہیں تھی کیونکہ امریکہ ایک ہی تسلی دیتا چلا آ رہا تھا کہ وہ سب معاملات خود ہینڈل کر رہا ہے، کسی طور بھی مداخلت کرنا درست نہیں، اندر ہی اندر لاوا تیار ہو رہا تھا، اس کی آگ میں سب آنیوالے تھے۔ پاکستانی وافغانی لارڈز دولت میں کھیل رہے تھے،امریکہ، برطانیہ، فرانس ان کا ذریعہ معاش بن چکے تھے۔ “را” ایجنٹ سشما

رابعہ کا اچانک فون اور 909 کی پریشانی

محسن خان سے مختصر ملاقات کے بعد 909 گھر واپس آ گیا، اس نے سپلف سلگایا اور دودھ گرم کرنا شروع کر دیا، دودھ پینے کے بعد اس نے صورتحال کو اپنے اندازمیں لکھ کر اپنوں کو عارضی تکمیل کی رپورٹ کر دی اور پھر سونے کی تیاری کرنے لگا لیکن ابھی کہاں؟ اچانک رابعہ کا فون آ گیا، وہ تازہ تازہ ہسپتال کی یاترا کرکے آ رہی تھی- اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی جس کے سبب اسے ہسپتال جانا پڑا-
ڈاکٹرز کے مطابق اسکا پیٹ خراب ہو گیا تھا اور اسے شدید تکلیف تھی، دوائی لینے سے فرق پڑ چکا تھا، وہ ہاسٹل واپس آ چکی تھی، اس نے ایک ہی سانس میں 909 کو تفصیلات بتا دیں اور استفسار کیا کہ وہ کہاں ہے؟909 نے جواب دینے کی بجائے رابعہ سے پوچھا کہ اسے کس قسم کی مدد چاہئے وہ اس کیلئے تیار تھا- “را” ایجنٹ سشما

rabia in car with 909909 calling rabia

فرمائش سُن کر 909 سٹپٹا گیا

رابعہ نے فرمائش بتا کر اس کی ٹانگیں ہی اٹھا دی تھیں، وہ بولی ’’تم جہاں بھی ہو فوراً پہنچو، میں نے پیکنگ کر لی ہے، مجھے واپس لندن پہنچنا ہے، میں آج رات اپنے بیڈ پر سونا چاہتی ہوں،بس۔‘‘ 909 نے بتایا کہ اسے پہنچتے پہنچتے دو یا تین گھنٹے لگ جائیں گے، رابعہ نے یہ سنا تو سناٹے میں آ گئی اور بولی ’’سچ بتائو تم کہاں ہو؟‘‘ 909 نے فوراً جواب دیا ’’ تمھارے دل میں‘‘ رابعہ غصے سے بولی’’ Just shut up‘‘ –
نائن زیرو نائن نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ جنتی جلدی ممکن ہوا ڈلیوری آرڈر مکمل ہوتے ہی پہنچ جائے گا اور وہ اس کے قریب ہی موجود ہے، رابعہ کو یقین آ گیا اور بولی ’’بس، تین گھنٹے سے ایک منٹ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا- “را” ایجنٹ سشما

agent909-car-drive-jtnonline

رابعہ کے 909 کیلئے نکما، نکھٹو، جھوٹا اور ایسے بہت سے اعزازت

نائن زیرو نائن(909) اس سے بات چیت کے دوران ہی اپنی گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا لیکن اس مرتبہ اس کے نیچے بڑی جیپ تھی، یہ شہزاد کی گاڑی تھی وہ بس پر دفتر آتا جاتا تھا، گاڑی گیراج میں ہی کھڑی رہتی تھی، 909 نے سلف مارا اور سفر شروع کر دیا، وہ انتہائی مختصر راستوں سے ہوتا ہوا انتہائی تیز رفتاری کیساتھ سٹرلنگ پہنچ گیا، اسے وہاں پہنچنے میں چار گھنٹے لگے تھے، رابعہ فون پر فون کر رہی تھی، 909 اسے کبھی کہتا 15 منٹ اور کبھی کہتا کھڑکی سے نیچے دیکھو، جس پر وہ ہنستی اور ناراض ہو جاتی، وہ 909 کو اس دوران نکھٹو، نکما، جھوٹااور بہت سے اعزازات سے نواز چکی تھی-
آخر کار 909 اس کے پاس پہنچ ہی گیا۔ رابعہ غصے سے اسے دیکھتی گاڑی کی طرف بڑھتی چلی آ رہی تھی، اس کے ہاتھ میں کپڑوں کا بھاری بیگ تھا۔ 909 فوراً باہر نکلا اور اس کی جانب مسکراتے ہوئے بڑھنے لگا ۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply