رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور ،لاہور رہائیکورٹ نے رہائی کا حکم دے دیا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس چودھری مشتاق احمد نے منشیات کیس میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدرکے

رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10،10لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا

ہے۔فاضل جج نے پیر کے روز اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز سنا دیا گیا۔رانا ثناء اللہ کو یکم جولائی کو اینٹی نارکوٹکس

فورس نے گرفتار کیا تھا،رانا ثناء اللہ کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں حکومت پر تنقیدکرنے پرانتقام کا نشانہ بنایا

گیا،رانا ثنائاللہ کوحکومت کی جانب سے دی گئی سکیورٹی وقوعہ سے تیرہ روز قبل واپس لے لی گئی،رانا ثنااللہ سے منشیات برآمدگی

کے وقت کی کوئی ویڈیو یا تصویر موجود نہیں،رانا ثناء اللہ کی اے این ایف کے تھانے میں سلاخوں کے پیچھے گرفتاری کی تصویر

جاری کی گئی،دعوے کے برعکس رانا ثناء اللہ کی مال مقدمہ کے ساتھ تصویر جاری نہیں کی گئی،ساڑھے اکیس کلو وزنی سوٹ کیس

راناثناء اللہ سے برآمد کرنے کاالزام لگایا گیا،قانون کے برعکس موقع پرتعین نہیں کیا گیا کہ سوٹ کیس میں کیا تھا،گرفتاری کے وقت قبضے

میں لی گئی چیزوں کو موقع پر میمو میں درج نہیں کیاگیا،جائے وقوعہ پرنقشہ بنانے کی بجائے اگلے دن نقشہ بنایا گیا جو الزامات

کومشکوک ثابت کرتا ہے، ایف آئی آر میں 21 کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کا لکھا گیا جبکہ بعد میں اسکا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا، رانا

ثناء اللہ نے وقوعہ سے قبل ہی گرفتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا پھربے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا، عدالت کو بتایا گیاکہ سیف سٹی

اتھارٹی کی فوٹیجز ملنے کے بعد رانا ثناء اللہ نے اپنی پہلی درخواست ضمانت واپس لے لی تھی کیونکہ، فوٹیجز کی صورت میںضمانت کی

نئی گرائونڈ بن گئی تھی ، سیف سٹی کی فوٹیجزسے اے این ایف کا موقف جھوٹاثابت ہوتا ہے۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے

مطابق اے این ایف تھانہ سے 22 کلو میٹر دور روای ٹول پلازہ پر رانا ثناء اللہ کو روکا گیا، ان کی گاڑی میں ڈرائیور عامر رستم اور فرنٹ

سیٹ پر عامر فاروق موجود تھے، ملزم عثمان احمد، محمد اکرم، سبطین ڈبل کیبن ڈالے میں موجود تھے، اے این ایف حکام ایف آئی آر کے

مطابق سوا 4 بجے تھانے پہنچے، سیف سٹی کی فوٹیج اس بات کی تردید کرتی ہے،راناثناء اللہ کے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا

کہ ایف آئی آر کے مطابق ہیروئن موقع پر برآمد نہیں کی گئی بلکہ تھانے میں جا کر ملزمان کے سامنے سوٹ کیس سے ہیروئن نکالی

گئی،رانا ثناء اللہ کے وکیل کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ حامد میر، اعزاز سید اور حسن نثار نے اپنے کالموں میں ساری کہانی بتائی

ہے، ان تمام صحافیوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے اگر ضرورت ہوئی تو وہ گواہی کیلئے عدالت میں پیش ہوں گے، عدالت میں رانا ثناء

اللہ کے وکلاء نے یہ نکتہ بھی اٹھایا اس ایف آئی آر کے دیگر ملزموں پر منشیات کا الزام ہی نہیں ہے ،ان کی ٹرائل کورٹ سے ضمانت ہو

چکی ہے، منشیات برآمدگی کا الزام صرف رانا ثناء اللہ پر لگایا گیا جس سے تمام وقوعہ ہی مشکوک ثابت ہوتا ہے۔عدالت نے راناثناء اللہ کے

وکلاء کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ رانا ثناء اللہ نے ٹرائل کورٹ سے درخواست ضمانت مسترد

ہونے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔دوسری طرف درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعد ان کے داماد اور خاندان کے دیگر افراد نے

کمرہ عدالت کے باہرسجدہ شکر ادا کیا، اس موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راناثنائاللہ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ اللہ نے سرخرو کیا ، جس پر

ہم اس کاشکر ادا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ چھ ماہ تک رانا ثنااللہ بے گناہ اندر رہے اس کا جواب کون دے گا۔علاوہ ازیں رانا ثناء اللہ کی

فیملی کے منجمد بنک اکائونٹس کھولنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی، انسداد منشیات کی خصوصی عدالت 4 جنوری کو

رانا ثناء اللہ کی فیملی کی درخواست پر سماعت کریگی ۔دریں اثنا عدالت میں مچلکے جمع کرانے اور روبکار میں تاخیر کے باعث راناثنا

ء اللہ منگل کے روز رہا نہ ہو سکے ، ان کی آج رہائی کا امکان ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply