USA Ambassador Robin Raphel

عمران خان کا پیغام واضح، امریکہ کو توجہ دینا ہوگی، رابن رافیل

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) رابن رافیل

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے جنرل اسمبلی سے خطابات کے بعد

امریکی میڈیا، سیاسی لیڈ رز اور ماہرین کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق

امریکی سفارتکار رابن رافیل نے اپنے جائزہ میں بیان کیا کہ وزیراعظم عمران

خان نے اپنے چارنکات کے ذریعے جو پیغام دیا وہ بالکل واضح ہے اور انہو ں

نے یہ منطقی نکتہ بتایا کہ چونکہ اقوام متحدہ کشمیر کے معا ملے میں تاریخی

طور پر ملوث رہا ہے اسلئے اس کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ یہ ایک

بین الاقوامی معاملہ ہے، رابن رافیل کا جنوبی ایشیاء سے گہرا رشتہ ہے جن کے

شوہر رافیل پاکستان میں امریکی سفیر تھے اور بدقسمتی سے طیارے کے حادثے

میں سابق صدر ضیاء الحق کے ہمراہ ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے عالمی براد ر

ی پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر توجہ دے کیونکہ عالمی امن کے قیام

کیلئے اس کا حل بہت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ پاکستان اور

بھارت کے درمیا ن پہلے بھی جنگوں کا باعث رہا ہے جو اس وقت جوہری طاقتیں

بن چکی ہیں۔ ان ممالک میں کشیدگی واقعی عالمی برادری اور یقیناً امریکہ کیلئے

تشویش کا باعث ہے،

یہ بھی پڑھیں: کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں، شیلا جیکسن

رابن رافیل نے مزید کہا کشمیر کا ذکر کر تے ہوئے گو عمران خان جذباتی ہو گئے

تھے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے آئین کی شق 370

کو منسوخ کر نے سے پہلے پوری طرح اس کے نتائج پر غور نہیں کیا تھا اور

اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا اتنا ردعمل ہو گا کہ کشمیریوں کو پکڑ دھکڑ کر کے

ان کے گھروں میں بند کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: عالمی برادری کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے، برطانوی ویورپی یونین سیاستدان

ادھر سی این این ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا وزیراعظم عمران خان کا

خطاب بہت جذباتی تھا جنہوں نے کشمیر پر بھارت کے کریک ڈائون کی شدید الفاظ

میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتیجہ میں مسلم اکثریت کی اس ریاست

میں بالآخر بہت خونریزی ہو گی۔ انہوں نے عالمی لیڈروں کو بتایا کہ کشمیری

شہریوں پر کرفیو نافذ کر کے ان کی قیادت کو نظر بند کر کے اور ان پر اتنا دبائو

ڈال کر دراصل بھارت ان کشمیریوں کو جواباً متشدد رویہ اختیار کرنے پر مجبور

کر رہا ہے۔ سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت دنیا کو باور کرانے کی

کوشش کر رہا ہے کہ ریاست میں بدامنی معمولی نوعیت کی ہے، زندگی معمول

کے مطابق واپس آ رہی ہے، پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے خطابات

کے عرصے میں اقوام متحدہ کی عمارت سے فاصلے پر مظاہرین کو رکاوٹوں کے

ذریعے روکا گیا تھا جن میں مسلمان، عیسائی اور سکھ برادری کے ارکان شامل

تھے جو کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

سی این این کی نشریات میں بتایا گیا کہ مودی کی ہندو قوم پرست حکومت پر الزام

ہے کہ وہ ہندو مفادات کو فروغ دے رہی ہے اور مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے

حقوق پامال کر رہی ہے جن میں جموں و کشمیر کے علاوہ آسام کی ریاستیں شامل

ہیں جہاں بیس لاکھ مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں عمران خان کی تقریر کا وہ حصہ اجاگر کیا

جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ کشمیر میں کرفیو اور دبائو کے نتیجے میں

ردعمل کے طور پر خونریزی ہو سکتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے وزیراعظم عمران

خان نے اپنی تقریر میں جذوی طور پر بھارت کو کشمیر کے معاملے پر اپنی تنقید

کا نشانہ بنایا جبکہ وزیراعظم مودی نے جان بوجھ کر کشمیر کا ذکر کرنے سے

احتراز کیا۔

رابن رافیل

Leave a Reply