رابعہ بہک گئی، حجاب دیکھ کر سکاٹش انتہا پسندوں کا حملہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفر کے دوران رابعہ نے 909 سے اس کی کتابوں کی کولیکشن کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا، 909 نے اسے بتایا کہ وہ تمام مذہبی، سیاحتی، ثقافتی معلومات والی کتابیں شوق سے پڑھتا ہے- اس نے رابعہ کے استفسار پر کافی نپے تلے لفظوں میں ”کاما سوترا“ کتاب کے بارے میں بتانا شروع کر دیا،

یہ ہے سننے اور پڑھنے کا طریقہ

اس نے جان بوجھ کر جسمانی حرکات والے فقروں کو زور دے کر اس کے آگے بیان کیا کہ رابعہ کو جھرجھری سی محسوس ہوئی اور وہ یکدم بولی اتنا ہی کافی ہے، اسے مزید نہیں سننا۔ 909 خاموش ہو گیا، تھوڑی دیر توقف کے بعد بولا ”رابعہ دیکھو! ہر شے کو ایک بار سنو، پھر مستقبل میں اس کی ضرورت نہیں رہے گی، وہ شے بھول جائے گی، کہیں دماغ میں محفوظ ہو گی، بات سامنے آنے پر خود بخود یاد آجائے گی، یہ ہے سننے اور پڑھنے کا طریقہ، ویسے بھی سننے، دیکھنے، چکھنے اور سونگھنے میں ایک مرتبہ کا عمل دخل ہی کافی ہے-

قادیانیوں کا فروغ مذہب کیلئے دوشیزاؤں کا استعمال، 909، رابعہ اور فائزہ (قسط 17)

دوسری مرتبہ یہ نفس کی خواہش ہوتی ہے جسے تم مارنے پر تلی ہو اور تم اپنے اس فعل سے خوش بھی ہو- مجھے معلوم ہے۔ رابعہ خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی، اسی دوران راستے میں ایک کیفے آ گیا، 909 نے گاڑی پارک کی اوررابعہ سے درخواست کی کہ وہ اس کے ساتھ اندر آجائے۔ رابعہ اس کے پیچھے پیچھے آنے لگی، دونوں نے ملک کافی پینے پر اکتفا کیا۔

ڈاکو منٹری – – – – – کافی کا ایک بڑا گھونٹ

رابعہ نے بھی 909 سے درخواست کی کافی گاڑی میں بیٹھ کر پی جائے، اور گپ شپ لگائی جائے۔ 909 کے پیسے نکالنے سے پہلے ہی رابعہ نے بل ادا کر دیا اور دونوں کیفے سے باہر آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ رابعہ ٹھنڈ محسوس کر رہی تھی 909 نے گاڑی کا ہیٹر آن کر دیا۔ اس نے مغل بادشاہ شاہ جہان کے بارے میں پوچھا کہ اس کی کتاب کے بارے میں بتائے۔

رابعہ دلچسپی سے دستاویزی فلم دیکھنے لگی

جس پر 909 نے گاڑی میں نصب ایل سی ڈی آن کی، پھر ایک ڈسک نکال کراسے سسٹم میں داخل کیا تو سکرین پر شالامار باغ لاہور کی عمارت عیاں ہو گئی، اس کے ساتھ ساتھ انگریزی میں ڈاکو منٹری۔ رابعہ دلچسپی سے دستاویزی فلم دیکھنے لگی، شالامار باغ کے ہر حصے کی منطق کے بارے میں بتایا جا رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ بادشاہ اور رانی کے روپ میں پکچرائزیشن بھی تھی۔ رابعہ نے یکدم آنکھیں پھیر لیں تو 909 نے بھی سکرین آف کرکے ڈسک واپس کیس میں رکھ دی۔ اس نے رابعہ سے کہا زبانی سنو گی، تو وہ فوراً بولی ” ہاں زبانی سناﺅ“ اس کے ساتھ ہی اس نے کافی کا ایک بڑا گھونٹ اپنے اندر اتارا۔

” سوان بھدون “ شاہجہان اور ملکہ کے نہانے کا مقام

909 بولا ”میں اس ڈاکومنٹری سے بھی بہت زیادہ کچھ جانتا ہوں جو اس میں نہیں بتایا گیا، دراصل یہ ایک ازدواجی جوڑے کا اندرونی معاملہ ہے کیونکہ اس وقت یہ عمارت شاہ جہان کی ملکیت تھی، یہ اس کا گھر تھا، اس نے خالص اپنی فیملی کیلئے اسے بنایا تھا، باغ کے دوسرے حصے میں جہاں خالص ماربل کا تخت موجود ہے اور جالیوں کے نیچے اور اوپر سے فوارے چھوٹتے ہیں اس حصے کو” سوان بھدون “ کا نام دیا گیا ہے، یہ حصہ یوں سمجھ لو کہ اس کا باتھ روم تھا جہاں وہ اور اس کی بیگم نہاتے تھے۔ جالیوں کے نیچے سے فورارے کا پانی برہنہ جسم پر پڑے تو طبعیت میں نزاکت ابھرتی ہے،

پنکھڑیاں گرتی جاتیں، وہ چلتی جاتی

شاہ جہان کو اس قسم کے بے شمار قدرتی طریقے بھاتے تھے، وہ زندگی بھر اپنی زوجہ کو نظروں میں اتارتا رہا، باغ کی راہداریوں پر بس اسی کو چلنے کی اجازت تھی، پھلوں سے لدے جسم سے پنکھڑیاں گرتی جاتیں، وہ چلتی جاتی، نیچے اور نیچے کی جانب، یہاں تک کہ باغ کا آخری حصہ نمودار ہوتا ، یہاں تک کے جسم سے تمام پنکھڑیاں چلنے کی دھمک سے گر جاتیں، یہ وہ مقام ہوتا جہاں کسی پہرے دار کی نظریں نہ جا سکتی تھیں اورشاہ جہان پھلوں کی مہک کے پیچھے پیچھے ہو لیتا۔

پڑھیں : برٹش بورن ’’رجو‘‘ کی کہانی 909 کی زبانی

یکدم جیسے رابعہ سن ہو گئی، اس نے اپنے ہاتھ کی گھڑی پر وقت دیکھا اور بولی، اب چلنا چاہئے، بچے آنے والے ہوں گے۔ 909 نے کافی ختم کی، کپ باہر پھینکا جبکہ رابعہ گاڑی سے باہر نکلی اس نے 909 کا پھینکا ہوا کپ بھی اٹھایا اور ڈسٹ بن میں پھینک کر واپس گاڑی میں آ گئی۔ 909 نے اپنی اس حرکت پر اسے سوری بولا تو اس نے جواب میں صرف کندھے اچکائے۔ دونوں واپسی کے راستے پر چل دئے ،909 نے رابعہ کو ہاسٹل ڈراپ کیا اوروہاں سے نکل پڑا۔

ہملٹن کی سیر

اگلی صبح ٹھیک 9 بجے وہ پھر ہاسٹل کے استقبالیہ پر موجود تھا، اس نے کریڈل اٹھا کر رابعہ کے کمرے کا نمبر ملایا تو اس نے پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا اور بولی، مجھے معلوم ہے تم آ گئے ہو، میں نیچے آ رہی ہوں۔ کچھ لمحوں بعد رابعہ نیچے آ گئی وہ انتہائی پُر کشش دکھائی دے رہی تھی، وہ آج بھی حجاب اوڑھے تھی، دونوں نے ایک دوسرے سے ہیلو ہائے کیا اور چل پڑے، رابعہ بولی آج کہاں لے جاﺅ گے، 909 نے کہا ”آج ہم ہملٹن سیر کرنے جا رہے ہیں“۔ ہملٹن انتہائی خوبصورت قصبہ تھا۔ 909 نے گاڑی کو نیوی گیشن پر شارٹ روٹ کی بجائے لانگ روٹ کی آپشن دی۔

پڑھیں : رائی گیٹ ایونیو، سکنک اورمائیکل کی گرل فرینڈ شیلے

رابعہ ضرورت سے زیادہ چہک رہی تھی، وہ انسانی حقوق اور اقلیتوں پر تشدد کے حوالے سے اپنا موقف پیش کر رہی تھی، اس کا اشارہ قادیانیوں پر پاکستان میں ہونے والی نا انصافیوں کی جانب تھا۔ 909 اسے یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ اسے جو پڑھایا گیا یا بتایا گیا ہے وہ حقیقت کم اور جھوٹ زیادہ ہے البتہ وہ اس کی بحث سنتا رہا اور زور دے کر تائید بھی کرتا رہا۔ اسی دوران راﺅنڈ اباﺅٹ پر مڑتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ کم ہوئی تو کسی نے شراب کی خالی بوتل گاڑی پر دے ماری،

آوارہ نوجوانوں کا ٹولہ

یہ آوارہ نوجوانوں کا ٹولہ تھا جو صبح صبح ہی نشے میں دھت تھا، انہیں شاید گاڑی میں رابعہ کو حجاب میں دیکھ کر اچھا نہیں لگا۔ 909 نے فوراً گاڑی کی سپیڈ بڑھالی، اس سے پہلے کہ رابعہ پولیس کو کال ملاتی 909 نے اسے ایسا کچھ کرنے سے منع کر دیا۔

مجھے اسی وقت واپس ہاسٹل جانا ہے

رابعہ کافی سہم گئی تھی، 909 نے رابعہ سے پرسکون رہنے کی درخواست کی، اسے شاید بات سمجھ میں نہ آئی اور اس نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا کہ اسے ابھی اسی وقت واپس ہاسٹل جانا ہے۔ 909 نے کہا کہ آگے شاپنگ مال ہے وہاں چلتے ہیں، ڈرنے کی ضرورت نہیں ایسا ہوتا رہتا ہے، تھوڑی دیر بعد وہ شاپنگ مال میں موجود تھے-

دونوں شاپنگ مال کے ایک سینما میں جا بیٹھے

وہاں سے رابعہ نے کچھ خریداری کی، مقامی لوگوں کی سہولت کی خاطر دن میں ہی سینما سکرین پر موویز چل رہی تھیں، 909 کے بے حد اصرار پر رابعہ مان گئی اور وہ دونوں شاپنگ مال کے ایک سینما میں جا بیٹھے، فلم چالو ہو چکی تھی، سینما میں بہت کم افراد موجود تھے، ایک بھی نوجوان دکھائی نہ دیا۔ رابعہ اور 909 بھی ایک رو میں بیٹھ گئے جہاں کوئی دوسرا نہ تھا۔ دونوں نے انہماک کیساتھ فلم د یکھنا شروع کر دی، خاصی دلچسپ مووی تھی، ایک اٹھارہ سالہ غریب لڑکی کس طرح زندہ رہنے کیلئے سکاٹ لینڈ کی سرد ہواﺅں کا سامنا کرتی ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے۔ مووی کے درمیان کئی بار 909 کا کندھا رابعہ سے مس ہوا، تیسری یا چوتھی مرتبہ اس نے کروٹ نہ بدلی اور دونوں بازو سے بازو ملا کر فلم دیکھنا شروع ہو گئے۔

رابعہ نے 909 کا ہاتھ تھاما اور کندھے کیساتھ سر جما کر بیٹھ گئی

اچانک 909 نے ایک تاریک سین کے دوران اپنی انگلیوں سے یکدم اسے ڈرایا تو اس کی ہلکی سی چیخ سنائی دی اور اس نے 909 کواپنا گلابی سا مکا مار کر خفت مٹائی، اس دوران دونوں کی انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ مس ہوئیں کہ آپس میں مل گئیں۔ 909 نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا- تھوڑی ہی دیر بعد رابعہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے کندھے کیساتھ سر جما کر بیٹھ گئی۔ فلم کے آخر میں لڑکی کو اس کا پیار مل جاتا ہے، دونوں میں ”Loving Kiss“ پر فلم کے اختتام پر فلم بینوں کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔

زبردستی میں تو اپنا ہی مزہ ہے

فلم ختم ہوئی تو دونوں خاموشی سے اپنا سامان وغیرہ اٹھا کر سینما سے باہر آگئے اور گاڑی میں بیٹھ کر نامعلوم منزل کی جانب چل دئے۔ 909 نے رابعہ سے کہا ” کیا ہی اچھا ہو تا اس سکاٹش لڑکی کی جگہ تم ہوتی اور میں ہیرو، تو کتنا مزہ آتا“۔ رابعہ کھلکھلا کر ہنسی اور کہا ”اگر تم ہوتے تو تمھیں آخر میں وہ محبت بھرا بوسہ کبھی نہ ملتا“ 909 نے ہنستے ہوئے کہا ”میں زبردستی لے لیتا، زبردستی میں تو اپنا ہی مزہ ہے“ یہ کہہ کر 909 اپنا چہرہ رابعہ کے قریب لے گیا، اس کے سینے کی دھڑکن اچانک تیز، آنکھیں نم اور ناک شرم سے سرخ ہو گئی-

تم گاڑی چلا رہے ہو، سامنے دیکھو

وہ ذرا بھی نہ کسمسائی، بس اتنا بولی، تم گاڑی چلا رہے ہو، سامنے دیکھو۔ 909 نے گاڑی سائیڈ پر ایک درخت کے پاس روک لی، چاروں طرف ہو کا عالم تھا، اس نے رابعہ کے گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ گاڑ دئے، رابعہ نے ذرا بھی گرمجوشی نہ دکھائی اور وہ جامد ہی رہی، 909 نے ہاتھ بڑھا کر اس کا حجاب اتار دیا-

– – – – – – یہ گناہ ہے

گھنگھریلے، ہلکے سنہری بال دن کے اجالے کی طرح پھیل گئے، رابعہ اچانک سمٹ کر بیٹھ گئی اور چہرہ گاڑی کی کھڑکی کی جانب کرکے باہر جھانکنے لگی، 909 نے پاور ونڈو کا بٹن دبایا تو اس کی جانب کا شیشہ نیچے کو سرک گیا، تیز اورٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے بالوں کو چیرتا ہوا اندر داخل ہوا، 909 نے رابعہ کا ہاتھ تھام لیا اور بولا” زندگی کو اپنی مرضی سے جینے کا ڈھنگ سیکھو، کبھی تو اپنی مرضی کر لو، اسطرح کیوں سسک سسک کر خود کو برباد کر رہی ہو۔“ رابعہ بولی ” یہ گناہ ہے“ 909 نے فوراً کہا ” یہ اعتماد ہے، ہم دونوں کا ایک دوسرے پر، کیا تم اپنی زندگی کے چند حسین لمحات میرے نام نہیں کر سکتی “ رابعہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

909 اور رابعہ کافی دیر درخت کے ساتھ کھڑے ایک دوسرے سے سیراب ہوتے رہے

اچانک 909 گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا اور پھر رابعہ کی جانب گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کا بازو تھاما اور اسے زبردستی گاڑی سے باہر نکال کر قریب درخت کے پاس لے گیا۔ اس نے رابعہ کو درخت کے ساتھ لگا دیا اور اس کے وجود کی خوشبو کی سونگھنے لگا، رابعہ بے بس ہوتی چلی جا رہی تھی، اچانک اس نے بھی گرمجوشی دکھانا شروع کر دی، دونوں کافی دیر تک کھڑے کھڑے سیراب ہوتے رہے، رابعہ کا جسم اچانک ڈھل گیا اور وہ اپنا آپ چھڑا کر گاڑی میں جا بیٹھی، 909 نے بھی ایسا ہی کیا، رابعہ اپنی سیٹ پر ڈھیر ہو چکی تھی لیکن وہ انتہائی ڈسٹرب تھی، 909 نے آگے بڑھ کراس کی سیٹ کا ہینڈل اوپر کو اٹھایا تو وہ پیچھے کو لڑھک گئی۔ اس نے دیکھا کہ رابعہ کی آنکھیں بند تھیں، وہ سیٹ پر دراز تھی۔

رابعہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی

909 نے جیب سے ایک ننھی سی بوتل نکالی، اس کا ڈھکن کھولا اور رابعہ سے کہا کہ وہ اپنا منہ کھولے لیکن آنکھیں بند ہی رکھے، اس نے ہلکا سا منہ کھولا تو 909 نے جلدی سے چند قطرے اس کے منہ میں گرا دئے۔ رابعہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی، قطرے اس کے حلق سے اندر جا چکے تھے۔ وہ بولی ”یہ کیا تھا؟“ 909 نے کہا ” یہ تمھیں ریلیکس کر دیگا ورنہ تمھارا جسم درد کرے گا اور تمھیں بخار ہو سکتا ہے، یہ ٹریٹمنٹ تمھارے لئے ضروری تھا“۔ رابعہ نے محسوس کیا کہ اس کا سر گھومنے لگا ہے، وہ حیرت سے 909 کو دیکھے جا رہی تھی، 909 نے گاڑی کو ایک پلے لینڈ کی جانب موڑ دیا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک پلے لینڈ میں موجود تھے۔

 909 کے بازو میں بازو

اس مرتبہ سین ذرا ہٹ کر تھا، رابعہ نے 909 کے بازو میں بازو ڈال رکھا تھا، دونوں آسمانی جھولے میں بیٹھ گئے، رابعہ نے صورتحال انجوائے کرنا شروع کردی تھی، دونوں نے مل کر خوب انجوائے کیا اور پھر شام ہونے سے قبل ہی 909 نے اسے ہاسٹل پہنچا دیا،اور تاکید کی کہ رات کو سونے سے قبل اسے فون ضرور کرے، کل سکاٹ لینڈ کے مشہور کلب میں انجوائے کرنے چلیں گے۔ رابعہ نے حامی بھری، حجاب کو دوبارہ اپنے سر پر لپیٹا اور گاڑی سے اتر کر ہاسٹل کے اندر چلی گئی —– (جاری) —–

Agent 909 Dr,I.S introduction

Leave a Reply