رابرٹ میولر کی رپورٹ کا متنازعہ خلاصہ، اٹارنی جنرل ولیم برکے گلے کی ہڈی بن گیا

Spread the love

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکہ کے مقامی سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے

کہ اٹارنی جنرل ولیم بر نے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت اور

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی

کوششوں پر تیاری کی گئی رابرٹ میولر کی تحقیقاتی رپورٹ کا مختصر خلاصہ

تیار کرکے صدر ٹرمپ کو بہت ہوشیاری سے بچانے کی کوشش ہے۔ گزشتہ

صدراتی انتخابات میں روس کی مدا خلت اور ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے ساتھ ملی

بھگت کی تفتیش پر مامور حضوصی تفتیش کا ر رابرٹ میولر نے تقریباً دوسال

کے عرصے میں چار سو صفحا ت کی رپورٹ تیار کرکے اٹارنی جنرل ویلم بر کو

پیش کی تھی ۔ انہوں نے اس رپورٹ میں کانگریس کی تفتیش اور انصاف کی راہ

میں رکاوٹ ڈالی تھی یا نہیں کا جائزہ لیا اور صدر ٹرمپ کے تحقیقات پر اثر انداز

ہونے والے مختلف واقعات کی نشان دہی کی تھی اور حتمی نتیجہ اٹارنی جنرل پر

چھوڑ دیا تھا تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ کو بری الذمہ قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن اٹارنی

جنرل نے اپنے خلاصے میں صدر ٹرمپ کو پوری طرح بری الذمہ قرار دے کر

ایک تنازعہ کھڑا کردیا بعد میں اٹارنی جنرل نے 400 صفحات کی رپورٹ کو

اصل شکل میں پبلک کرنے کی بجائے اس کے بعض حصوں کوکاٹ کر کانگریس

کو بھیجا اور خود ہی معاملے کو مشکوک بنا دیا ایوان نمائندگان اور سینٹ کی

متعلقہ کمیٹیوں نے جن میں حکمران ری پبلکن پارٹی کے ارکان بھی شامل تھے

مطالبہ کیا کہ بغیر کانٹ چھانٹ کے مکمل رپورٹ ان کے سامنے پیش کی جائے۔

کانگریس نے اٹارنی جنرل ولیم بر کو شہادت کے لئے طلب بھی کیا لیکن انہوں نے

پیشی سے انکار کردیا۔ ایوان نمائندگان کی ڈیمو کرٹیک سپیکر نینسی پلوسی نے

اٹارنی جنرل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا انہوں نے کانگریس کے سامنے رپورٹ

کے بارے میں جھوٹ بول کر جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ کانگریس کمیٹی نے اٹارنی

جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غلط بیانی پر فوری طور پر اپنے عہدے سے

مستعفی ہو جائے ، ادھر رابرٹ میولر نے اٹارنی جنرل کے نام ایک خط میں انہیں

بتایا ہے کہ انہوں نے رپورٹ کا خلاصہ درست نہیں کیا جس کا بہت حصہ سیاق و

سباق سے ہٹ کر تیار کیا گیا۔

Leave a Reply