دہشتگردی، عالمی برادری اور چیف جسٹس پاکستان کا وژن

Spread the love

(جرنل ٹیلی نیٹ ورک تجزیاتی رپورٹ)

گزشتہ دونوں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک مقدمہ

کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ابہام

ہی ابہام ہے، شور اُٹھنے پر لوگوں کو چُپ کرانے کے لئے مقدمہ فوجی عدالت اور

دہشت گردی عدالت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ عدالت نے دیکھنا یہ ہے کہ دہشت گردی

کے مقدمے میں صلح ہو سکتی ہے یا نہیں،ایسے مقدمات میں صلح نہیں ہوسکتی،

کیونکہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، فریقین کے مابین صلح پر قانون بدلا نہیں جا

سکتا،عدالت کو انسدادِ دہشت گردی قانون کی وسیع تشریح کرنا پڑے گی۔ اقوام

متحدہ ابھی تک دہشت گردی کی تعریف کر سکانہ امریکہ ابھی اس معاملے میں

حتمی فیصلے تک پہنچ سکا، جب کسی معاملے پر میڈیا میں بہت شوراُٹھے تو

مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت بھیج دیا جاتا ہے۔ لگتا ہے یہ کوئی نفسیاتی معاملہ

ہے، خصوصی برتائو کے لئے خصوصی عدالت میں مقدمہ بھیج دیا جاتا ہے ہم

دہشت گردی کی جامع تعریف کا تعین کریں گے، ہر سنگین جرم دہشت گردی نہیں

ہے۔انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں عام مقدمات کا بھی ٹرائل ہو رہا ہے، وقتی

طور پر لوگوں کو خاموش کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے ایسا کیا جاتا

ہے۔طاقت کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں پر ٹھونسنا بھی دہشت گردی ہے۔

فاضل چیف جسٹس نے انہی ریمارکس کے ساتھ مذکورہ مقدمے کا فیصلہ محفوظ

کرتے ہوئے عدالت برخاست کر دی .

عجیب ستم ظریفی ہے جس دہشت گردی نے ایک دُنیا کو تِگنی کا ناچ نچا رکھا ہے

اس کی کوئی وسیع تر تعریف ہی اب تک نہیں کی جا سکی، حتیٰ کہ اقوام متحدہ

بھی کسی جامع تعریف تک نہیں پہنچ سکا،حالانکہ اس نے دہشت گردی روکنے

کے لئے اپنی ذیلی ادارے بنا رکھے ہیں،جو دُنیا بھر میں ایسے اقدامات کرتے

ہیں،جن سے اُن کے بقول دہشت گردی رُکتی ہے۔ دہشت گردی کا سلسلہ منی

لانڈرنگ سے بھی جوڑا جاتا ہے، کیونکہ دُنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گرد

سرگرم عمل ہیں اُن کی یہ سرگرمیاں اسی لئے جاری رہ سکتی ہیں کہ اُن کو پیسے

اور اسلحے کے ذریعے سپورٹ ملتی رہے۔اگر ان دونوں کے سوتے خشک ہو

جائیں یا کر دیئے جائیں تو دہشت گردی جاری نہیں رہ سکتی۔

اقوام متحدہ اپنے اداروں کے ذریعے یہ کوشش کر رہا ہے دہشت گردوں کو ملنے

والے فنڈز کسی نہ کسی طرح روکے جائیں،کیونکہ اسلحہ بھی انہی فنڈز سے

خریدا جاتا ہے،لیکن اپنی اِن کوششوں میں اقوام متحدہ کو بھی کُلّی کامیابی حاصل

نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے دُنیا میں دہشت گردی کی ملتی جلتی وارداتوں کو بھی باہم

تقسیم کر دیا جاتا ہے،کہیں تو یہ ننگی چٹی دہشت گردی ہے اور ایسی ہی وارداتوں

کو کسی کا دِل چاہے تو قتل ِ عام قرار دے دے یا کسی ایسے ذہنی طور پر پسماندہ

شخص کی کارروائی قرار دے دے، جو کسی وجہ سے نفسیاتی دبائو میں ہو۔ایسا

اِس لئے ہے کہ عالمی ڈکشنریوں میںدہشت گردی کی کوئی جامع تعریف نہیں ہے۔

اگر ایسے ہو جائے تو یہ فیصلہ آسان ہو جائے گا کہ کون سی واردات دہشت گردی

ہے اور کون سی قتل ِ عام۔ اس وقت ہوتا یہ ہے کالوں اوررنگ دار نسل کی

کارروائیاں تو سیدھی سیدھی دہشت گردی قرار دی جاتی ہیںجبکہ گوری چمڑی

والوں کو یہ رعایت حاصل ہے کہ اُن کا اقدام محض قتل ِ عام قرار پائے۔البتہ نیوزی

لینڈ میں مسلمانوں کی دو مساجد میں حالیہ دہشت گردی کے بعد وزیراعظم جیسنڈا

آرڈرن نے جس جرأت مندی کے ساتھ اسے دہشت گردی قرار دیا اور مسلمانوں

کے ساتھ کھڑی ہو گئیں اس کا حوصلہ اُن سے پہلے کسی لیڈر کو نہیں ہوا۔

پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ عشروں سے جاری ہے اور بھاری جانی

نقصان اٹھانے کے باوجود سیکیورٹی اداروں نے اس کا قلع قمع کرنے کے لئے

اقدامات کئے،دہشت گردوں کے نیٹ ورک ختم کئے،اُن کی کمین گاہوں کو تباہ

کیا،انہیں ملنے والے فنڈز بھی روکے، پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت

گردی کی ہولناک واردات کے بعد فوجی عدالتیں بھی بنائی گئیں،جہاں سے دہشت

گردوں کو سزائیں ملیں اور اس کے بعد ملک بھر میںدہشت گردوں کے بڑھتے

ہوئے قدم بھی رُک گئے،اب یہ فوجی عدالتیں ختم ہو چکی ہیں اور ان کی دوبارہ

تشکیل کے لئے پارلیمینٹ سے منظوری درکار ہے،دیکھیں اس سلسلے میں بالآخر

کیا طے پاتا ہے،لیکن جنابِ چیف جسٹس نے دہشت گردی کی تعریف کے حوالے

سے جو سوالات اُٹھا دیئے ہیں اُن کا جواب تلاش کرنا اور اس کی تعریف کرنا

وقت کی ضرورت ہے،جس کے بارے میں جنابِ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اِن

شاء اللہ یہ تعریف کر دی جائے گی۔اس کے بعد عدالتوں میں نئی تعریف کی روشنی

میں فیصلے کئے جائیں گے۔

دہشت گردی کی جامع اور وسیع تر تعریف اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کہ

پاکستان کے مخصوص حالات میں انسداد دہشت گردی کے قانون کا غلط استعمال

ہو رہا ہے، قتل یا ہنگامہ آرائی کی کسی عام واردات میں بھی پولیس انسداد دہشت

گردی کی دفعات کا اضافہ کر دیتی ہے۔ دفعہ سیون اے کا اضافہ اگر نیک نیتی اور

قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کیا جائے تو بھی ایک بات ہے، لیکن

دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی مقدمے میں پولیس انسداد دہشت گردی کی دفعہ لگانے کے

لئے بھی جلب زر کا اصول پیش نظر رکھتی ہے، ملزموں کو اس دفعہ سے ڈراکر

پیسہ بٹورا جاتا ہے اور متاثرہ پارٹی سے مل کر اِس بات پر سودے بازی کی جاتی

ہے کہ اگر دہشت گردی کی دفعات لگانی ہیں تو مُک مُکا کیا جائے، گویا ایسے

مقدمات میں فریقین سے یکساں فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ایک کو دہشت گردی کی دفعہ

سے ڈرا کر اور دوسرے کو اس دفعہ کے اطلاق کے فوائد بتا کر۔ بہت سے

مقدمات میں ایسا ہو چکا ہے کہ کسی کے خلاف اگر دہشت گردی کی دفعہ لگائی

گئی تو بعدازاں عدالت نے اس کا اطلاق ختم کر دیا،لیکن اس کام کے لئے وکلاء کو

غیر معمولی محنت کرنا پڑتی ہے، متاثرہ فریق کے وکلاء عدالت میں دلائل دیتے

ہیں کہ کسی خاص مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ کا اطلاق کیوں ضروری ہے،

جبکہ ملزم پارٹی یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی واقعہ سیدھا سادہ جرم تھا یا یہ دہشت

گردی کی تعریف میں آتا ہے۔ جنابِ چیف جسٹس کی سربراہی میں اس سات رکنی

بنچ نے دہشت گردی کی تعریف کا جو عزم صمیم ظاہر کیا ہے اگر ایسا ہو گیا تو یہ

قانون کی حکمرانی کی طرف ایک بڑی جست ہو گی،کیونکہ اس کے بعد پولیس من

مرضی نہیں کر سکے گی اور ملزموں اور متاثرین سے یہ نہیں پوچھ سکے گی کہ

دہشت گردی کی دفعات لگوانی ہیں یا نہیں۔اگرچہ جب یہ قانون بنایا جا رہا تھا اسی

وقت اس میں دہشت گردی کی تعریف کر دی گئی تھی،لیکن بہت سے دوسرے

قوانین کی طرح قانون سازوں نے اس میں بھی سقم اور ابہام چھوڑ دیا ہے اور

قانون سازی کرتے وقت اس کے مسودے پر سنجیدگی اور گہرائی سے غور نہیں

کیا،اب اگر سپریم کورٹ یہ مشکل کام انجام دے دے تو اس کے ذریعے نہ صرف

اندرون ملک مقدمات کے فیصلوں میں سہولت رہے گی،بلکہ اقوام متحدہ جیسے

عالمی اداروں کو بھی سپریم کورٹ کی تعریف سے رہنمائی مل پائے گی ،جو اب

تک اِس معاملے میں تہی دامن ثابت ہوئی ہے اور دہشت گردی ختم کرنے کی

کوششوں میں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں تو ماری جا رہی ہیں، اس کی تعریف پر

توجہ نہیں دی جا رہی۔دُنیا کی مختلف زبانوں میں اس لفظ کی تشریح بھی محض

اجمالی نوعیت کی ہے، جبکہ وقت کا تقاضا اس کی جامع تعریف ہے۔

Leave a Reply