ناراض بلوچوں سے مذاکرات

دو خاندانوں نے ملک کو بے رحمی سے لوٹا ، عمران خان

Spread the love

دو خاندانوں نے ملک

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقت کی حکمرانی کا

مطلب جنگل کا قانون ہے، ایلیٹ کلاس کی چوری ملک تباہ کر دیتی ہے، منی لانڈرنگ براہ راست

کرنسی کو متاثر کرتی ہے، بینظیر اور نوازشریف نے اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی،

دونوں کی کرپشن ختم کرنے کیلئے ہی سیاست میں آیا تھا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو

اکرام سہگل کی کتاب اے پرسنل کرونیکل آف پاکستان کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے

کیا، وزیر اعظم نے کہا کہ اکرام سہگل محب وطن لکھاری ہیں ۔ سارے انکی تصنیفی کاوش کو

سراہتے ہیں، انہوں نے کہا کرپشن کے خلاف جدوجہد کے لئے پاکستان تحریک انصاف کا قیام عمل

میں لایاگیا وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں کسی سیاست دان پرکرپشن کا الزام لگ جائے تواسے

کسی تقریب میں نہیں بلایا جاتا، اگرکرپٹ لوگ ٹی وی چینل پرآجائیں توان کا وہ حال ہوتا ہے

جواسحاق ڈارکا ہوا۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا براہ راست اثر کرنسی پر اثر پڑتا ہے، سارے

غریب ملکوں کا یہی حال ہے، غریبوں ملکوں کی رولنگ ایلیٹ نے ملک کے پیسوں کو لوٹا، جب پر

ویلیج کلاس کو این آر او دیدیں گے تو پھر یہ نظام نہیں چل سکتا۔ طاقت کی حکمرانی کا مطلب جنگل

کا قانون ہے، انسانی معاشرہ تب بنتا ہے جب قانون کی حکمرانی ہو۔عمران خان نے کہا کہ جن

معاشروں میں قانون، انصاف نہ ہو وہاں پر ویلیج کلاس آگے آ جاتی ہے، پٹواریوں کی کرپشن نہیں

رولنگ ایلیٹ کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غریب ملکوں سے

ہر سال ایک ہزار ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ غریب نہیں رولنگ ایلیٹ

کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوپارٹیوں کومیں نے چیلنج کیا تھا، نوازشریف، بے نظیرنے بھی مجھے

پارٹی جوائن کرنے کا کہا تھا، میں توان دوپارٹیوں کوچیلنج کرنے آیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے

کہا کہ بیرون ملک چھٹیاں گزارنے والوں نے ملک کی فکر نہیں کی اور سابقہ حکومتوں نے کبھی

ملک کے بارے میں نہیں سوچا ، پاکستان میں بھی ایک طبقہ ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا

ہے ۔ اوراس ایک خاص طبقے پر جب ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو حکومت کو گرانے کی دھمکی دیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں غریب ممالک اس لئے غریب نہیں ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں حقیقت

میں ہر سا ل ایک ہزار ارب ڈالر کا سرمایہ غریب ملکوں سے چوری ہو کر امیر ملکوں میں جاتا ہے،

کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم اور نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا ہے، دو خاندانوں نے ملک کو

بے رحمی سے لوٹا ،سیاست میں آنے سے قبل ملکی سیاسی نظام کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا ،

سیاست میں آکر میں نے نواز شریف اور آصف زرداری کو چیلنج کیا ، قومیں ہمیشہ ان کویاد رکھتی

ہیں جو قوموں کے لئے کچھ کرنے کا درد رکھتے ہیں ، ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ عزت اﷲ کی

طرف سے ملتی ہے ،ہمارے اسلاف نے انسانیت کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کیا ، وزیر اعظم نے

کہا کہ ملک کی بہتری کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں ۔ صبح اٹھ کر کام پر جاتا ہوں تو لگتا ہے

جہاد پر جا رہا ہوں جب کہ بیرون ملک چھٹیاں گزارنے والوں نے ملک کی فکر نہیں کی اور سابقہ

حکومتوں نے کبھی ملک کے بارے میں نہیں سوچا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلئے سب سے

لازمی انصاف ہے اور جہاں انصاف کا نظام ہو وہاں معاشی اور معاشرتی ترقی ہوتی ہے لوگ

خوشحال ہوتے ہیں ،جب کہ طاقت کی حکمرانی جنگل کا قانون ہوتا ہے اسی لئے قانو ن کی حکمرانی

کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے ۔ ۔نواز شریف اور آصف زرداری پر تنقید کرتے ہوئے انہوں

نے کہا کہ کہتے ہیں کھاتا ہے تولگاتا بھی ہے، کہتے ہیں ایک زرداری سب پربھاری، انہوں نے پیسے

چوری کیے ہیں۔ جب معاشرے میں برائی کوبرا نہ سمجھا جائے توقومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ ، پاکستان

میں اخلاقیات کوتباہ کردیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ اﷲ نے ہمیں زمین پرانصاف کے لیے بھیجا ہے،

طاقتور اورغریب کے لیے الگ، الگ قانون ہو تو قومیں تباہ ہوجاتی ہیں، ایلیٹ کلاس کہتی ہے جو

مرضی کریں ہاتھ نہ ڈالو، ایلیٹ کلاس سمجھتی ہے اگر ہاتھ ڈالو گے توحکومت گرادیں گے۔ان کا کہنا

تھا کہ جس لیڈرکی چھٹیاں، شاپنگ باہر ہو اسے پاکستان کی سیاحت بارے کیا پتا ہو، پاکستان میں کسی

لیڈرنے سیاحت بارے سوچا ہی نہیں تھا، سوئٹرزلینڈ پاکستان کے ناردرن ایریازسے آدھا ملک ہے۔

سوئٹرزلینڈ صرف سیاحت سے 80 ارب ڈالرز کماتا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا

ہے کہ پاکستان کو پولیو کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں،

وائرس سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹا جائے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ورچوئل اجلاس ہوا،

جس میں ملک بھر میں پولیو پر قابو پانے کے لیے چیف سیکریٹریز اور 22 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز

شریک ہوئے۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر شہباز گل اور دیگر حکام

بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ میں ملک بھر

میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، 2021 میں صرف 14 فیصد ماحولیاتی نمونے مثبت پائے

گئے، ان کی تعداد گزشتہ سال 56 فیصد تھی، ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا ایک نادر موقع

ہے، اگلے 6 سے 12 ماہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ وزیر اعظم نے تمام ہائی رسک اضلاع کے

ڈپٹی کمشنرز کو موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہدایت کر دی۔

دو خاندانوں نے ملک

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply