172

دولت مشترکہ کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تحقیقات کا فیصلہ

کمپالا(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) دولت مشترکہ

دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن نے یوگینڈا اجلاس کے دوران مقبوضہ

کشمیر میں محاصرے اور بھارتی مظالم کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا، بھارتی وفد

کی معاملے کو اندرونی مسئلہ قرار دینے کی کوشش ناکام ہو گئی اور سفارتی محاذ

پر بھارت کو ایک اورشکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ فیصلہ بین الصوبائی رابطے کی

وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی قیادت میں پاکستانی مندوبین کی طرف سے ایوان کی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی طرف توجہ مبذول کروانے

کے بعد کیا گیا۔

ایسوسی ایشن نے پاکستان سے یہ کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے

ایک تحریری درخواست جمع کرائے۔ جب بھارت کے مندوب نے مسئلے کو بھارت

کا اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش کی تو رکن ملکوں نے اسے سختی سے

رد کر دیا۔ 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کی جنرل اسمبلی کی صدارت

ریبیکا کداکا یوگینڈا کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس

کے میزبان نے کی۔

دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستانی بین

الصوبائی رابطہ کی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سربراہی میں پاکستانی مندوبین نے

بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اْٹھائی اور مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری

بھارتی ریاستی دہشت گردی، انسانیت سوز مظالم اور 56 دن سے جاری مسلسل

کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے کا ذکر کرتے ہوئے بھارت

کا مکرو چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت مقبوضہ کشمیرمیں پابندیاں ختم کرے، یورپی یونین

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سی پی اے کی جنرل اسمبلی کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے

بتایا کہ مقبوضہ ریاست کے گورنر کی جانب سے برخاستگی کی وجہ سے انڈیا کا

مقبوضہ کشمیر کی مقننہ، جو سی پی اے کی شاخ تھی کو ایسوسی ایشن نے غفلت

کا نشانہ بنایا۔ تاہم سی پی اے نے نہ تو ان وجوہات کی تحقیقات کی اور نہ ہی ان کا

جائزہ لیا جس کے تحت قابض افواج کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بھی

محدود نمائندگی چھین لی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 5 اگست سے مسلسل

کرفیو میں محصور، تمام منتخب نمائندے نظربند اور کشمیری عوام پر ہونیوالے

مظالم کیخلاف کسی بھی قسم کی آواز اْٹھانے سے محروم ہیں۔ خواتین اور بچے

مسلسل بھارتی جارحیت کا سب سے زیادہ شکار ہیں جبکہ دنیا کی تمام جمہوریتں

خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے، یورپی پارلیمینٹ

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا سی پی اے کا مطلب جمہوری حقوق اور اس کی ممبر

شاخوں کے لوگوں کے آزادیوں کا دفاع کر نا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی

اسمبلی کی معطلی اور مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی

اختیار کرنا اس معزز ایوان کی کاروائی پر سوالیہ نشان جنم لے گا۔

وادی کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل، عائشہ غوث پاشا

ڈاکٹر فہمید مرزا کے خطاب کے بعد پاکسانی مندوب ایم این اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے

بھی بھارتی قابض افواج کے ذریعہ مقبوضہ وادی کشمیر کے مسلسل محاصرے پر

شدید اعتراض کرتے ہوئے وادی کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل

قرار دیا۔

دولت مشترکہ

Leave a Reply