دوران تعلیم نقل کرکے 75 فیصد نمبروں سے پاس ہوا تھا.عمران ہاشمی کاانکشاف

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک انٹرویو کے دوران جب عمران ہاشمی سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی انہوں نے اسکول یا کالج کے زمانے میں نقل کی ہے تو اس سوال کے جواب میں عمران ہاشمی نے صاف گوئی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں میں نے ایک بار نقل کی تھی اورامتیازی نمبروں سے پاس ہوگیاتھا۔عمران ہاشمی نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے معاشیات(اکنامکس) کے پیپرز کی بالکل بھی تیاری نہیں کی تھی اورصرف میں نے نہیں امتحانی کمرے میں موجود دیگر طلبا کا بھی یہی حال تھا ممتحن(امتحانی کمرے میں موجود استاد) اس بات سے واقف تھے کہ کسی نے بھی امتحان کی تیاری نہیں کی ہے لہٰذا انہوں نے کہا میں اس کمرے میں 40 منٹ تک ہوں میرے بعد یہاں دوسرا ممتحن آجائے گا اسلئے جو بھی نقل کرنا چاہتا ہے اپنی کتاب کھول کر نقل کرسکتا ہے، اس دن میں نے نقل کی اور 75 فیصد نمبر لے کر پاس ہوا تاہم عمران ہاشمی نے اپنے اس عمل پرفخر کرنے کے بجائے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے آپ کو یہ سب بتاتے ہوئے سخت شرمندگی ہورہی ہے، مجھے معلوم ہے نقل بالکل بھی اچھا عمل نہیں ہے اور میں یہی کہوں گا کہ کسی کو بھی نقل نہیں کرنی چاہئے۔واضح رہے کہ عمران ہاشمی کی فلم ’چیٹ انڈیا‘ بھی تعلیمی نظام میں موجود نقل مافیا کے گرد گھومتی ہے جس نے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ فلم اگلے ماہ 25 جنوری 2019 کو ریلیز کی جائے گی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply