0

دنیا کے پہلے روبوٹ ہوٹل میں ٹھہرے مہمان ملازمین سے تنگ

Spread the love

2015ءمیں جاپان میں دنیا کا پہلا ہوٹل قائم کیا گیا جس کا تمام عملہ روبوٹس پر مشتمل تھا لیکن اب یہاں روبوٹس کی تعداد کم کرکے انسان ملازمین کو بھی کام پر رکھ لیا گیا ہے جس کی وجہ ایسی ہے کہ سن کر آپ کو ہنسی آ جائے گی۔ دی مرر کے مطابق اس ہوٹل کا نام ’ہین نا ہوٹل‘ (Henn-na Hotel)ہے جہاں 243روبوٹس کو مہمانوں کی خدمت پر مامور کیا گیا تھا لیکن یہ روبوٹس ہوٹل میں ٹھہرنے والے لوگوں کو اس قدر تنگ کرتے تھے اب ان کی تعداد آدھی کر دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مہمان اکثر شکایت کرتے تھے یہ روبوٹ اپنے کمرے میں سونے والے افراد کے خراٹوں کو بھی کمانڈ سمجھتے تھے اور آ کر انہیں جگا دیتے تھے۔ روبوٹس کی اس حرکت کی وجہ سے خراٹے لینے والا کوئی بھی شخص اس ہوٹل میں سو نہیں سکتا تھا۔کمروں میں موجود معاون روبوٹس ہیٹ کم یا زیادہ کرنے جیسے چند بنیادی کام ہی کر پاتے تھے، ان کے علاوہ مہمان انہیں کوئی کام کرتے تو وہ کچھ الٹ ہی کر دیتے تھے۔ اس کے علاوہ استقبالیہ پر موجود روبوٹ لڑکی آنےوالے لوگوں کے بنیادی سوالات کے بھی جواب نہیں دے پاتی تھی۔ وہ سوال کچھ پوچھتے اور جواب کچھ اور ملتا تھا۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ یہ روبوٹس اکثر خراب ہوتے رہتے تھے اوران کی مرمت کےلئے درجنوں لوگ رکھے گئے تھے۔روبوٹس کی تعداد کم ہونے پر اور انسان ملازمین کو بھرتی کرنے کے بعد روبوٹس کی مرمت کرنے والے ان افراد کا کہنا ہے ”اب ہمیں کچھ سکون کا سانس ملا ہے، ورنہ پہلے تو ہر وقت ہمیں روبوٹس کی خرابی کی کالز آتی رہتی تھیں اور ہم لگ بھگ ہر وقت ایک نہ ایک روبوٹ کو ٹھیک کرنے میں لگے رہتے تھے۔“

Leave a Reply