corona Special jtnonline2
Spread the love

لندن (جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) دنیا کو ایک اور

ایلفا اور ڈیلٹا کے بعد کرونا کی ایک نئی قسم نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، جس

پر سائنسدانوں کے اب تک کے خدشات درست ثابت ہوئے، تو پوری دنیا کرونا

وائرس کی ایک نئی لہر کی لپیٹ میں آ سکتی ہے، جو پہلے سے کہیں زیادہ حد

تک خطرناک ثابت ہو گی، وائرس کی نئی قسم کو ابھی تک کوئی نام تو نہیں دیا

گیا، تاہم اسے ایک نمبر دیا گیا ہے جس کے زیادہ کیسز جنوبی افریقہ، جبکہ کچھ

کیس دنیا کے دیگر چند ممالک میں سامنے آئے ہیں- اس ضمن میں برطانوی ہیلتھ

سکیورٹی حکام نے وائرس کی نئی قسم کو خطرناک ترین قرار دیتے ہوئے چھ

افریقی ممالک پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کرونا

وائرس کی ایک اور نئی قسم سامنے آنے کے بعد، ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ

رہے ہیں کہ کووڈ-19 کیخلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں، اور اگر اس

نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں، تو دنیا بھر میں کرونا کی

ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔ کرونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ

اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے

ایک سائنس دان نے اس نئی قسم کے کرونا وائرس کو ہولناک قرار دیا، تو ایک اور

سائنسدان کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرسز سے خطرناک

ہے۔ ایسے میں یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز

رفتاری سے پھیل سکتی ہے، اور اس میں کرونا کی ویکسین کیخلاف کتنی مدافعت

موجود ہے۔

=-،-= سب سے اہم سوال کرونا کی نئی قسم کا توڑ کیا؟

اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب

اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔ اب تک اس نئی قسم (B.1.1.529) کے

درجنوں مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی افریقہ کے

صوبہ گوٹنگ میں سامنے آئے، لیکن چند کیسز بیرون ملک بھی موجود ہیں۔ افریقی

ملک بوٹسوانا میں چار کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ ایک کیس ہانگ کانگ میں

بھی دریافت ہوا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مریض جنوبی افریقہ

سے سفر کر رہا تھا۔ اسی وجہ سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے، کہ شاید یہ

قسم اندازے سے زیادہ پھیل چکی ہے، اور جنوبی افریقہ کے زیادہ تر صوبوں میں

موجود ہو سکتی ہے۔ اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد برطانیہ نے جن چھ

افریقی ممالک پر نئی سفری پابندیاں عائد کی ہیں، ان میں جنوبی افریقہ، نمیبیا،

زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور اسواتینی شامل ہیں۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی سے منسلک جینی ہیرس نے کہا ہے، کہ وائرس

کی یہ نئی قسم اب تک سامنے آنے والے تمام ویریئنٹس کے مقابلے زیادہ خطرناک

لگتی ہے۔ ان کے مطابق فوری طور پر نئی ہنگامی ریسرچ کے ذریعے یہ معلوم

کرنے کی ضرورت ہے، کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا اور کتنا مہلک

ہے۔ یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کرونا کی ویکیسن کیخلاف اس کی

مدافعت کتنی موثر ہے۔ سیکریٹری ہیلتھ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو

وائرس کی نئی قسم پر گہری تشویش ہے۔ یہ زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے، اور

ہماری موجودہ ویکسینز اس کیخلاف کم کارآمد ہو سکتی ہیں۔ اہم سوال یہ بھی اٹھایا

جا رہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں جہاں یہ نئی قسم سامنے آئی ہے، کہ وہاں اب تک

صرف چوبیس فیصد آبادی کو ہی ویکیسن لگائی جا سکی ہے، تو ایسے میں یہ نیا

وائرس یورپ، جہاں ویکیسن لگوانے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، کو کتنا متاثر

کر سکتا ہے؟۔

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

یہ نئی قسم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ میں کرونا کی چوتھی

لہر کے خطرے کے پیش نظر ایک بار پھر نئی پابندیوں پر غور ہو رہا ہے۔ اب

تک کرونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آ چکی ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت

ایلفا اور ڈیلٹا ویریئنٹ جیسے نام دے چکا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کرونا کی

اس نئی قسم کو بھی ایک نام دیا جائیگا، لیکن اسوقت اسے ایک نمبر دیا گیا ہے جو

( بی پوائنٹ ون پوائنٹ ون فائیو ٹو نائن) ہے۔ اس وائرس کے بارے میں اب تک یہ

جانا جا سکا ہے کہ اسکی جینیاتی ساخت میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔ جنوبی

افریقہ کے وبائی امراض کے سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ٹولیو ڈی اولیویرا کہتے

ہیں کہ کرونا کا یہ ویریئنٹ اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام سے مختلف ہے

کیونکہ اس کی ساخت میں غیر معمولی حد تک تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ پروفیسر ٹولیو

ڈی اولیویرا کے مطابق کرونا کے اس نئے ویریئنٹ نے انھیں حیران کر دیا ہے،

کیوںکہ اس میں ہماری توقعات سے زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔

انہوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ نئے ویریئنٹ میں مجموعی طور

پر 50 جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جبکہ اس میں موجود مخصوص سپائک

پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں تیس جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔

اس وائرس کی قسم کے معائنے کے بعد ہم نے دیکھا، کہ اس کا وہ حصہ جو سب

سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے، اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی

تبدیلیاں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل کرونا کی نئی لہر کی وجہ بننے

دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور

دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور ، دنیا کو ایک اور

والے ڈیلٹا ویرئینٹ میں ایسی صرف دو جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: