دنیا میں کرونا وائرس پھیلانے کے ذمہ دار وں کو حساب دینا پڑیگا ، امریکہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن (جتن آن لائن نیوز) بہت جلد وہ وقت آئیگا جب تمام حقائق معلوم کئے جائیں گے اور تحقیقات کی جائیگی کہ کرونا وائرس کو دنیا میں پھیلانے کے ذمہ دار کون تھے ، اس میں ملوث افراد یا ممالک کو اس کا حساب دینا پڑیگا، یہ تبصرہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز ’’مارننگ نیوز‘‘ کے رپورٹر ٹونی کے ٹیز کیساتھ انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بہت کچھ معلوم کرنیوالا ہے ،تا ہم یہ واضح ہے کہ چین کے شہر ووہان کی ’’گیلی مارکیٹ‘‘ میں جہاں کرونا وائرس کسی جانور میں موجود تھا یہ انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہوا، چینی حکومت کو اس کا علم ہو گیا تھا لیکن اس نے کئی ہفتے تک اس حقیقت کو باقی دنیا سے چھپا کر رکھا ،

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب یہ وائرس باقی دنیا تک پہنچا تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے بہت سے اوجھل رکھے کئے حقائق کے باعث پوری طرح تیار نہ ہو سکی۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ چینی حکومت نے یہ الزام لگایا کہ ہو سکتا ہے، کرونا وائرس کو امریکی فوج نے تیار کیا ہو ،تو مائیک پومپیو نے اس ’’ڈس انفارمیشن‘‘کا پورے زور کیساتھ براہ راست چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اور عالمی ادارہ صحت کو جواب دیا ،

چین بے بنیاد افواہیں پھیلا نے میں ملوث ہے، اور صحیح حقائق بیان کرنیوالے صحافیوں کو ملک بدر ر دیتا ہے، تو ان کے بیانات میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے، جن پر یقین نہیں کیا جا سکتا،

ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے بتایا، کہ چین بین الاقوامی ذمہ داروں کے مطابق ا،س وائرس سے متعلق معلومات کو صحیح طریقے سے بروقت باقی دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ سمیت دیگر ممالک کو اس کا سد باب کرنے میں مسائل پیدا ہوئے ہیں،

تا ہم جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے ،کہ ہم اس وقت بھی جہاں بھی ہم سے ممکن ہے، ہم چین کیساتھ تعاون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایران کے بار ے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ ایرانی حکومت کو کیش دینے پر غور نہیں کر رہی،

تا ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایرانی عوام کو میڈیکل سامان،خوراک اور استعمال کی دیگر اشیاء فراہم کرنے کو تیار ہیں، بدقسمتی سے ایرانی حکومت نے ہماری ان کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply