171

دنیا امن کیلئے پاکستانی کاوشوں کو تسلیم کرے،پاکستان نے افغان مہاجرین کیلئے دروازے کھلے رکھے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے دنیا میں امن کیلئے پاکستان

کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مشنر میں پاکستان کے کردار پر فخر ہے۔اقوام متحدہ

کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ‘’امن

مشنز میں پاکستان کے کردار’’ کے عنوان پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان

امن کیلئے اہم ترین کام کر رہا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں امن مشنز کے جوانوں کا ساتھی ہوں۔ امن

مشنز میں 157 جوانوں نے شہادت پائی۔انتونیو گوتریس نے نسٹ میں زیر تعلیم طلبہ کی تعریف کی

اور کہا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ تعلیمی میدان میں آپ کی

کاوشیں قابل ستائش ہیں۔یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ امن مشنز کو نئے چیلنجز

درپیش ہیں۔ پاکستانی افسران امن مشنز میں فرسٹ کمانڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے

ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد جوانوں نے امن مشنز کے لیے کام کیا۔ پاکستانی افواج، پولیس اور

سویلینز کا عزم امن مشنز کیلئے شاندار ہے۔نیشنل یونیورسٹی ا?ف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں

منعقدہ تقریب کے دوران امن مشنز کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی

اختیار کی گئی۔اس سے قبل تقریب سے خطاب میں ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان زکریا کا کہنا تھا

کہ قائداعظمٓ نے فرمایا تھا کہ پسے ہوئے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ امن مشنز میں پاکستانی

دستوں کی شمولیت بابائے قوم کے قول کی عکاس ہے۔ پاکستان نے کانگو امن مشن میں سب سے زیادہ

کردار ادا کیا۔فغان مہاجرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئیسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ

پاکستان کی فراخ دلی دہائیوں پر محیط ہے، اقوام متحدہ مہاجرین کی باعزت واپسی کے حق میں ہے۔ا،

پاکستان اور ایران مہاجرین کو پناہ دینے والے دنیا کے بڑے ممالک ہیں، پاکستان مہاجرین کو پناہ

دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، پاکستان نے افغان مہاجرین کیلئے دروازے کھلے رکھے،

پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں عالمی تعاؤن بہت کم ہے، عالمی برادری کو آگے آنا چاہیئیے۔اقوام

متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا افغان مسئلہ صرف امن سے ہی حل ہو سکتا ہے، افغانستان میں ابھی

بھی خانہ جنگی مکمل ختم نہیں ہوئی، پاکستان اور ایران خطے کے 90 فیصد مہاجرین کی کفالت کر

رہے ہیں، مہاجرین کیلئے اقدامات کو سراہتے ہیں، پاکستان افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے اپنا کردار

ادا کرتا رہے گا، پاکستان 40 سال سے لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہا ہے۔شاہ محمود

قریشی کا کہنا تھا پاکستان نے 50 لاکھ مہاجرین کو پناہ دی، مہاجرین کو اسلامی اقدار کے مطابق پناہ

دی، ہر مہاجر کی اس کانفرنس سے امیدیں وابستہ ہیں، کوئی بھی ملک اس مسئلے سے اکیلے نہیں

لڑسکتا، مسائل کے باوجود لاکھوں مہاجرین کو سہولتیں مہیا کیں۔آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار

مسعود خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹینو گتریس سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کو

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے اور اس تنازعہ کے حل کے

لئے ثالثی کی پیشکش کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہونے والی اس

ملاقات کے دوران صدر آزاد کشمیر نے اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کی طرف سے بھارت اور

پاکستان کو کشیدگی کم کرنے خاص طور پر لائن آف کنٹرول پر کشیدہ صورتحال میں بہتری لانے کا

مطالبہ کرنے پر بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنے اور کشمیر یوں کی بنیادی شہری

آزادیاں بحال کرنے کا مطالبہ کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا ۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ انسانی حقوق

کا احترام اور تحافظ تمام اقوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اقوام متحدہ کا کوئی ایک رکن اپنی ضد

اور ہٹ دھرمی سے اس عالمی ادارے کو یرغمال نہیں بنا سکتا ۔ صدر سردار مسعود خان نے اقوام

متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی مسلسل ، بلا جواز اور بلا اشتعال

فائرنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ صدر آزد

کشمیر نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کے پاکستان اور بھارت کے لئے متعین فوجی مبصرین کی

سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹس کو سیکرٹری جنرل کے دفتر میں باقاعدگی

سے پہنچانے اور ان رپورٹس کو سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو بھیجنے کا لازمی اہتمام کیا جائے

۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تنازعہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کرنے کے لئے

اس مسئلہ پر گفت و شنید اور غور و خوص کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے کیونکہ اقوام عالم کے اس

اہم ترین فورم کاکشمیر جیسے تنازعہ پر خاموشی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے جو

محاصرے میں ہیں اور جنہیں قتل اور مسلسل ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ

بھارت کی انتہا پسند حکمر ان جماعت بی جے پی چاہتی ہے کہ عالمی برادری کشمیر کے مسئلہ پر

خاموش رہے تاکہ اس کے جرائم پر پردہ پڑا رہے لیکن اب جبکہ اقوام متحدہ کشمیر کے تنازعہ پر

بول رہی ہے تو یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ بعد ازاں اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان بین

الاقوامی برادی مل کر مستقبل میں افغانون کی واپسی کیلئے روڈ میپ بنانے کوتیار ہے،افغانستان اور

پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ،دونون نے اکٹھا رہنا ہے ،پاکستان اور افغانستان مل کر

ایک پائیدار امن کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

نے کہاہے کہ ہم امن کے موقع کو ضائع نہیں کر سکتے،اگر ایسا ہوا تو افغان ہمیں کبھی معاف نہیں

کریں گے،امن کے حصول جے بعد ہم افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کی ترقی کو یقینی بنا

سکتے ہیں،اگر قیام امن ہو جاتا ہے تو دہشت گرد گروہوں کو علیحدگی کی جانب دھکیلنے میں مدد

ملے گی، پاکستان، ایران اور افغانستان کو مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک باقاعدہ معنی

خیز طریقہ کار اپنانا ہو گا،پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل میں تصفیے کے لیے ہمارے دفاتر

موجود ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں

،دونوںنے اکٹھا رہنا ہے ،پاکستان اور افغانستان مل کر ایک پائیدار امن کا حصول ممکن بنا سکتے

ہیں۔انہوںنے کہاکہ امریکہ نے بھی سمجھ لیا ہے کہ اب انہیں اپنا سامان سمیٹنا اور واپس جانا

ہے،واپسی کے فیصلہ کے باوجود انہیں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ شرپسندوں کے

منصوبوں کو ناکام بنانا ہو گا۔انتونیو گوتریس نے کہاکہ پاکستانیون نے مہاجرین کیلئے اپنے دلوں اور

گھروں کے دروازے کھولے،افغان مہاجرین اپنے ہی ملک میں ابتر صورتحال میں رہ رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم امن کے اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتے،اگر ایسا ہوا تو افغان ہمیں کبھی معاف

نہیں کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ امن کے حصول جے بعد ہم افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کی

ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ فلیپو گرانڈی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہاکہ

ہمارے پاس اس وقت ایک اہم موقع ہے،افغان قوم بہت مایوس ہو چکی ہے اس کو مزید. مایوس نہیں

کرنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ دسمبر میں پاکستان کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کے لیے ایک بڑا فورم

کرا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ڈونرز کو کہوں گا کہ وہ اس موقع کو افغانستان کی صورتحال کو بہتر

بنانے کے لیے استعمال کریں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور ایران نے افغان مہاجرین کی بیحد امداد کی

جس پر ان کی بھرپور حمایت کی جانی چاہئے۔

Leave a Reply