ہم نے وعدے پورے کئے ہیں، دنیا جلد افغان حکومت تسلیم کر لے گی، طالبان

ہم نے وعدے پورے کئے ہیں، دنیا جلد افغان حکومت تسلیم کر لے گی، طالبان

Spread the love

کابل، پیرس (جے ٹی این انٹرنیشنل نیوز) دنیا افغان حکومت تسلیم

افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ انہیں عالمی

برادری کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں اور توقع ہے کہ وہ جلد ان کی

حکومت کو تسلیم کر لے گی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں

مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے۔ طالبان نے

عالمی برادری کے بہت سے مطالبات پورے کر دئیے ہیں، ان میں ملک گیر

سلامتی برقرار رکھنے کے وعدے سے لے کر یہ یقین دہانی بھی شامل ہے کہ

افغانستان بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔ دوسری طرف

افغانستان پر اپنے اقتدار کی علامت کے طور پر طالبان نے امریکہ پر نائن الیون

کے دہشت گردانہ حملوں کی بیسیویں برسی کے موقع پر کابل میں واقع افغان

صدارتی محل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ پرچم کشائی طالبان کی عبوری حکومت کے

وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے ایک سادہ تقریب میں کی۔ طالبان کے ثقافتی

کمیشن کے سربراہ احمداللہ متقی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ پرچم کشائی کی اس

تقریب کے ساتھ ہی نئی حکومت کے کام کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ افغان سوشل میڈیا

پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پنجشیر میں طالبان افواج فیلڈ

ٹرائلز کر رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں سے ایک میں طالبان کو پنجشیر روڈ پر ایک

شخص پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان عبدالحق وثیق

نے بتایا کہ یہ الزامات درست نہیں ہیں۔ وثیق نے کہا کہ پنجشیر کے لوگوں کو اپنا

علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پنجشیر میں نہ

جنگ ہے اور نہ ہی کسی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ طالبان کے ترجمان سہیل

شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط

ہیں۔ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں کوئی فنڈ ریزنگ

سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا

کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال

نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم قانون بھی بنائیں گے اور

نگرانی بھی کریں گے، ہماری سکیورٹی فروسرز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں زیادہ

فعال نظر آئیں گی۔ سہیل شاہین نے یو این سکیورٹی کونسل کی رپورٹ جس میں

افغانستان میں القاعدہ کے سیکڑوں کارکنان کا ذکر ہے، کے متعلق کہا کہ ہم

جانتے ہیں ایسی رپورٹوں میں کن ممالک سے معلومات آتی ہیں۔ طالبان ترجمان

کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی لیے کئی بار ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ

حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے

ایئرپورٹ پر معمول کا فلائٹ آپریشن آئندہ چند روز میں بحال ہوجائے گا۔ افغان

میڈیا نے ایئرپورٹ حکام کے حوالے سے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ پرمقامی اور بین

الاقوامی پروازیں 2 روز میں بحال ہو جائیں گی۔ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول

حاصل کرنے کے بعد سے لاکھوں شہریوں کی امریکہ یا برطانیہ منتقلی کے لیے

براہ راست جبکہ قطر اور متحدہ عرب امارات میں ٹرانزٹ پروازوں کے ذریعے

منتقل کیا جا چکا ہے۔ تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان سے آنے والوں میں

200 ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین یا سرپرست کا کچھ پتہ نہیں ہے

اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ یہ بچے کس طرح طیاروں تک پہنچے اور سفر

کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان بچوں میں 8 سے 17 سال کی عمر کے بچے ہیں

جنھیں دوحہ میں چیریٹی اداروں کے حوالے کیا گیا ہے متحدہ عرب امارات نے

طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں کئی ٹن امدادی سامان بھیجا ہے اوراس

مقصد کے لیے یو اے ای سے کابل تک فضائی پل قائم کیا ہے۔ اس کے تحت

روزانہ کئی ٹن سامان لے کر طیارے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتر

رہے ہیں۔ دوسری طرف قطر کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن

عبدالرحمان الثانی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے۔ طالبان کی جانب

سے عبوری حکومت کے اعلان کے بعد کسی بھی ملک کے اعلیٰ سطح کے وفد

کا پہلا کابل کا دورہ ہے۔ مقامی افغان میڈیا کے مطابق قطر کے ڈپٹی وزیراعظم و

وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی وفد کے ہمراہ کابل ائیرپورٹ پہنچے ہیں۔

طالبان کی جانب سے بھی قطری وزیر خارجہ کے دورے کی تصدیق کی گئی ہے

جبکہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قطری وزیر خارجہ نے کابل میں عبوری

وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔

=-،-= اسلام کے نام پر جہادی عمل انسانیت کے نام پر دھبہ، جرمن وزیر دفاع

طالبان کیساتھ بات چیت اور ان کی حکومت کو تسلیم کرنا ایک ہی بات قرار نہیں

دیے جا سکتے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ

کرامپ کارین بار نے ایک انٹرویو میں کہی۔ جرمن وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برلن

حکومت طالبان کے ساتھ ماہرانہ سفارتکاری سے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے

کی خواہش مند ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس بات چیت کا مطلب کابل

میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا قطعا نہیں۔ انہوں نے اس انٹرویو میں واضح

کیا کہ اس بات چیت کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس جنگ زدہ ملک میں پھنسے

ہوئے افراد کا انخلاء دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ

کرامپ کارین بار کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت پر نشر کیا گیا جب ڈی ڈبلیو نے

اپنے صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کی بحفاظت افغانستان سے نکل کر پاکستان

پہنچنے کی تصدیق کی۔ جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ کرامپ کارین بار نے کہا کہ

اسلام کے نام پر جہادی عمل انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ انہوں نے واضح

کیا کہ کابل میں طالبان کی حکومت کی نگرانی ضروری ہے تا کہ دیکھا جا سکے

کہ افغان سرزمین سے بین الاقوامی دہشت گردی کی ازسرِنو افزائش تو شروع

نہیں ہو گئی۔

دنیا افغان حکومت تسلیم ، دنیا افغان حکومت تسلیم ، دنیا افغان حکومت تسلیم

دنیا افغان حکومت تسلیم ، دنیا افغان حکومت تسلیم ، دنیا افغان حکومت تسلیم

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply