دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کرونا وائرس کا شدید خطرہ لاحق ہے، عالمی ماہرین 25

دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کو کرونا وائرس کا شدید خطرہ لاحق ہے، عالمی ماہرین

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) دنیا آبادی پانچواں حصہ

”کووڈ 19-“ یا ناول کرونا وائرس کی وباء دنیا کیلئے بالکل نئی ہے، اس لئے

سائنس دان بھی الجھن کا شکار رہے ہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جائے، اس کے

کیا اثرات ہوسکتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ جزوی طور پر اس کے بارے میں حقائق

آشکارہ ہو رہے ہیں۔

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : کرونا عجوبہ، 30 اقسام، خطے، ماحول اور عمر پر مختلف اثرات
——————————————————————————-

ایک امریکی ٹی وی چینل نے امریکی، برطانوی اور چینی طبی محققین کی ایک

رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے اس وباء کے مستقبل میں پھیلاﺅ کے

بارے میں کافی قیافہ آرائی کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی آبادی

کے پانچویں حصے کو کرونا وائرس کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ان میں سے

4/5 حصہ گھر پر علاج سے صحتیاب ہوسکتا ہے اور 1/5 حصے کو وباء کی

شدت کے باعث ہسپتال داخل کرانا پڑے گا۔

دنیا میں 34 کروڑ 90 لاکھ پر کرونا وائرس کے شدید حملے کی زد میں

اس تحقیق کی قیادت ”لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن“ نے کی ہے

جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پوری دنیا کی آبادی میں سے ایک ارب ستر کروڑ

ایسے افراد ہیں جنہیں کوئی نہ کوئی ایسی بیماری ہے جو اگر کرونا وائرس میں

مبتلا ہوئے تو ان میں اس وباء کی نسبتاً زیادہ شدت محسوس ہوگی۔ رپورٹ میں

بتایا گیا ہے کہ دنیا میں 34 کروڑ 90 لاکھ پر کرونا وائرس کا شدید حملہ ہوسکتا

ہے جن میں تقریباً دو فیصد افراد ستر برس یا زیادہ عمر کے ہوںگے جنہیں

ہسپتال داخل کرانا ہوگا۔

معمر لوگوں کی آبادی، ایڈز سے متاثرہ افریقی ممالک وباء کیلئے پُر کشش

جن ممالک میں کرونا وائرس کے شدید حملے کا خطرہ ہے ان میں معمر لوگوں

کی آبادی والے ملک، ایڈز کی بیماری سے متاثر افریقی ممالک اور چھوٹے

جزیروں پر مشتمل ممالک شامل ہیں، جہاں شوگر کا مرض زیادہ ہے۔ دنیا بھر

میں ایسے افراد کا وائرس میں مبتلا ہونے کا زیادہ خدشہ ہے جنہیں گردوں،

شوگر، دل اور سانس کی بیماریاں لاحق ہیں۔ اس دوران ” نیوز میکس “ ٹی وی

چینل نے امریکہ کے طبی ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ناول کرونا

وائرس کی وجہ سے مریضوں میں جو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان کا کچھ کچھ

اندازہ ہو رہا ہے۔

لبلبہ، دل، جگر، گردے، دماغ سمیت جسم کے دیگر اعضاء وائرس کا نشانہ

کیلیفورینا کے دل کے امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر ایرک ٹوپول کہتے ہیں کہ

پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کرونا وائرس صرف سانس کی بیماری پیدا کرتی ہے

لیکن اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ لبلبے، دل، جگر، گردوں اور دماغ

سمیت جسم کے دیگر اعضاء کو نشانہ بنا سکتا ہے، ان کے مطابق اس وائرس

کے مریضوں میں انجماد خون ہونے کا مشاہدہ ہوا ہے جس سے ہارٹ اٹیک،

سٹروک اور اہم اعضاء میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

شکاگو کی امراض قلب کی ماہر ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ انفلوئینزا کے

وائرس کی وجہ سے نظام تنفس کے علاوہ دیگر اعضاء میں پیچیدگیاں پیدا ہونے

کا پہلے سے علم ہے لیکن اس وائرس کی پیچیدگیاں بہت منفرد قسم کی معلوم

ہوتی ہیں۔

دنیا آبادی پانچواں حصہ

Leave a Reply