قانون کے رکھوالوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں، دل کے ہسپتال پر حملہ ،توڑ پھوڑ، پتھراؤ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)صوبائی دارلحکومت لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے مابین تنازعہ شدت

اختیار کر گیا۔وکلاء پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر وکلاء نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف

کارڈیالوجی پر دھاؤا بول دیا ، وکلاء کے حملے کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر ہسپتال میں زیر علاج

6مریض دم توڑگئے۔مشتعل وکلا ء نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں

کے شیشے بھی توڑ دئیے،اسپتال میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں

بھی تصادم ہوا،پولیس پہلے خاموش تماشائی بنی رہی مگر صورتحال بے قابو ہونے پر پولیس نے وکلا

کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیااور آنسو گیس کی شیلنگ کی، وکلا نے پولیس موبائل کو آگ

لگا دی۔پولیس کارروائی کے جواب میں وکلا نے ہسپتال کے اندر پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کی

ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن

چوہان پی آئی سی کے باہر پہنچے جہاں وکلاء نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان

نے بھاگ کر جان بچائی،وزیراعلیٰ پنجاب نے وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور

واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں واقعہ کی

تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ، کمیٹی وکلاء کی ہنگامہ آرائی اورتوڑ پھوڑ کے واقعہ کی

انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔وزیراعظم نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف

سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر

لاہور کے وکلا کے خلاف پرانی ویڈیو دوبارہ وائرل ہونے پر لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے

سینکڑوں وکلا سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ینگ ڈاکٹروں

اور پیرامیڈیکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔ اس موقع پر سینکڑوں وکلا

ہسپتال کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔اس صورتحال کے باعث علاج معالجہ کے سلسلے

میں آئے ہوئے مریض ہسپتال میں محبوس ہو کر رہ گئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کی

بھاری نفری بھی موجود تھی لیکن اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے۔مشتعل وکلا نے ہنگامہ آرائی

کرتے ہوئے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئیے۔اسپتال میں وکلاء کی توڑ

پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں تصادم بھی دیکھنے میں آیا اور وکلاء نے پولیس

گاڑی کو آگ لگا دی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر ہسپتال پہنچے جن کے

حکم پر ہسپتال میں موجود پولیس کی بھاری نفری نے وکلا پر لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو

گیس کا بھرپور استعمال کیا۔پولیس کارروائی کے جواب میں وکلا نے ہسپتال کے اندر پتھراؤ شروع

کر دیا اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ وکلا پولیس کی جانب سے لگائی جانے والی تمام

رکاوٹیں ہٹا کر ہسپتال میں داخل ہو گئے اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ہسپتال کے

اندر احاطہ میں دھرنا دے دیا اور جیل روڈ پر ٹریفک بند کردی۔اسپتال ذرائع کے مطابق وکلاء کے

حملے کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر اسپتال میں زیر علاج 6مریض دم توڑگئے، جاں بحق ہونے

والوں میں سے ایک خاتون کی شناخت گلشن بی بی کے نام سے ہوئی ہے جوہسپتال میں علاج کرانے

آئی تھیں۔صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پی آئی سی

کے باہر پہنچے جہاں وکلاء نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان نے بھاگ کر جان

بچائی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے آیا تھا تاہم وکلاء نے اغوا کرنے کی

کوشش کی، کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں، وکلاء کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ

آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کوئی قانون سے بالا ترنہیں، دل کے ہسپتال میں ایسا واقعہ

ناقابل برداشت ہے، مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی اور توڑ

پھوڑ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب

کرلی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں واقعہ کی

تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد،

انسپکٹرجنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل

ایجوکیشن شامل ہیں، کمیٹی وکلاء کی ہنگامہ آرائی اورتوڑ پھوڑ کے واقعہ کی انکوائری کرکے

رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے ڈاکٹرز

اور مریضوں پر تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے (آج)جمعرات سے او پی ڈیز بند کرنے کا اعلان

کردیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے

درمیان جھگڑا ہوا تھا جس پر وکلاء نے ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور ملزمان کی

گرفتاری کے لیے احتجاج کیا تھا۔ اس کے علاوہ وکلاء نے ڈاکٹرز پر اپنا مذاق اڑانے کی ایک ویڈیو

سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا، بعدازاں یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے سنگین صورتحال

اختیار کرگیا اور نوبت ہسپتال پر وکلاء کے حملے اور مریضوں کے جاں بحق ہونے تک پہنچ گئی۔

وکلا کے احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، احتجاج کے باعث گاڑیوں کی لمبی

قطاریں لگ گئیں۔وکلا نے پی آئی سی کے بعد مال روڈ کا رخ کرلیا جہاں پر انہوں نے مال روڈ اور

جی پی او چوک بند کر دیا۔ وکلا نے سول سیکریٹریٹ سٹاپ پر میٹرو بس کو روک لیا جس کے باعث

امن وامان کے پیش نظر میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا گیا جبکہ میٹرو بسیں شاہدرہ اور گجومتہ سٹاپ

پر کھڑی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ادھر پولیس نے ہسپتال کے باہر احتجاج کرنے والے 18 وکلا

کو گرفتار کرلیا جن میں 3 خواتین وکلاء بھی شامل ہییں۔دوسری طرف وکلاء آج 12دسمبر کو پنجاب

بھر میں ہڑتال کریں گے ،ہڑتال کی کال پنجاب بارکونسل ،لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن اورلاہور

ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن نے دی ہے ۔وکلاء نے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان بھی کیاہے،گزشتہ

روز پی آئی سی کے باہر ہنگامہ آرائی کے باہر پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لئے طاقت

استعمال کی تو لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء بھی میدان میں آگئے،لاہور ہائی کورٹ کے وکلاء نے

سہ پہر تین بجے کے قریب لاہور ہائی کورٹ کے باہر جی پی او چوک میں مال روڈ پر مظاہرہ شروع

کردیا،وکلاء نے مال روڈ،سٹیشن ،بابا موج دریااور انارکلی کو جانے والے راستے بند کردیئے ۔وکلاء

نے ڈاکٹروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی ،اس موقع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی

کورٹ بار کے صدر چودھری حفیظ الرحمن نے کہا کہ وکلاء پر تشدد قابلِ مذمت اور ناقابل قبول ہے،

آج کا دن انتہائی افسوسناک ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو چلانے والے ڈاکٹر

عرفان کو فوری گرفتار کیا جائے اوروکلاء پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی

جائے۔مظاہرے میں لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری فیاض رانجھا اور سپریم کورٹ بار کے نائب

صدر چودھری غلام مرتضیٰ بھی شریک ہوئے،وکلاء نے آج 12دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ سمیت

صوبہ بھر میں مکمل ہڑتال کااعلان کیا،دریں اثناء پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین شاہ نواز

اسماعیل گجر کی سربراہی میں ہنگامی اجلاس ہوا،جس میں آج 12دسمبر کو پنجاب بھرکے وکلاء کو

ہڑتال کی کال دے دی گئی،پنجاب بارکونسل کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق

وکلاء احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں گے،پنجاب بارکونسل کا کہناہے کہ عرفان نامی ایک ڈاکٹرکی سوشل

میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں وکلاء کا تمسخر اڑایا گیا ،وکلاء پرامن احتجاج کے لئے

پی آئی سی کے سامنے جمع ہورہے تھے کہ پولیس اور ینگ ڈاکٹرز نے ان پر حملہ کیا،ان پر شدید

لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس سے درجنوں وکلاء شدید زخمی ہوئے ،انہوں نے

مطالبہ کیا کہ وکلاء کی ایف آئی آر کے ملزموں کو فوری گرفتار کیا جائے ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply