Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

دشمن داری ہی مردانگی کی علامت کیوں—؟

Spread the love

دشمن داری ہی مردانگی؟

دشمنی، نفرت، حسد ایسی برائیاں ہیں جن سے انسانیت کو ہر ممکن بچنے کی

ہدایت ہر مذہب کی تعلیمات کا پہلا درس ہے، لیکن نفس پرستی کی وجہ سے

شیطان حاوی ہو جاتا ہے، اور انسان اس میں غلطان ہو کر اس کا عادی بنتا جاتا

ہے، تکالیف و مشکلات جھیلنے کے باوجود ایک نشئی کی طرح اس لت میں پڑا

رہتا ہے یعنی دل میں خواہش ابھرتی ہے کہ اس برائی کو چھوڑ دوں مگر انا،

خود پرستی اور معاشرے کی جانب سے طرح طرح کی باتیں سننے سے بچنے

کیلئے اپنی بری عادت کو چھوڑنے کے بجائے اسے اپنے گلے سے لگائے رکھتا

ہے- وطن عزیز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی زن، زر، زمین اور

دیگر وجوہات کی بنیاد پر دشمنیوں کا سلسلہ صدیوں سے ایک رواج کی صورت

میں نہ صرف چلا آرہا ہے، بلکہ یہاں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں اگر کسی

کی دشمنی نہیں چلی آ رہی، تو اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے-

=یہ بھی پڑھیں= پشاور اور ہنگو میں غیرت کے نام پر 2 خاندان برباد

بعض خاندانوں کی جانب سے دشمنی نبھانے کے اصول ذرا ہٹ کر ہوتے ہیں،

کیونکہ وہ اپنے پیاروں کے قتل کی مخالف پر ایف آئی آر درج کرانے کو بزدلی

اور دشمن سے خود بدلہ لینے کو اصل بہادری سمجھتے ہیں- خود بدلہ لینے یعنی

انتقام کو حقیقی بہادری تصور کرنے کی وجہ سے وہ قتل کی دعویداری نامعلوم

افراد پر دھر دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ روایات بھی دیکھنے میں آئی ہیں کہ قتل

مقاتلے کی دشمنیوں میں اپنے دشمن سے آگاہی ہوتے ہوئے بھی کسی تیسرے

فریق کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا جاتا ہے، اور بعد ازاں جرگہ کے ذریعے بھاری

رقم لے کر خون معاف کر دیا جاتا ہے، جبکہ قصاص و دیت کی مد میں حاصل

ہونیوالی رقم کو اپنے دشمن کیخلاف استعمال کیا جاتا ہے یا پھر کاروبار میں لگا

کر اپنے گزر بسر کی سبیل کی جاتی ہے-

=–= مزید معلوماتی، تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کا دشمنیاں پالنے اور انہیں نمٹانے کا طریقہ کار

اور اصول دیگر علاقوں کے لوگوں سے مختلف ہے، جیسا کہ کسی گھرانے کا

کوئی فرد قتل ہو جائے یا کسی کو موت کے گھاٹ اتار دے تو یہ دشمنی صرف

دو گھرانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو کر اکثراوقات دو

قبیلوں کے مابین ایک خونی تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کے نتیجے

میں کئی قیمتی انسانی جانوں کے نقصان سمیت دیگر کئی مصائب و آلام برداشت

کرتے ہیں وہیں اہل علاقہ کو بھی ہمہ وقت خوف و خطرہ لاحق رہتا ہے- ہمارے

معاشرے میں یوں تو معمولی باتوں پر دشمنیاں پالنا قابل فخر جاتا ہے اور ان ہی

دشمنیوں کی بنیاد پر کسی انسان کو موت کی وادی میں دھکیل دینا عام سی بات

ہے، قبائلی اضلاع ہوں یا شہری علاقے یا دیہات ان میں چلی آنے والی ایسی

دشمنیاں بھی ہیں جو پورے پورے خاندانوں کو نگل گئیں، ہنستے بستے گھرانے

اجڑ گئے، گھروں میں کوئی مرد نہ رہا بلکہ بدلے کی آگ میں جلنے والوں نے

بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر بھی رحم نہ کیا، ایسی کئی اندوہناک مثالیں موجود

ہیں-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

رواں سال ماہ جون میں چمکنی میں خاندانی دشمنی کی بیہمانہ واردات قابل ذکر

ہے، جہاں مسلح افراد نے اپنے مخالف کے گھر میں گھس کر چار ایسے ننھے

پھولوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا جن کی عمریں 2 سے 12 سال کے درمیان

تھیں اور وہ ابھی لفظ ” دشمنی ” کے معنی سے واقف نہ تھے، اس دل خراش

واقعے میں 2 خواتین اور ایک مرد کو بھی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، اسی

طرح حال ہی میں جائیداد کے تنازع پر لوئر دیر کے علاقے میں جنازے میں

شریک 8 افراد اور صوابی میں جرگہ کے دوران فائرنگ میں بھی آٹھ افراد کو

قتل کر دیا گیا، اس سے قبل نوشہرہ میں ملازمت کے معمولی تنازع پر سات افراد

اور پشاور سربند میں جائیداد پر ہونے والی دشمنی 5 افراد کو نگل گئی- جبکہ

صرف پشاور میں روزانہ مختلف مقامات پر ذاتی دشمنیوں کی بنا پر روزانہ کئی

افراد کو قتل کئے جانے کی خبریں سامنے آنا معمول بن چکا ہے-

=-= قارئین =-=

یوں تو خاندانی دشمنیاں صدیوں سے چلی آ رہی ہے، لیکن معمولی تنازعات کی

بناء پر آئے روز خونی دشمنیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے-

اہم وجوہات کیا، اس کا ذمہ دار کون

ذہنوں میں اُٹھنے والے دیگر سوالوں کے جواب جاننے کیلئے جے ٹی این آن لائن

(جتن آن لائن)— آگاہی اور معلومات پر مبنی سلسلہ

شروع کر رہی ہے جو <--- روزانہ ---> شائع کیا جائیگا-

=-=>اپ ڈیٹ رہنے کیلئے<=-=>>ہم سے جُڑے< رہیئے

دشمن داری ہی مردانگی؟

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply