بھارتی آبی جارحیت، 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ پاکستان داخل، دریائے ستلج بپھر گیا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصور،لاہور(جے ٹی این آن لائن بیورورپورٹ، سٹاف رپورٹر) دریائے ستلج

پاکستان بھارت سرحدی علاقے گنڈاسنگھ کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کی

سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ انتظامیہ کی طرف سے آئندہ مزید پانی

آنے کا ہائی الرٹ جاری کردیا گیا۔ سیلاب سے ایک درجن سے زائد دیہاتوں کا

زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ پاک فوج اور ریسیکو کی ٹیموں نے 1500سے

زائد متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقام پر بھی منتقل کردیاگیا ہے جبکہ مقامی افراد

نے ضلعی انتظامیہ قصورکے انتظامات کو ناکافی قرار دیدیا ہے، جبکہ پانی کے

تیز بھاو نے رینجرز کی کئی چوکیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے بغیراطلاع چھوڑے گئے پانی سے

دریائے ستلج میں آنیوالے سیلابی ریلے نے 16 کے قریب سرحدی دیہاتوں کو شدید

متاثر کیا ہے، جن کا نہ صرف ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ کٹ کر

رہ گیا ہے بلکہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی تیار فصلیں بھی زیرآب آگئی ہیں۔ سیلابی

ریلے کے باعث متاثرہ دیہات میں گٹی کلنجر، چنداسنگھ، پتن، دھوپ سٹری،

مبوکے اور دیگر 16 دیہات شامل ہیں، دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کی جانب

سے 12ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں مگرمقامی افراد نے ضلعی انتظامیہ کی جانب

سے کئے جانے والے انتظامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلڈ ریلیف

کیمپوں میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں-

پڑھیں: طوفانی بارشیں، سیکڑوں گھر، کھڑی فصلیں تباہ، ہلاکتیں 50 ہو گئیں

دوسری طرف بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کا ایک اور بڑا ریلہ 25

اگست تک کسی بھی وقت گنڈا سنگھ کے مقام سے گزرنے کا امکان ظاہر کیا جا

رہا ہے جس کیلئے ضلعی انتظامیہ کیساتھ ساتھ پاک فوج اور رینجرز کو الرٹ

جبکہ دریا کے آس پاس آبادیوں کو انخلا کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

دریائے ستلج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply