داعش گروپ ہمارا دشمن، ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ، افغان طالبان

داعش گروپ ہمارا دشمن، ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ، افغان طالبان

Spread the love

دبئی، کابل ( جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) داعش گروپ ہمارا دشمن

تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے افغان سرزمین کو

پاکستان کیخلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان ہمارا برادر مسلم

ملک اور دوسرا گھر، ہماری اقدار مشترک، پاکستان لاکھوں مہاجرین کی میزبانی

کر رہا ہے، پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں، خواتین کو تمام شرعی

و معاشی حقوق دیں گے، تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، داعش گروپ

ہمارا دشمن ہے۔ دوسری طرف امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ

ملر نے فوج کی کمان جنرل کینتھ میکنزی کے حوالے کردی ہے، جبکہ افغانستان

کی حکومت نے یورپی ملکوں سے درخواست کی ہے کہ وہ افغان شہریوں کی

جبری ملک بدری کم از کم تین ماہ کے لیے موخر کردیں۔

=-،-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق اپنے تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے

ایک انٹرویو میں کہا ہم افغانستان میں شہریوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، مجبور

نہ کیا گیا تو سخت قدم بھی نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا

اندرونی معاملہ ہے جس میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتے۔ خواہش ہے پاکستان میں

کوئی بدامنی نہ ہو، نہیں چاہتے کہ کوئی ہماری سرزمین کو پڑوسی ملک کیخلاف

استعمال کرے۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ پاکستان لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کر

رہا ہے، پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحا

میں ہماری مذاکراتی ٹیم موجود ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے

خواتین کو تمام شرعی اور معاشی حقوق دیں گے، تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ

کریں گے داعش گروپ ہمارا دشمن ہے تمام اسلامی ممالک اس کیخلاف ہیں۔ ملک

میں مذاکرات کے ذریعے اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں، کابل میں بزور طاقت نہیں

آئیں گے، طاقت میں ہونے کے باوجود مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

=-،-= جنرل ملر نے افغانستان میں فوج کی کمان جنرل میکنزی کو دیدی

امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر نے فوج کی کمان جنرل کینتھ

میکنزی کے حوالے کردی ہے۔ وہ افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج کے سربراہ

کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این

کے مطابق امریکی فوج کی کمانڈ میں تبدیلی ایک ایسے وقت میں اآئی ہے کہ جب

امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ہو رہا ہے اور افغان

طالبان کی پیش قدمی میں نہایت تیزی آ چکی ہے۔ ایک اور عالمی خبر رساں

ایجنسی نے اس ضمن میں دعویٰ کیا ہے کہ فوج کے نئے کمانڈر جنرل کیتھ

میکنزی فلوریڈا میں سینڑل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹرز سے فوج کی کمانڈ کریں گے،

جنرل میکنزی کی کمانڈ میں امریکی فوج ممکنہ طور پر افغان فوج کی مدد کے

لیے کم از کم 31 اگست تک فضائی حملے کرے گی جب امریکہ کا انخلاء مکمل ہو

گا۔ امریکی فوج کی کمانڈ سے دستبردار ہونیوالے جنرل ملر 2018ء سے افغانستان

میں تھے۔ رواں سال مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن جو کہ امریکی افواج کے

کماندڑ انچیف بھی ہیں نے انہیں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء

کا ٹاسک سونپا تھا جو کہ اگست میں مکمل ہو گا۔ مئی سے اب تک افغانستان میں

اس وقت موجود دو ہزار 500 فوجیوں میں سے بیش تر امریکہ جا چکے ہیں اور

امریکہ نے بگرام کا فوجی اڈہ بھی باضابطہ طور پر خالی کرکے افغان فوجیوں

کے حوالے کر دیا ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران

بگرام ایئربیس سے طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشنز کیے گئے۔ طے شدہ

منصوبے کے تحت 31 اگست کے بعد صرف 650 امریکی فوجی افغانستان میں

رہیں گے جو کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے کی

سیکیورٹی سنبھال لیں گے۔

=-،-= افغان حکومت کی افغان شہریوں کی یورپ بدری روکنے کی اپیل

افغانستان کی حکومت نے یورپی ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ افغان

شہریوں کی جبری ملک بدری کم از کم تین ماہ کے لیے موخر کر دیں۔ افغانستان

ان دنوں متعدد بحرانوں سے دوچار ہے۔ ایک طرف طالبان ملک کے مختلف

علاقوں پر تیزی سے قبضہ کر رہے ہیں تو دوسری جانب اندرون ملک خاندانوں

کی نقل مکانی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ادھر کووڈ کی تیسری لہر نے

افغانستان میں حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے

خصوصی نمائندے رامز علی اکبروف نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہاں پہلے

سے ابتر صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ ملک کے تقریباً 33.5 ملین افراد کو

انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

داعش گروپ ہمارا دشمن ، داعش گروپ ہمارا دشمن ، داعش گروپ ہمارا دشمن

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply