دادی کے دل کا ٹوٹا، جانِ من اور آنگن کا پھول حریم فاطمہ

دادی کے دل کا ٹوٹا، جانِ من اور آنگن کا پھول حریم فاطمہ

Spread the love

پشاور(خصوصی رپورٹ:۔۔۔عمران رشید خان) دادی کے دل کا ٹوٹا
Imran Rashid Khan
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ، خٹک کالونی کی رہائشی چارسالہ معصوم

کلی حریم فاطمہ جو گھر سے باہر نکلی اور لاپتہ ہوگئی، تلاش کے باوجود کوئی

سراغ نہ ملا لیکن دو روز بعد لاش ایک گندے نالے سے ملی، میڈیا رپورٹس میں

بتایا گیا چار سالہ بچی حریم فاطمہ نالے میں ڈوبی نہیں تھی بلکہ اسے بیدردی سے

قتل کیا گیا۔ حریم کی پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آئی تو واضح ہو گیا 4 سالہ حریم کو

جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ بچی کو قتل کرنیوالا

درندہ اب بھی آزاد ہے، تاہم 36 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں جن سے تفتیش کی جا

رہی ہے۔

=–= یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں گندے نالے سے 4 سالہ بچی کی لاش برآمد

آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ثناء اللہ عباسی نے ملزم تک پہنچنے کا دعویٰ کیا

اور کہا سی سی ٹی وی میں بچی کو برقع پوش کیساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے،

واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو ہر صورت گرفتار کیا جائیگا۔ زیر

حراست مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ 4 سالہ

حریم فاطمہ کی نماز جنازہ آبائی قبرستان بابل خیل میں ادا کرکے سپرد خاک کر دیا

گیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کی زندگی کا ہر طبقہ فکر شدید مذمت سمیت قاتلوں

کی فوری گرفتاری اور نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مذکورہ واقعے

کیخلاف متاثرہ بچی کے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے کوہاٹ کے یونیورسٹی روڈ

پر احتجاجی مظاہرہ اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔

=–= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )
—————————————————————————–

گزشتہ سال پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے آٹھ ماہ میں بچوں سے

زیادتی کے 182 کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے، جن میں سے چار کیسز میں بچوں کو

زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ جن میں ضلع چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی زینب

بھی شامل تھی جسے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا تھا

ان کی کسی سے دشمنی نہیں، حکومت ملزمان کو گرفتار کرے تاکہ وہ ان سے

پوچھ سکیں انکی بیٹی نے انکا کیا بگاڑا تھا جو انہوں نے یہ جرم کیا۔ ٹوئٹر پر

زینب کیلئے انصاف اور ایک اور زینب کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے، جہاں

صارفین نے ملک میں بچوں کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، ڈھائی سالہ

بچی کی تصویر زیر گردش کرتی رہی جس میں واقعے کا 2018ء میں قصور میں

ریپ کے بعد قتل کی گئی ننھی زینب کے کیس سے موازنہ کیا جا تارہا۔

=—–= سوشل میڈیا پر بچوں سے زیادتی و قتل کیخلاف مذمتی ٹرینڈز

پنجاب کے ضلع قصور کی زینب امین 4 جنوری 2018ء کو لاپتا ہوئی تھی جس

کے بعد ایک پولیس کانسٹیبل کو اسکی لاش شہباز خان روڈ پر واقع کچرہ کنڈی

سے ملی تھی۔ قصور میں اس واقعے کے بعد فسادات شروع ہو گئے تھے جس میں

دو افراد مارے گئے تھے اور ٹوئٹر پر بچوں کو جرم کا نشانہ بنانےوالوں کے

خلاف مسلسل آواز اٹھائی جا تی رہی۔ کوہاٹ کی حریم فاطمہ کیساتھ پیش آنیوالے

واقعہ پر بھی کچھ اسی نوعیت کا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اسی طرح کراچی میں 6

سالہ مروہ کو ریپ کے بعد قتل کر دینے کا واقعہ بھی رونما ہوا، ملوث ملزمان کے

فنگر پرنٹس میچ کر گئے، آگے کیا ہوا تاحال سوالیہ نشان ہے۔ راولپنڈی میں بھی 7

سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل کا واقعہ سامنے آیا، مگر کسی کے کان پر جوں تک

نہ رینگی۔

=—–= زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019ء کہاں نافذ ہے؟

ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی زینب انصاری کی لاش کے ملنے کے ٹھیک 2

سال بعد قومی اسمبلی میں زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019ء متفقہ

طور پر منظور کیا گیا۔ جس میں بچوں سے زیادتی، تشدد اور قتل کے واقعات کی

تیز تر تفتیش اور ملزمان کو فوری سزا کو یقینی بنایا گیا۔ سندھ پولیس نے بھی اس

سلسلے میں موبائل فون ایپلی کیشن ‘دی زینب الرٹ‘ تیار کی تاکہ بچوں سے جرائم

میں ملوث افراد کا ڈیٹا بیس تیار کرنے میں مدد مل سکے۔ مگر معلوم نہیں یہ ایکٹ

کہاں نافذ ہوا ہے-

=—–= 2020ء میں روزانہ 8 بچے بچیاں جنسی استحصال کا شکار ہوئے

ملک میں نئے قوانین بنائے جانے کیساتھ ساتھ ہر سطح پر احتجاج کے باوجود

بچوں سے زیادتی، تشدد اور انہیں قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورملک بھر میں

سال 2020ء کے پہلے حصے میں ایک ہزار 489 یعنی روزانہ 8 بچوں کو جنسی

استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالی تنظیم ساحل کے

مطابق ان میں سے 331 بچوں کو اغوا، 160 کو ریپ، 233 سے غیر فطری تعلق

قائم کیا گیا، 69 کا گینگ ریپ جبکہ 104 سے گینگ نے غیر فطری تعلق قائم کیا۔

ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 13 لڑکوں اور 12 لڑکیوں کو

جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ ایک بچی کا گینگ ریپ

کے بعد قتل کیا گیا۔

=—–= معصوم حریم فاطمہ کی لاش جہاں ملی وہ کبھی وہاں گئی ہی نہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق حریم فاطمہ کے دادا اور دادی کا رو رو کر کہنا تھا

ہمارے بچے اور بچیاں اپنے اپنے کاروبارِ زندگی، ملاز مت اور تعلیم وغیرہ

کےلئے دیگر شہروں میں مقیم ہیں سو ہم دونوں میاں بیوی کی زندگی حریم فاطمہ

کے سہارے چل رہی تھی۔ حریم فاطمہ شاہ کبھی گھر سے باہر اکیلی نہیں نکلی

تھی، اگر اس کو باہر جانا ہوتا تو میں ساتھ ہوتا تھا یا ویک اینڈ پر اس کے چچا

وغیرہ آ جاتے تھے جو اس کو ساتھ لے کر باہر گھماتے تھے۔ ہمیں نہیں پتا چلا کہ

وہ کس وقت باہر نکلی اور پھر اس کی لاش ملی، جس مقام سے نعش برآمد ہوئی،

اسکا راستہ تو حریم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ فراد حسین واپڈا سے ریٹائرڈ افسر

ہیں۔ ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے دو

بیٹے فوج میں افسران ہیں جبکہ حریم کے والد نوید اقبال پاکستان اٹامک انرجی

کمیشن اسلام آباد میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ فرہاد حسین کے چار پوتے، پوتیاں

ہیں جسمیں حریم شاہ سب سے پہلی پوتی ہونے کی وجہ سے دادا دادی، چچوں اور

پھوپھیوں کی سب سے زیادہ لاڈلی تھی۔ ان سب کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔

= قارئین =کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

فرہاد حسین نے کہا جب اللہ نے مجھے پوتی دی تو میری بہو اور بیٹے نے مشترکہ

طور پر فیصلہ کر کے اس کو ہمارے پاس چھوڑ دیا تھا۔ اس کی پرورش میری

اہلیہ اور حریم شاہ کی دادی نے کی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے پاس شاید ہی کبھی

رہی ہو۔ ہمیشہ ہمارے پاس رہتی تھی۔ کبھی کبھار اگر یہ اپنے ماں باپ کے پاس

چلی بھی جاتی تو پھر خود ہی ضد کر کے واپس آجاتی تھی۔ حسن فرہاد کے مطابق

حریم کی والدہ کہتی ہیں جتنا دکھ انھیں ہے، ہو سکتا ہے شاید کسی کو بھی نہ ہو

لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ پیدائش کے وقت ہی سے حریم کو اس

کی دادی نے پالا پوسا اور پیار و محبت دی تھی اس لیے اب جو حالت ان کی ہے

وہ مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ حسن فرہاد کہتے ہیں میری والدہ نے حریم کے

مختلف نام رکھے ہوئے تھے۔ کبھی وہ اس کو دل کا ٹوٹا کہہ کر پکارتیں، کبھی

جانِ من کہتی اور کبھی میرے آنگن کا پھول کہتی تھی۔ اب شاید یہ نام دوبارہ

ہمارے گھر میں نہ گونجیں۔

دادی کے دل کا ٹوٹا ، دادی کے دل کا ٹوٹا

Leave a Reply