داتا دربار کے باہر خود کش دھماکہ،5 پولیس اہلکارو ں سمیت 10شہید

Spread the love

لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی درالحکومت میں داتا دربار کے قریب پولیس کی

گاڑی کے نزدیک خودکش دھماکا ‘5اہلکاروں سمیت 10افراد شہید‘5زخمیوں شدید

زخمیوں سمیت30زخمی میو ہسپتال میں داخل ‘ کالعدم تنظیم حزب الاحرار نے

حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ‘خودکش حملہ آوار کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی

سامنے آگئی ‘خودکش حملہ کی عمر15سے16ہونے کا انکشاف ‘دھماکے کی شدت

بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے آواز دوردور تک سنی گئی‘ دھماکے والی جگہ کی

سیکیورٹی رینجرزنے سنبھال لی ہے‘وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب نے واقعے

پولیس اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلات

کے مطابق بدھ کی صبح8 بجکر 54داتا دربار کے گیٹ نمبر 2پر ایلیٹ فورس کی

گاڑی کے قریب ایک نوجوان نے خود کش دھماکہ کیا دھماکے کی آواز دور دور

تک سنی گئی جبکہ قریب سے گزرنے والی گاڑیوں اور کئی عمارتوں کو بھی

نقصا ن پہنچا ۔اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو اور حساس اداروں کی ٹیمیں

موقع پر پہنچ گئیں جنہوں نے دھماکے والی جگہ اور قریبی علاقے کو اپنے

گھیرے میں لے لیا امدادی ٹیموں کی جانب سے دھماکے میں شہید ہونے والوں کی

لاشوں اور زخمیوں کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا ریسکیو ذرائع کے مطابق

دھماکے میں 10افراد شہید جبکہ 25سے زائد زخمی ہوئے جبکہ زخمیوں میں سے

کئی کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے شہادتیں بڑھنے کا خدشہ ہے واقعے

کے بعد صوبائی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی

دھماکے سے متعلق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عارف نواز خان نے بتایا کہ

دھماکے میں تقریباً 7 کلو کے سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس

میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا ۔آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ دھماکا خود کش تھا اور

حملہ آور کی باقیات بھی مل گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات

میں مصروف ہیں۔دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز محمد اشفاق نے کہا کہ کسی

کو بھی داتا دربار کے اندر داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی، جو لوگ داتا دربار

میں موجود تھے انہیں بھی باہر نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کی تھریٹ

الرٹ تھا لیکن مخصوص داتا دربار پر اس طرح کے واقعے کی کوئی اطلاع نہیں

تھی۔محمد اشفاق کا کہنا تھا کہ پولیس کا محکمہ قربانیاں دے رہا ہے، شہریوں کی

حفاظت ہمارا فرض ہے اور ہم اسے پورا کریں گے

Leave a Reply