خیبرپختونخوا میں کرونا سمیت کسی بھی وبائی وائرس کا بروقت پتہ چلانا ممکن

خیبرپختونخوا میں کرونا سمیت کسی بھی وبائی وائرس کا بروقت پتہ چلانا ممکن

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) خیبرپختونخوا میں کرونا

Journalist Imran Rasheed

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے صوبے میں

کرونا سمیت کسی بھی وبائی مرض کے وائرس کا بروقت پتہ چلانے کیلئے پہلی

جینوم سیکونسنگ لیبارٹری کا افتتاح کر دیا، اس موقع پر انہوں نے کہا جو صوبہ

میں نظامِ صحت کے خاطر خواہ ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ گزشتہ سال کے

شروع میں صوبے میں یومیہ 15 سے 20 کرونا تشخیصی ٹیسٹ ہو رہے تھے

جو کہ اب 13 ہزار روزانہ ہو رہے ہیں۔ سال کے اختتام تک 70 فیصد آبادی کو

کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی خوراک دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ڈینگی

کے تدارک کیلئے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری

خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے کرونا وباء کے دوران کافی بوجھ سنبھالا۔ لیبارٹری

میں اب تک مجموعی طور پر 8 لاکھ تشخیصی ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔

=-،-= لیبارٹری انسداد وائرس میں اہم ثابت ہو گی، تیمور جھگڑا

خیبرپختونخوا میں کرونا سمیت کسی بھی وبائی وائرس کا بروقت پتہ چلانا ممکن

وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں

جینوم سیکونسنگ لیبارٹری اور ڈے کیئر سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب

کرتے ہوئے کہا کہ جینومک سیکونسنگ لیبارٹری کرونا وائرس کی کسی بھی

قسم کا مقامی سطح پر پتا چلانے میں اہم ثابت ہو گی۔ اس جدید لیبارٹری سے کسی

بھی وبائی مرض کا سیکونس پتا چلا کر اس کے تدارک اور روک تھام کے لیے

اقدامات اٹھائے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جدید اور صوبے کی پہلی

جینوم سیکونسنگ لیبارٹری ہے جو کہ صوبے کے صحت نظام میں ایک مثبت

اضافہ ہے۔ اس لیبارٹری پر 3 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ تیمور جھگڑا نے خیبر

میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ کی کارکردگی سراہتے ہوئے کہا کہ پبلک ہیلتھ

ریفرنس لیبارٹری نے دوران کرونا وباء بہترین انداز میں کام کیا اور تشخیصی

ٹیسٹوں کا زیادہ بوجھ سنبھالا۔

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

وباء کے ابتدائی دنوں میں صوبے بھر میں صرف 15 سے 20 ٹیسٹ روزانہ ہو

رہے تھے جو کہ اب 13 ہزار یومیہ کی سطح کو پہنچ چکے ہیں۔ کرونا کیسز میں

گزشتہ دنوں میں کمی آئی ہے اور مثبت شرح 7 فیصد سے کم ہو کر 2 اعشاریہ 5

فیصد ہو گئی ہے۔ اس وباء کے دوران ہسپتال اور صحت عملہ جانفشانی سے کام

کر رہا ہے۔ کیسز میں کمی کا تعلق کرونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن سے بھی ہے۔

جیسے جیسے یہ بڑھ رہی ویسے ہی کیسز میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ابھی تک

صوبے کی تقریباً 40 فیصد آبادی ویکسین کی پہلی خوراک لے چکی ہے، جبکہ

20 فیصد کے قریب آبادی دوسری خوراک بھی لے چکی ہے۔ صوبائی حکومت

نے رواں سال کے اختتام تک 70 فیصد آبادی کو کم از کم ویکسین کی ایک

خوراک دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ چترال، ہری پور، مانسہرہ، چارسدہ اور

مردان نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا

ہے جس کے لیے ان اضلاع کی ہیلتھ و ضلعی انتظامیہ اور عوام مبارکباد کے

مستحق ہیں۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

تیمور جھگڑا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جلد اپنی ویکسینیشن مکمل کرائیں تاکہ

اس مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں این سی او

سی کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔ صوبائی وزیر نے ویکسی نیشن کی جعلی

انٹری اور سرٹیفکیٹس کے حوالے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے

کسی بھی واقعے کی نشاندہی پر سخت ترین ایکشن لیا جائے گا اور کسی سے

کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ تیمور جھگڑا نے ایک سوال کے جواب میں کہا

کہ امسال اب تک ڈینگی بخار کے مجموعی طور پر 743 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

تاحال اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور مجموعی طور پر صورت حال

کنٹرول میں ہے۔ صوبائی حکومت ڈینگی کے تدارک کے لیے جامع اقدامات اٹھا

رہی ہے اور مختلف محکمے مل کر کام کر رہے ہیں۔ قبل ازیں صوبائی وزیر

صحت و خزانہ نے یونیورسٹی میں خواتین ملازمین کے بچوں کے لیے قائم ڈے

کیئر سینٹر کا بھی افتتاح کیا اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے صوبے کی تمام ایم

ٹی آئی اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایسے ڈے کیئر سینٹرز قائم کرنے کا اعلان

کیا۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے جتنا بھی کام کیا

جائے کم ہے۔

خیبرپختونخوا میں کرونا ، خیبرپختونخوا میں کرونا ، خیبرپختونخوا میں کرونا

خیبرپختونخوا میں کرونا ، خیبرپختونخوا میں کرونا ، خیبرپختونخوا میں کرونا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply