0

خدیجہ صدیقی ،ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم ،سپریم کورٹ کے حکم پر ملزم شاہ حسین گرفتار

Spread the love

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خدیجہ صدیقی قاتلانہ حملہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملز م شاہ حسین کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا جس کے بعد ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ بدھ کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دور ان خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کے ملزم شاہ حسین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا ۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ملزم شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے؟۔سرکاری وکیل نے کہا کہ شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے۔وکیل خدیجہ نے دلائل دیئے کہ ہائیکورٹ نے مقدمہ کے مکمل شواہد کو نہیں دیکھا۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ خدیجہ صدیقی کی بہن بھی بطور گواہ پیش ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے۔وکیل خدیجہ صدیقی نے کہاکہ خدیجہ صدیقی ملزم کی کلاس فیلو تھی۔وکیل نے کہاکہ ملزم شاہ حسین نے خدیجہ پر خنجر کے 23 وار کیے۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ ملزم نے خدیجہ کی گردن پر بھی دو وار کئے۔ وکیل خدیجہ نے کہاکہ ڈاکٹرز کے مطابق جب خدیجہ کو ہسپتال لایا گیا اسکے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ خدیجہ صدیقی ملزم کا جانتی تھی وہ کلاس فیلو بھی تھے ،اس کے باوجود ملزم کو 5 دن کے بعد نامزد کیا گیا۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ حملے کے وقت خدیجہ صدیقی ہوش وحواس میں نہیں تھی۔وکیل خدیجہ نے کہا کہ خدیجہ نے ڈاکٹر کو بھی اجنبی قرار دیا تھا۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ شاہ حسین نے ارادے کیساتھ صرف خدیجہ صدیقی پر خنجر سے حملے کیے۔چیف جسٹس نے کہاکہ تفتیشی افسر نے شواہد جمع نہ کر کے سنگین غلطی کی۔وکیل خدیجہ صدیقی نے کہاکہ ایف آئی آر ڈرائیور کی درخواست پر درج ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ ڈرائیور ملزم کو جانتا تھا لیکن نامزد نہیں کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ خدیجہ اور شاہ حسین روزانہ ملتے تھے ،ڈرائیور روزانہ خدیجہ کو پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا،کیسے ممکن ہے کہ ڈرائیور شاہ حسین کو نا جانتا ہو۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ فوجداری مقدمات میں گواہ رشتہ دار ہی آتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ خدیجہ کیس میں اصل گواہ ڈرائیور ہے جو انکا تنخواہ دار تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا تو اس نے ضمانت قبل از وقت گرفتاری کیوں کرائی؟۔چیف جسٹس نے کہاکہ ڈرائیور نے شاہ حسین کو ملزم نامزد کیا۔ وکیل خدیجہ نے کہاکہ خدیجہ کے بیان کے بعد ڈرائیور نے شاہ حسین کو ملزم قرار دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کے پی کے ہسپتالوں میں پولیس موجود ہوتی ہے۔وکیل خدیجہ نے کہاکہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں پولیس موجود ہونی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہاکہ گاڑی سے دو بال ملے تھے کیا ان کا ڈی این اے ہوا۔وکیل خدیجہ نے کہا کہ بالوں کو فورنزک لیب بھجوانے کا کہا گیا تھا۔وکیل نے کہاکہ فورنزک لیب کے بقول انہیں بال موصول نہیں ہوئے۔

Leave a Reply