new zara meri bhi suno1

خبردار ہوشیار زُومبی جلد آ رہا ہے

Spread the love

(تحریر:- سینئر صحافی و تجزیہ کار سید اظہر علی شاہ/ المعروف بابا گل) خبردار ہوشیار زُومبی جلد

Journalist and annalist Sayed Azher Ali Shah

چند ہفتے قبل زومبی کا نام پہلی مرتبہ اس وقت سُنا جب مستقبل میں اس کے آنے

کی پیشگوئی کی جا رہی تھی، مگر اب کچھ اشارے ایسے ملنا شروع ہو گئے ہیں

کہ کرونا کے اختتامی مراحل میں زومبی نامی وائرس اپنی پوری شد و مد کے

ساتھ نمودار ہونے جا رہا ہے، زومبی کی باقاعدہ آمد میں شاید ابھی دو تین ماہ

لگیں، البتہ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک نے اس وباء سے نمٹنے کیلئے ابھی

سے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے-

=ضرور پڑھیں= کرونا درحقیقت کیمیکل ہتھیار، صہیونی بالا دستی کی سازش

گوگل سرچ میں بہت تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ زومبی نامی وائرس کے

انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور یہ انسانی جان کیلئے کس قدر

خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی خاص کامیابی نہ مل

سکی، جس کی ایک واضح وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس کے باقاعدہ لانچ ہونے

میں ابھی کچھ وقت ہے-

زومبی کرونا سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن

گلوگل سرچ میں زومبی سے متعلق تلاش کے دوران اس قسم کے وائرس پر بنائی

گئی ہالی وڈ کی فلموں اور کارٹون پروگرامز کی بھر مار سامنے آئی، ان تمام

ویڈیوز میں ایک بات مشترک دیکھنے کو ملی کہ زومبی سے متاثرہ افراد کے

منہ کو انسانی خون کی لت پڑ جاتی ہے اور وہ ڈریکولا طرز پر ایک نشئی کی

طرح جھوم جھوم کر انسانوں کا خون پیتے ہیں، تاہم یہ ہرگز ضروری نہیں کہ

مستقبل قریب میں متعارف ہونے والے زومبی وائرس کی وباء سے متاثرہ انسان

بھی ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھائے گئے مناظر کی طرح سو فیصد ایکٹ کریں،

=-،-= نوٹ =-،-= دیکھیئے زُومبی وائرس پر بنی ایک فلم

مگر اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسکی تباہی ان فلمی مناظر

سے ملتی جلتی ضرور ہو گی، جس کی دلیل یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ نوول

کرونا وائرس وباء کی آمد سے کئی سال قبل اس وباء سے متعلق بھی کئی کارٹون

پروگرام اور فلمیں بنائی گئی تھیں، پھر کم و بیش دس برس پہلے اس موضوع پر

سیمینارز اور مباحثوں کا انعقاد شروع ہوا، اور اب بلکل اسی طرز پر زومبی

نامی وائرس کی باتیں شروع ہو چکی ہیں-

=-،-=فریضہ حج و قربانی بھی متاثرہونے کا خدشہ

یہ بات تو سو فیصد طے ہے کہ زومبی کی آمد کے نتیجے میں دنیا کو ایک مرتبہ

پھر لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے جیسے حفاظتی اقدامات (ایس او پیز) کا سامنا

کرنا پڑیگا، جبکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ یہ نئی وباء ماہ رمضان المبارک کے قریب

قریب متعارف ہو گی، جس کے بعد امت مسلمہ کیلئے فریضہ حج بیت اللہ ایک

مرتبہ پھر متاثر کیا جا سکتا ہے، جب کہ اس مرتبہ عالم اسلام کو یہ بھی پیش

نظر رکھنا ہو گا کہ عین ممکن ہے مویشیوں کو بھی زومبی سے متاثر قرار دے

کر قربانی کے فریضے کو معطل کرنے کی بھی کوشش کی جائے-

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ایک طرف جہاں اس خطے میں تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو

دوسری طرف جان لیوا اور معاشروں کو تباہ کرنے والی وباؤں کا سامنا ہے،

ویسے بھی 2023ء کا سال اپنے اندر کئی ایک اہم واقعات رونما ہونے کیساتھ

ساتھ دنیا میں اہم جغرافیائی تبدیلیوں کی پیشگوئیوں کا حامل ہے، دیکھنا یہ ہو گا

کہ ان حالات اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والے لوگ

کس طرح کی زندگی گزار گے، لیکن یہ بات طے ہے شیطانی طاقتیں کچھ بھی

کر لیں، اسلام کی دنیا میں سربلندی و غلبہ ہو کر رہنا ہے-

خبردار ہوشیار زُومبی جلد ، خبردار ہوشیار زُومبی جلد ، خبردار ہوشیار زُومبی جلد

خبردار ہوشیار زُومبی جلد ، خبردار ہوشیار زُومبی جلد ، خبردار ہوشیار زُومبی جلد

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply