خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم یا کم ہونی چاہیے،آل پاکستان چیمبر آف کامرس

Spread the love

پاکستان کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے لاہور چیمبر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں صنعت و تجارت کی اہمیت کو اجاگر کیا، اس کے مسائل حل کرنے پر زور دیااور معاشی بحالی و کاروباری آسانیوں کے لیے حکومت کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر نے اس اجلاس کی صدارت کی جبکہ سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل اور تمام چیمبرز کے صدور نے اس موقع پر خطاب کیا اور آئندہ بجٹ کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کیں ۔ مشترکہ اعلامیہ میں اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم یا کم ہونی چاہیے، حکومت خام مال پر سے ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرے تاکہ مقامی صنعت سمگلنگ چھٹکارا حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت او ر تجارت کے لئے ڈیوٹیز کے ریٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ سمال اور میڈیم صنعتی اداروں کو بھی ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں، ریفنڈ کی عدم ادائیگی سرمائے کی قلت کا سبب بن رہی ہے، پرومزری نوٹ کے ذریعے ریفنڈز کی ادائیگی کی سہولت زیرو ریٹڈ سمیت دیگر تمام سیکٹرز کو بھی میسر ہونی چاہیے اور ریفنڈز ساٹھ دن کے اندر خودبخود بغیر کسی درخواست اور آڈٹ کے جاری ہو جانا چاہیے۔ مارک اپ ریٹ میں اضافے سے قرضوں کے حصول مشکل ہو گیا ہے، اس میں فوری کمی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس پر چھوٹ صرف نئے صنعتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صنعتی توسیع کے منصوبوں پر بھی ملنی چاہیے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ کاروباری افراد کونئے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں مدد دینے کیلئے، اربن سینٹرز کے گردونواح کی کمرشل اور انڈسٹریل ری زوننگ کرے۔مقامی سرمایہ کاروں کو فائدہ دے کر ہی غیر ملکی سرمایہ کاروںکو دعوت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کاروبار رجسٹر کرانے کیلئے ایک ہی کمپنی رجسٹریشن آفس قائم کیا جائے، صوبائی اور وفاقی ٹیکسز کی وصولی کے لیے ایک ہی اتھارٹی ہونی چاہیے، مختلف ٹیکسز کو اکٹھا لر کے لئے ٹیکسز کی تعداد کم کر کے پانچ کر دی جائے، اس کے ساتھ ہی ایک سال میں ٹیکسز کی ادائیگیوں کی تعداد بھی کم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کا بھی آڈٹ اچانک نہیں ہونا چاہیے بلکہ کم از کم ایک ماہ قبل نوٹس بھیجا جائے۔ نئی رجسٹرڈ کمنپی خاص طور پر ایس ایم ایز کو تین سال کے لئے تمام ٹیکسز اور لیویز سے استثنیٰ دیا جانا چاہیے۔ گرین فیلڈز منصوبوں کی طرح صنعتوں کو بھی مشینری اور پلانٹ کی درآمد پر ٹیکسز استثنیٰ دیا جائے۔ جو چیزیں ملک میں تیار کی جاتی ہیں ان کی درآمد پر ٹیکسز میں کوئی رعایت نہ دی جائے۔ ٹیکس بیس میں اضافہ کے لئے ایس ایم ایز کی سطح پر ٹیکس فکس کر دیا جانا چاہیے۔20%یا زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کو آڈٹ سے استثنیٰ دینا چاہیے۔ جن کمرشل امپورٹر اور مینوفیکچررز کا ودہولڈنگ ٹیکس گذشتہ سال کے ٹیکس کے برابر ہو جائے ان کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ جاری ہونا چاہیے۔ صدر لاہور چیمبر الماس حیدر نے ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور عہدیداران کی آمد شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس مشترکہ اعلانیہ سے حکومت کو بہتر پالیسی فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس سے صدر لاہور چیمبر الماس حیدر سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر ، نائب صدر فہم الرحمن سہگل کے علاوہ ، صدر اٹک چیمبر شاہد زمان، صدر بہاولپور چیمبر مبشر حسین، سیکرٹری جنرل سید ابیر حیدر، صدر چکوال چیمبر ملک غلام مرتضیٰ، سابق صدر ڈیرہ غازی خان چیمبر زوالفقار علی، گجرات چیمبر، جھنگ چیمبر ، سیالکوٹ چیمبر ، گوجرانوالہ چیمبر ، فیصل آباد چیمبر ، وہاڑی چیمبر ، خانیوال چیمبراور جہلم چیمبر آف کامرس کے عہدیداران ، سینئر نائب صدر رحیم یار خان چیمبر خالد سلیم چوہدری ، صدر ساہیوال چیمبر راشد حمید، صدر سرگودھا چیمبر مرزا فضل الرحمن ، صدر راولپنڈی چیمبر شاہد سلیم، سابق سینئر نائب صدر صبور ملک، صدر شیخوپورہ چیمبر اعزاد سید، ممبر ملک منظور، صدر ہری پور چیمبر عطاءالرحمن ، سینئر نائب صدر کوہاٹ چیمبر محمد شاہد، صدر مردان چیمبر ظہیر شاہ،سرحد چیمبر، سوات چیمبر ، مہمند ایجنسی چیمبر ، لوئر دیر چیمبر ، ایبٹ آباد چیمبر ، خیبر چیمبر، لاڑکانہ چیمبر، میر پور چیمبر ، جام شورو چیمبر، شہید بینظیر چیمبر ، گلگت چیمبر، ہنزہ چیمبر کے عہدیداران اور اسلام آباد چیمبر کے صدر حمید حسن مغل نے بھی خطاب کیا۔

Leave a Reply