120

حکومت کی بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت،نواز شریف نے پھر انکار کر دیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے

بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ کابینہ

فیصلے کے مطابق نواز شریف یا شہباز شریف کو 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈ

جمع کرانا ہوں گے،وفاقی حکومت کسی بھی وقت اجازت نامہ جاری کردے گی،

باقی ان کی مرضی ہے ،نواز شریف کی طبیعت اگر ٹھیک نہ ہو تو قیام میں توسیع

کی درخواست دی جاسکتی ہے۔کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر

قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے وزری اعظم کے معاو ن خصوصی شہزاد اکبر کے

ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کئی گھنٹوں کے غور و خوض کے بعد

حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نواز شریف کی صحت کی خراب صورتحال

کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ نواز شریف کو

ایک بار کیلئے یہ اجازت دے رہی ہے کہ وہ بیرون ملک جائیں اور علاج کرائیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی اس بات سے مشروط

ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف 7 یا ساڑھے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ

جمع کرادیتے ہیں تو وہ باہر جاسکتے ہیں اور اس کا دورانیہ 4 ہفتے ہوگا جو قابل

توسیع ہے۔وزیر قانون نے کہاکہ وزارت داخلہ کے پاس ایک درخواست موصول

ہوئی تھی جس کے ساتھ نواز شریف کی صحت کے بارے میں شریف میڈیکل سٹی

کی تفصیلی رپورٹ بھی موجود تھی۔انہوںنے کہاکہ موصول رپورٹ پر پنجاب

حکومت کی تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے کراس چیک کرنے کے بعد ان کی

رپورٹ سے اتفاق کیا اور مزید تفصیلات طلب کیں۔انہوں نے کہا کہ 11 نومبر کو

وزارت داخلہ کے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی تھی اور اس ہی دن نوٹس

جاری کیا گیا، 12 تاریخ کو کابینہ کو بریفنگ دی اور انہیں ساری تفصیلات سے

آگاہ کیا۔وزیر قانون نے کہاکہ کابینہ کمیٹی کو نواز شریف کے صحت کے معاملے

پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد 25 سے 30 ہزار

ہیں اور انہیں ایک بار اسٹروک بھی آچکا ہے۔فروغ نسیم نے بتایا کہ میڈیکل

رپورٹس دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ نواز شریف کی صحت کو سنگین

مسائل لاحق ہیں، ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ اتنا گمبھیر ہے۔انہوں نے کہا کہ

جب یہ بات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی تو سب نے کہا کہ نواز شریف کو علاج

کے لیے باہر جانے کی اجازت دیں لیکن جو بات واضح طور پر سامنے آئی وہ یہ

تھی کہ یہ اجازت صرف ایک بار کیلئے ہوگی اور انہیں Indemnity Bond

(تاوان شرائط نامہ) جمع کرانا ہوگا۔فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام مکمل

کرلیا ہے، آرڈر تیار ہے جو کسی بھی وقت جاری کردیا جائیگا۔انہوں نے اس بات

کی وضاحت کی کہ اسے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے

نکال دیا گیا ہے، ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جارہا بلکہ طبی بنیادوں پر

صرف ایک بار کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔فروغ نسیم نے

بتایا کہ یہ اجازت صرف ایک بار کیلئے ہی ہوگی، حکومت نے اپنا فیصلہ کرلیا

ہے، اجازت نامہ کسی بھی وقت جاری کردیا جائے گا اور اب یہ مسلم لیگ ن پر

منحصر ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسے آگے لے کر چل سکتے ہیں؟انہوں نے کہا

کہ ایک سزا یافتہ شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ مختلف ہوتا ہے

یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ایک بار کیلئے اجازت دی گئی ہے۔فروغ نسیم نے کہا

کہ انڈیمنٹی بانڈ جمع کرانے پر ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ اس پر کارروائی

آگے بڑھائیں گے۔فروغ نسیم نے کہا کہ چند روز سے یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت

کس قانون کے تحت ضمانتی بانڈ مانگ رہی ہے یہ حکومت کا دائرہ اختیار نہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے ضمانتی بانڈ نہیں مانگے بلکہ انڈیمنٹی بانڈ

مانگ رہے ہیں اور یہ بانڈ 1987 کے قانون کے بعض سیکشنز کے تحت مانگے

جارہے ہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت نے فی الحال 4 ہفتوں کی اجازت دی ہے

لیکن اگر اللہ نہ کرے کہ ان کی صحت کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو ظاہر

ہے کہ نواز شریف اس مدت میں توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں۔وزیر قانون

نے کہا کہ اگر نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے اور وہ چار ہفتوں میں

واپس نہیں آتے تب انڈیمنٹی بانڈ نافذ العمل ہوگا اور اگر ان کی طبیعت بہتر نہیں

ہوتی تو انڈیمنٹی بانڈ اس طرح نافذ العمل نہیں ہوگا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران

خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں احساس ہے

کہ نوازشریف کی صحت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو علاج

مکمل کرکے واپس آنا ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے اجازت نامہ جاری کیا

جائیگا، ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ میگاکرپشن کیس ہے جس میں انہیں سزا

ہوچکی ہے، کچھ کیسزکی تحقیقات بھی چل رہی ہیں جن میں چوہدری شگر ملز

کیس شامل ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت کی ذمیداری ہے کہ نوازشریف کی

واپسی یقینی بنائے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف میڈیکل سٹی اورسرکاری بورڈ کی

سفارشات کا جائزہ لیا گیا، وفاقی حکومتی کی ذمیداری بنتی ہے کہ ضمانت لے،

وفاقی حکومت کی جانب سے ضمانت مانگنا سیاسی فائدے کے لیے نہیں، ہمیں

احساس ہے کہ نواز شریف کی صحت اچھی نہیں ہے، ۔شہزاد اکبر نے کہا کہ

ماضی میں کچھ لوگ گئے مگر واپس نہیں آئے، نوازشریف اور ان کی ٹیم کا

صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ مانتے ہیں یا نہیں، اگریہ ڈیل ہوتی تو لوگ راتوں رات

یہاں سے چلتے جاتے۔وفاقی کابینہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ

کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی مشروط منظوری دے چکی ہے اور

کابینہ کی ذیلی کمیٹی گزشتہ روز سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے

کے معاملے پر غور کررہی تھی۔ قبل ازیں کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نیب کوبدھ کی

صبح 10 بجے تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی اور اس کے لیے کابینہ

کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس صبح 10 بجے ہونا تھا تاہم کمیٹی کا اجلاس مقررہ وقت

پر شروع نہ ہوسکا جب کہ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے سیکریٹری

صحت پنجاب مومن آغا اور ڈاکٹر محمود ایاز کو واپس بھیج دیا گیا۔بعد ازاں کمیٹی

کا اجلاس فروغ نسیم کی سربراہی میں چار گھنٹے کی تاخیر سے دوپہر 2 بجے

شروع ہوا جو وزارت قانون کی بلڈنگ میں 5 بجے تک جاری رہا

مشروط اجازت

Leave a Reply