80

حکومت نے آزادی مارچ روکنے کی حکمت عملی تیارکرلی،450 کنٹینرز منگوا لئے گئے

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے

لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 245 کے

تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق

امن و امان کی صورتحال کے پیش نظرسرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر فوج

تعینات کرنے پر غوربھی کیا جارہا ہے جب کہ فوج طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت

داخلہ کرے گی۔دوسری طرف آزادی مارچ کو روکنے کیلئے پولیس نے حکمت

عملی تیار کرلی، سیکڑوں کنٹینرز منگوالیے میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس

افسران نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے 550 سے زائد شپنگ کنٹینرز کا مطالبہ کیا

ہے تاکہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔انہوں

نے بتایا کہ سٹی، صدر، انڈسٹریل ایریا اور رورل پولیس کے زونل سپرنٹنڈنٹس کی

جانب سے پولیس کے لاجسٹک ڈویژن سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔سٹی زون کی

جانب سے 250 کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر 3 زونز نے 100، 100

کنٹینر مانگے ہیں جس کے بعد محکمہ لاجسٹکس نے وینڈرز کو 450 کنٹینرز کا

انتظام کرنے کا کہہ دیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید

ضروریات کے لیے بھی وہ تیار رہیں۔افسران کے مطابق ہر کنٹینر کے یومیہ

کرائے کی مالیت 5 ہزار روپے سے زائد ہے۔اسلام آباد میں تقریباً 100 کنٹینرز ریڈ

زون کے اندر اور اطراف میں 10 مقامات کیلئے درکار ہوں گے، ان مقامات میں

پی ٹی وی چوک، ایوب چوک، آغا خان روڈ، شاہراہ دستور پرسیکریٹریٹ چوک

اور فرانس چوک، شاہراہ جمہوریت پر ریڈیو پاکستان چوک، خیابان سہروردی پر

سرینا چوک، مری روڈ اور مارگلہ روڈ پر کنوینشن سینٹر شامل ہیں۔انہوں نے کہا

کہ پولیس نے ایکسپریس وے کی فیض آباد سے کورل فلائی اوور تک دونوں

طرف سے جڑنے والی ہر سڑک کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ علاقہ

مظاہروں اور امن و امان کے دیگر مسائل کے دوران ان کے لیے واٹرلوو بن گیا

ہے۔افسران نے بتایا کہ روالپنڈی سے آئی۔جی پرنسل روڈ کے لیے جڑنے والی تمام

سڑکوں کو بھی سیل کیے جانے کا امکان ہے اور یہ اقدام مارچ میں شریک ہونے

والے یا دارالحکومت میں جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ لاجسٹک کے اسلحہ خانے میں ایک ہزار گیس ماسک،

200 آنسو گیس کے لانچر اور 13 ہزار شیل موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اگر

ضرورت ہوئی تو کافی لاٹھیاں، پلاسٹک ہیل میٹس، جیکٹس، شیلڈ، شن گارڈز اور

اسلحہ موجود ہے۔دوسری جانب افسران کے مطابق پولیس کی جانب سے مقامی

تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا

کے ساتھ کوئی کاروبار کیا تو قانون کارروائی کی جائیگی۔ان تاجروں میں کھانا

پکانے والی سروسز، ٹینٹ سروس، ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے خانے،

جنریٹرز، ورکشاپس، ہارڈویئر اسٹورز، ویلڈنگ ورکشاپس، ساؤنڈ سسٹم سروسز،

کھدائی کرنے والے اور کرین مالکان شامل ہیں۔

Leave a Reply