حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے کھل کر میدان میں آگئی

اسلام آباد ، لندن (سٹاف رپورٹر ) حکومت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے

کھل کر میدان میں آگئی۔ وفاقی حکومت نے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق خط

پنجاب حکومت کی سفارش اور مشاورت کے بعد لکھا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف سزا

یافتہ مجرم ہیں، علاج کی غرض سے انہیں باہر بھیجا گیا تھا لیکن نواز شریف کسی ہسپتال میں داخل

ہوئے نہ ہی علاج کروایا، برطانوی حکومت نواز شریف کو واپس پاکستان بھجوائے تاکہ وہ باقی سزا

مکمل کر سکیں۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت کی مدت 24 دسمبر 2019

کو ختم ہو چکی ہے۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی

تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر کو انہیں طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کی ضمانت دیتے

ہوئے اس میں توسیع پنجاب حکومت کا اختیا ر قرار دیا تھا۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے

اطلاعات و نشریات کا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میاں

محمد نواز شریف کو جس مقصد کے لیے لندن بھیجا وہ پورا نہیں کیا، ہم توچاہتے ہیں آپ کے

حوصلے بلند رہیں اورواپس آئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 105 دن گزر گئے لیکن سابق وزیراعظم

ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، جوسہولت دی گئی اسے غلط استعمال کیا گیا، رپورٹ اور چٹھی میں فرق

ہے، ہمیں اخلاقیات کا درس دینے والے بھائی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ 105دن ہو

گئے،ابھی تک رپورٹ نہیں بھیجی گئی۔ اپوزیشن لیڈر واقعی قانون کی حکمرانی پریقین رکھتے ہیں

توواپس آئیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جو خط لکھا ہے

اس میں پردیسی کو دیس میں لانے کے لیے کہا گیا ہے، خط کے جاری ہونے ہوتے ہی لندن سے آہ

بکا سنائی دی ظاہر ہوتا ہے لمبا بسترباندھ کرگئے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریض کے سہولت

کارکا بیان چل رہا ہے، نوازشریف اورسہولت کاراپوزیشن لیڈرسے درخواست کی گئی ہے مریض

وطن واپس آجائیں۔کرونا وائرس سے متعلق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ا?ج وفاقی کابینہ

کے اجلاس میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ گلگت کے اندر ایک اور کیس سامنے آیا

ہے، تعداد 5 ہو گئی ہے، ایسے افراد جو چین،ایران سیآئے ان کی تفصیلات سے کابینہ کوآگاہ کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ وزیرتوانائی

نے کابینہ کو بجلی کے شعبے سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا، کابینہ کوبجلی کے اضافی بلوں، بجلی

چوری، لائن لاسز اور گردشی قرضوں سے آگاہ کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا، کوئٹہ، اندرون سندھ

سمیت دیگر علاقوں میں بجلی بلوں کی ریکوری میں مسائل ہیں، بجلی چورمافیا کے ساتھ آہنی ہاتھوں

سے نمٹا جائے گا۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزیرکواس حوالے سے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سکولوں میں بچوں سے ناروا سلوک کا سخت نوٹس

لیا۔ حکومتی اصلاحات سے ادارے مستحکم ہو رہے ہیں، وزیراعظم کی عوام دوست پالیسیاں لوگوں

کی زندگیوں میں بہتری لارہی ہیں۔ حکومتی اصلاحات سے ادارے مستحکم ہورہے ہیں، وزیراعظم کی

عوام دوست پالیسیاں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لارہی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ

(ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کے حکومتی

اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ان کو قتل

کرنے کے مترادف ہے ناکام حکومت عوام کی نفرت سے بچنے کے لئے نوازشریف کی صحت سے

کھیل رہی ہے،حکومت کو خط لکھنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں، مکمل طور پر غیر اخلاقی و غیر

منطقی اقدام ہے حکومتی جلدبازی مجرمانہ اور مذموم ارادوں کو عیاں کرتی ہے اپنے ردعمل میں

انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 ہفتے کی ضمانت دی تھی اور اس

میں توسیع کے لیے حکومت سے رجوع کرنے کا کہا تھا عدالتی حکم تھا کہ حکومت کے کسی اقدام

پر دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں قانون کے تحت حکومت کو ایسا خط لکھنے کا کوئی اختیار

نہیں حکومت نے غیرقانونی اقدام اٹھایا ہے، عدالت سے رجوع کا حق استعمال کریں گے حکومتی اقدام

عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان سیاسی

انتقام اور ذاتی دشمنی میں اوچھی حرکتیں کر رہے ہیں نواز شریف عدالتی حکم پر تمام قانونی تقاضے

پورے کر کے علاج کیلئے بیرون ملک گئے وزیر صحت پنجاب اور سرکاری میڈیکل بورڈ کے

ڈاکٹرز کے دستخطوں سے تصدیق کی گئی کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج کیا جائے عدالتی

احکامات کے مطابق نواز شریف بیرون ملک علاج کے دوران تمام تقاضے باقاعدگی سے پورے کر

رہے ہیں ایسے اقدامات سے کرپٹ، نااہل اور عوام دشمن حکومت بیرون ملک پاکستان کی جگ ہنسائی

کا باعث بن رہی ہے۔ نواز شریف کی صحت پر حکومتی وزرا کے متضاد بیانات حکومتی بدنیتی کا

ثبوت ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: