parliament 0

حکومت اہم قانون سازی میں کامیاب، اپوزیشن کا احتجاج ، نعرے بازی

Spread the love

حکومت قانون سازی کامیاب

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات(الیکٹرونگ

ووٹنگ مشین)،عالمی عدالت انصاف،مسلم عائلی قوانین،سٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی)ترمیمی بل

سمیت33بل کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے ۔حکومت نے ایوان میں عددی اکثریت ثابت کرنے

کے بعد ضمنی ایجنڈے میں مزید5بل شامل کئے۔اپوزیشن کی جانب سے وائس ووٹنگ کو چیلنج کرنے

کے بعد انتخابی اصلاحات بل کے حق میں221حکومتی و ا تحادی ارکان نے جبکہ مخالفت

میں203متحدہ اپوزیشن ارکان نے ووٹ دیا،الیکشن بل پر اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

انتخابی اصلاحات بل کے مطابق پاکستانی تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے لیے الیکشن کمیشن،

نادرااور دیگر ایجنسیز کی تکنیکی معاونت حاصل کرسکے گا،الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی

ایم)کی خریداری بھی کی جاسکے گی۔اپوزیشن نے گنتی کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے

ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا،اہم اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں متعدد بار ہاتھا

پائی ہوتے ہوتے رہ گئی ،اپوزیشن ارکان نے گنتی کے عمل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سپیکر ڈائس

کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی کی،اپوزیشن ارکان نے دھاندلی، دھاندلی ، ووٹ چور ،لاٹھی گولی کی

سرکار نہیں چلے گی ، کلبھوشن کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے، ، سپیکر کو آزاد کرو ،ڈونکی

راجہ،چرسی بھنگی ،جادو ٹونہ ،پنکی پیرنی کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے لگائے ، ایجنڈے کی

کاپیاں پھاڑ یں اور سپیکر کی طرف اچھال دیں ۔بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی

اسمبلی اسد قیصر کے زیر صدارت مقرر وقت سے ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔پارلیمنٹ

کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ہی مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل پر

ووٹنگ موخر کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی

ہے، اس لیے اسے فی الحال موخر کردیا جائے۔اجلاس میں سب سے پہلے قائد حزب اختلاف شہباز

شریف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انتہائی اہم دن ہے میں اس ایوان

میں آج جو حکومت اور اس کے اتحادی بلڈوز کرا کر پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑانا چاہتے ہیں

اس کا بوجھ سپیکر اور معزز ایوان کے کاندھوں پر ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل رات کے

اندھیرے میں بتایا گیا کہ اگلی صبح پارلیمان کا اجلاس ہوگا اور پھر جب عمران خان کے عشایئے

سے پی ٹی آئی کے درجنوں اراکین غیر حاضر اور اتحادی انکاری تھے تو یکایک اجلاس

موخرکردیا گیا اور حکومتی وزرا نے کہا کہ ہمیں متحدہ اپوزیشن سے مشورہ کرنا ہے۔جس کے بعد

مجھے آپ کا خط موصول ہوا جس پر پورے اپوزیشن اتحاد نے غور کر کے جامع جواب دیا جس میں

بہترین تجاویز دی گئیں لیکن اسپیکر نے پھر اپوزیشن سے اپنا رابطہ منقطع کرلیا، ہمیں کوئی جواب نہ

ملا۔شہباز شریف نے کہا کہ اس سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل پر نہ ہم سے مشاورت کی گئی نہ آئندہ

کا لائحہ عمل بتایا گیا، یہ ڈھکوسلہ تھا اور وقت حاصل کرنے کا حربہ تھا تا کہ کسی طرح ووٹس کی

تعداد پوری کی جائے اور اتحادیوں کو راضی کیا جائے وربہ آپ کا مشاورت کا دور دور تک کوئی

واسطہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد اگر دھاندھلی ہوئی ہو تو اس کا شور ہوتا ہے لیکن

یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن سے پہلے نہ صرف یہ ایوان بلکہ 22کروڑ عوام دھاندلی کا شور کررہی

ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یہ جانتے ہیں کہ اب انہیں عوام سے ووٹ ملنا محال ہے لہذا کوشش

یہ ہے کہ یہ سیلیکٹڈ حکومت مشین کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دے سکے، کیوں کہ یہ ووٹ کے

لیے نہیں جاسکتے۔صدر مسلم لیگ (ن)نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز(ای وی ایم)کو ایول اینڈ ویشیئز

مشین یعنی شیطانی مشین قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس پر تکیہ کیے بیٹھی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ

انہی انتخابی اصلاحات پر نواز شریف کے دور میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں تمام پارلیمانی

جماعتوں کو نمائندگی دی گئی اور اس کے 117 اجلاس ہوئے جبکہ آپ کی بنائی گئی کمیٹی کا ایک

اجلاس جون میں ہوا ایک اگست میں اور ایک ستمبر میں ہوا اور پھر بات ختم ہوگئی۔انہوں نے مزید

کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی پارلیمان کو آگ لگانے کی باتیں کرتی تھی اس کے باوجود ان کی نمائندگی

بھی اس کمیٹی میں تھی اور متفقہ طور پر مشاورت کے ساتھ انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پوری دنیا کے 167ممالک میں صرف 8ممالک ای وی ایم کا استعمال کرتے

ہیں جبکہ 9نے اسے تائب ہو کر اسے مسترد کردیا جس میں جرمنی بھی شامل ہے حالانکہوہہم سے

ٹیکنالوجی میں کہیں آگے ہیں۔شہباز شریف نے آج حکومت کی نیت کھوٹی ہے اس میں فتور ہے اس

لیے یہ کالے قوانین منظور کرانا چاہتے ہیں جس کی اجازت نہ آپ اور نہ یہ ایوان دے گا ورنہ ان

کاگریبان ہوگا اور 22کروڑ عوام کا ہاتھ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کو انا یا

ضد کی بنا پر مسترد نہیں کیا بلکہ قانون، آئین اور مکمل ٹھوس دلائل کی بنیاد پر مسترد کیا ۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا قانون سازی کا ایک طریقہ کار ہے، ہم نے ہر طریقے پر عمل

کیا ہے، اراکین کے سوالات تھے، ہم نے انہیں دلائل دے کر قائل کیا اور اس ہی وجہ سے اراکین

حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ای وی ایم مشین کو ایول ویشس مشین

قرار دیا گیا، یہ ایول ویشس سوچ کو دفن کرنے کے لیے لائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ ہم

تاریخی غلطی کرنے جارہے ہیں، میں کہوں گا کہ اپوزیشن تاریخی قانون سازی کے خلاف کھڑے

ہوکر تاریخی غلطی کرنے جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کہتی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو

ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں مگر اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں، یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ ان کے

ڈالر قبول ہے مگر ووٹ نہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر آج ایوان اس بل کو منظور کرتا ہے تو

اوور سیز پاکستانیوں کو ان کا حق مل کر رہے گا۔۔بلاول بھٹو کو مائیک نہ دینے پر اپوزیشن نے

احتجاج کیا اور مائیک دینے کا مطالبہ کیا۔ پی پی رکن قادر مندوخیل کی اسپیکر سے تلخ کلامی ہوئی

اور اسپیکر ڈائس پر نامناسب گفتگو کی۔ اسد قیصر غصے میں آگئے اور بولے کہ آپ تمیز سے رہیں

ورنہ میں باہر نکلوادوں گا، آپ کی کیا اوقات ہے، میں بلاول کو موقع دے رہا تھا پھر یہ بدتمیزی کیوں

کی، میں آپ کو معطل کردوں گا۔ اسپیکر اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو مائیک دیتے ہوئے کہا کہ بلاول

صاحب آپ کے رکن کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ اسپیکر ڈائس کے سامنے سارجنٹ ایٹ آرمز نے

سیکیورٹی سنبھال لی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں خطاب کرتے

ہوئے کہا کہ ہم آپ کے عہدے اور اس پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، آپ بھی اپنے عہدے کا احترام

کریں، اپنی زبان کا پاس رکھیں، اسد قیصر زبان نہیں دیتے بلکہ اس ایوان کے سرپرست زبان دیتے

ہیں، آپ نے تحریری طور پر یقین دہانی کروائی اور انتخابی اصلاحات پراتفاق رائے کا کہا گیا، عوام

کو دھوکہ دینے میں اسپیکر کا دفتر کو استعمال نہیں ہونا چاہیے۔حکومت نے پہلے آرڈیننس کے

ذریعے یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات لانے کی کوشش کی اور آج بلڈوز کرکے اصلاحات منظور

کرانا چاہتے ہیں، اگریہ قانون منظور کیا گیا تو ہم آج سے اگلے الیکشن نہیں مانتے،اس طریقے اور

انداز سے حکومت نے یکطرفہ انتخابی اصلاحات کی کوشش کی یہ ملک کی تاریخ میں نہیں ہوا، اس

ایوان سے یہ انتخابی اصلاحات کا بل زبردستی منظور کرانا چاہتے ہیں،اس سے قبل مسلم لیگ(ن)کی

حکومت میں انتخابی اصلاحات ہوئیں ،انکے پاس دو تہائی اکثریت تھی اس کے باوجود انہوں نے اتفاق

رائے پیدا کیا اگر وہ اکثریت کے بل بوتے پر اصلاحات کرتے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے مگر

انہوں نے پھر بھی اتفاق رائے پیدا کیا،ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہیں مانتے، آپ الیکشن

کمیشن کا اختیار نادرا کو دینا چاہتے ہیں ، ہم الیکشن کمیشن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، الیکشن کمیشن

کے تحفظات ہمارے تحفظات ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت زبردستی ای وی ایم لانا چاہتی ہے،

اسپیکر اپنے عہدے کی عزت کریں اور اپنی بات پر قائم رہیں، جلدی کیا ہے، ہم آج سے مل کر بیٹھتے

ہیں، آپ ہمارے اعتراضات کے باوجود قوانین منظور کروارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی

اصلاحات کے متنازع قوانین کے خلاف عدالت میں جائیں گے، ایسا نہیں ہوسکتا ووٹ پیرس میں ڈلے

اور نتیجہ ملتان کا ہو۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت پیٹرول اور گیس کی قیمت کم کرے،

ہم اس کا ساتھ دیں گے،آپ گیس اور پیٹرول کی قیمت کم کریں ہم ساتھ دیں گے مگر کلبھوشن یادیو کو

ریلیف دینے پر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو پارلیمان سے بالاتر ہو،آپ نے

بھارتی جاسوس کو رات کے اندھیرے میں آرڈیننس کے تحت این آر او دیاتاہم بھارتی ایجنٹ نے اسے

قبول کرنے سے انکار کردیا تھا،یہ پارلیمان کی توہین ہے۔آپ پاکستان کی پارلیمان کی توہین کر رہے

ہیں، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے ماتحت دینا چاہتے ہیں، نئی قانون سازی کے تحت اسٹیٹ بینک

پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی سپریم کورٹ اس سے پوچھ سکے گا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں

گے۔ انہوں نے کہا کہ قوم اس وقت سیاستدانوں کی طرف دیکھ رہی ہے، اپوزیشن ایوان کے اندر باہر

اور عدالتوں میں یہ قانون چیلنج کرے گی اور ایسے ہونے والی قانون سازی کو عدالت میں شکست

دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ مردم شماری سندھ، بلوچستان کے حق پر ڈاکا ہے، بہت ضروری

ہے اس ہاؤس میں مردم شماری پر سنجیدہ بحث ہو۔جے یو آئی(ف)کے اسعد محمود نے کہا کہ ملک

میں افراتفری اور ہنگاموں کی بنیاد ڈالی جارہی ہے ، اگر یکطرفہ قانون سازی ہوتی ہے اور اس بنیاد

پر افراتفری ہوگی تو اس کی ذمہ داری آپ پر اور حکومت و سپورٹرز پر ہوگی ، انتخابی نتائج پر

ہمیشہ دنیا میں سوال اٹھتے ہیں، ہم متحمل نہیں ہوسکتے کہ جیسے پہلے ملک دو لخت ہوا ، پھر

افراتفری ہو ۔اس کے بعد ایوان میں قانون سازی کا عمل شروع ہوا ۔اس موقع پر مشیر پارلیمانی امور

ڈاکٹر بابر اعوان نے انتخابی اصلات بل پیش کیا،جس سپیکر اسد قیصر نے ووٹنگ کرانے لگے تو

بلاول بھٹو زرداری نے اعتراض کیا اور کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت پارلیمان میں معاون

خصوصی بل پیش نہیں کر سکتا جبکہ رولز کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کسی بھی بل

کی منظوری کیلئے حکومت کو دونوں ایوانوں میں ارکان کی مجموعی تعداد کی اکثریت درکار ہو گی

،جیسا کہ اس وقت مجموعی تعداد 442ہے (342ارکان قومی اسمبلی،100ارکان سینیٹ) اسلئے

حکومت کو بل منظور کروانے کیلئے222ارکان شو کرنے ہونگے ،جس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا

کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر میں رولنگ دے چکا ہوں جبکہ آئین کے تحت مشترکہ اجلاس میں

222ارکان کی بجائے ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت سے بل منظور کیا جا سکتا ہے،رولز آئین

سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔سپیکر نے ایوان میں انتخابی اصلاحات بل پروائس ووٹنگ کرائی اور بل

پیش کرنے کی تحریک منظور کر لی اس موقر پر اپوزیشن نے وائس ووٹنگ کو چیلنج کیا جس پر

سپیکر نے تحریک پر کھڑے ہو کر ووٹنگ کی حکم دیا جس پر تحریک کے حق میں حکومت اور

اتحادی جماعتوں کے221ارکان نے ووٹ دیا جبکہ تحریک کی مخالفت متحدہ اپوزیشن کے203ارکان

نے ووٹ دیا ،جس پر ایک بار پھر اپوزیشن نے اعتراض کیا اور کہا کہ گنتی کا عمل شفاف طریقے

سے نہیں کی گئی،اسلئے دوبارہ گنتی کی جائے،مگر سپیکر اسد قیصر نے بل پیش کرنے کی تحریک

منظور کر لی اور بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا ،شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن

نے ایک بار پھر وائس ووٹنگ کو مسترد کر دیا جس پر سپیکر نے ارکان کو کھڑے ہو کر ووٹ دینے

کا حکم دیا ۔گنتی کے دوران مسلم لیگ(ن)کے مرتضیٰ جاوید عباسی اور پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل

بھی اسمبلی سٹاف کے ہمراہ گنتی شروع کر دی ،اس دوران وفاقی وزراء مراد سعید اور شبلی فراز

نے احتجاج کیا اور انکی اپوزیشن ارکان کیساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی،حکومتی رکن عامر لیاقت گنتی

کے دوران اپنی نشست پر نہ ہونے کی وجہ سے مرتضیٰ جاوید عباسی سے تلخ کلامی بھی ہوئی

،اپوزیشن ارکان نے سپیکر اسد قیصر کی توجہ مشیر احتساب شہزاد اکبر کی طرف دلائی جو ووٹنگ

کے دوران اپنی نشست پر کھڑے تھے جس پر سپیکر اسد قیصر نے انہیں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے

اور اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔گنتی کا عمل جاری تھا کہ اس دوران اپوزیشن ارکان سپیکر

ڈائس کے سامنے پہنچ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باعث

سارجنٹ ایٹ آرمز اور حکومتی اراکین نے وزیر اعظم کے گرد گھیرابنا لیا۔ شہباز شریف اپنی نشست

سے اٹھ کر تھوڑا دور جا کر شاہد خاقان عباسی کے پاس بیٹھ گئے۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کا

گھیراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کی ۔اپوزیشن ارکان نے ووٹ پر ڈاکہ نہ منظور، کلببھوشن کا جو یار

ہے غدار ہے بغدار ہے ،ایک ٹکے کے چار نیازی گو نیازی گو نیازی ، اسپیکر کو آزاد کرو ، مک گیا

تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی ،ڈونکی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی ،چرسی بھنگی کی سرکار

نہیں چلے گی ،جادو ٹونہ کی سرکار نہیں چلے گی،پنکی پیرنی کی سرکار نہیں چلے گی، آٹا چور

چینی چورو جان چھوڑ کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن کے احتجاج اور گنتی کا عمل مکمل نہ ہونے پر

سپیکر برہم ہو گئے اور سٹاف کو ہدایت کہ کی آپ کسی کی بات مت سنیں اور اپنا کام جلدی مکمل

کریں۔سپیکر اسد قیصر نے گنتی مکمل نہ ہونے اور اپوزیشن کے مسلسل احتجاج پر حکم دیا کہ 2منٹ

کے اندر اپوزیشن ارکان ایوان کے ایک طرف اور حکومتی ارکان ایوان کی دوسری طرف بیٹھ جائیں

ورنا میں وائس ووٹنگ دوبارہ شروع کر دؤں گا۔سپیکر کے حکم کے باوجود اپوزیشن نے احتجاج

جاری رکھا جس پر سپیکر اسد قیصر نے وائس ووٹنگ شروع کر دی جس پر اپوزیشن کے احتجاج

میں شدت آگئی،اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے اور بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں اور سپیکر کی جانب

اچھالیں،مسلم لیگ(ن)کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایجنڈے کی کاپیاں سپیکر اسد قیصر کی طرف

اچھالیں جس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آپ ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر رہے ہیں ،اپکی یہ اخلاقیات

ہیں؟ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری سپیکر اسد

قیصر کی ڈائس کے پاس گئے اور وائس ووٹنگ کی بجائے ایوان کی ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کا

مطالبہ کیا مگر سپیکر اسد قیصر نے انکا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ،اس موقع پر اپوزیشن

ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے،جس پر حکومتی ارکان نے بھاگ گئے بھاگئے کے نعرے لگائے۔

اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔اس موقع پر ایوان کی کثرت رائے

نے ’’انتخابات ترمیم دوم بل 2021‘‘کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ۔اس بل کے مطابق

پاکستانی تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے لیے الیکشن کمیشن، نیشنل رجسٹریشن اینڈ ڈیٹا بیس

اتھارٹی (نادرا) اور دیگر ایجنسیز کی تکنیکی معاونت حاصل کرسکے گا۔اس بل کے مطابق الیکٹرانک

ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم)کی خریداری بھی کی جاسکے گی۔مشترکہ اجلاس میں دیگر منظور ہونے

والے بلوں میں عالمی عدالت انصاف(نظر ثانی وغور مقرر)بل2021،علاقہ دارالحکومت اسلا م آباد

میں رفاعی اداروں کی رجسٹریشن ، انضباط اور سہولت کاری کابل 2021،ایس بی پی بینکنگ سروسز

کارپوریشن ترمیمی بل 2021،نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹوٹ بل 2021،مسلم عائلی قوانین ترمیمی

بل2021(دفعہ4میں ترمیم،مسلم عائلی قوانین ترمیمی بل2021 دفعہ سات میں ترمیم ،انسداد زنا بالجبر

تحقیقات وسماعت بل2021، حیدرآباد انسٹیٹوٹ برائے ٹیکنیکل ومنیجمنٹ سائنسز2021، اسلام آباد

تحدید کرایہ ترمیمی بل 2021،خواتین اور بچوں کی نسبت زنا بالجبر اور جنسی زیادتی کے سراعیت

کردہ معاملات کا موثر حل نکالنے کا بل فوجداری قانون بل 2021،کاروباری تعمیر نو کمپنیات ترمیم

بل2021،مالیاتی ادارے ،محفوظ ٹرانزکشنز ترمیمی بل2021،فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی

توثیق بل 2021،اسلام آباد یونیورسٹی بل 2021،قرضہ جات برائے زرعی ، تجارتی وصنعتی اغراض

ترمیمی بل 2021،کمپنیات ترمیمی بل2021،قومی کمیشن برائے پیشہ ورانہ وتکینیکی تربیت ترمیمی

بل2021،پاکستان اکادمی ادبیات ترمیمی بل 2021،پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل 2021،پاکستان قومی

جہاز رانی کارپوریشن ترمیمی بل 2021،گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2021،میری ٹائم سیکیورٹی

ایجنسی ترمیمی بل 2021،امیگریشن ترمیمی بل 2021،نجکاری کمیشن ترمیمی بل

2021،کووڈ19امتناع ذخیرہ اندوزی بل 2021،الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ بل 2021،علاقہ دارالحکومت

اسلام آباد امتناع جسمانی سزا بل 2021،تحفظ خوارک علاقہ دارالحکومت اسلام آباد بل2021،یونانی

ایورویدک اور ہیومیو پیتھک پریکٹیشنزر)ترمیمی بل 2021،انسداد بدعنوانی بل 2021،صوبائی موٹر

گاڑیاں ترمیمی بل 2021 اوربرقی توانائی کی پیداوار ،ترسیل و تقسیم کے انضباط کا ترمیمی بل 2021

شامل ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے سکندرمیندھرو،نویدقمر،یوسف تالپورغیرحاضر،علی وزیر،اخترمینگل بھی

غیر حاضر ارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن اپنے ارکان پورے کرنے میں ایک بارپھرناکام

ہو گئی، پیپلزپارٹی کے سکندرمیندھرو،نویدقمر،یوسف تالپورغیرحاضر،علی وزیر،اخترمینگل بھی

ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے ۔

حکومت قانون سازی کامیاب

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply