حکومت جولائی تک 1900 ارب روپے کا مزید قرضہ لے گی، وزارت خزانہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت رواں سال

جولائی تک 1900 ارب روپے کا مزید قرضہ لے گی۔وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں

پیش کردہ دستاویزات میں اس بارے میں تفصیلات پیش کی گئیں کہ حکومت کو 2023ء تک کتنا

اندرونی و بیرونی قرضہ واپس کرنا ہے ؟وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کو 2023ء تک 2

اعشاریہ 28 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کو سال

2023ء تک 12261 ارب روپے اندرونی قرض واپس کرنا ہے جبکہ وفاقی حکومت کے ذمے

صوبائی حکومتوں کا کوئی قرض نہیں ہے۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزمیں انکشاف کیا گیا

کہ موجودہ حکومت رواں سال جولائی تک 1900 ارب روپے کا مزید قرضہ لے گی۔وزارت خزانہ

کے مطابق حکومت اندرونی طور پر 800 ارب روپے کا قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ

بیرونی طور پر 1100 ارب روپے کا قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔دستاویز کے مطابق حکومت

اپنی آئینی مدت میں 12261 ارب روپے ملکی قرضہ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ حکومت

اپنی آئینی مدت میں 2 اعشاریہ 28 ارب ڈالر بیرونی قرضہ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔دوسری

طرفمعاشی درجہ بندی کرنے والے ادارے موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکومتی

قرض گیری کے سبب نجی شعبے کو قرض نہیں مل ریا۔موڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی

بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم ہے جس کی وجہ ڈپازٹس اور حکومتی قرض گیری ہے۔موڈیز کے مطابق

ریاست کے قرض لینے کی صلاحیت بہتر ہونے کا فائدہ بینکوں کو ہوا ہے مگر بینکوں کا منافع

بہتری کے باوجود تاریخی سطح سے کم رہے گا اور بینکوں کے سرمائے کی صورتحال برقرار رہے

گی۔موڈیز نے کہا کہ اگرچہ شرح سود 13.25فیصد ہے لیکن حکومتی قرض گیری کے سبب نجی

شعبے کو قرض نہیں مل رہا ہے ایسے میں معاشی نمو کم ہونے کے باوجود شرح سود کئی سال تک

کم نہ ہونے کے مارکیٹ اندازے ہیں۔موڈیز کی رپورٹ کے مطابق بینکوں کی حکومتی تمسکات میں

سرمایہ اپنے اثاثوں کے 40 فیصد کے مترادف ہے جب کہ مستحکم ڈپازٹس اور لیکوڈٹی سے بینکوں

کو سستے ڈپازٹس کی وافر دستیابی ہے۔موڈیز نے بتایا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے تجارتی ٹرمز

بہتر ہوں گے اور معاشی سرگرمیاں، ترقیاتی منصوبوں، امن وامان اور بجلی کے سبب بہتر رہیں گی۔

رپورٹ کے مطابق ادارہ حکومت اہمیت کے حامل بینکوں کی معاونت کرے گا۔موڈیز نے مزید کہا کہ

مشکلات ہیں اس کے باوجود بینکوں کا کاروبار بہتر ہو رہا ہے لیکن حکومتی ریٹنگ اس کی

صلاحیت کم ہونے کی عکاس ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: