فرانسیسی سفیر ملک بدری

حکومت انتخابی اصلاحات سمیت 07 بل پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیجنے میں کامیاب

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) حکومت انتخابی اصلاحات بل

حکومت انتخابی اصلاحات ( الیکٹرونگ ووٹنگ مشین ) انسداد زنا بالجبر،بھارتی

جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف سمیت 7 بل مشترکہ

اجلاس میں بھیجنے میں کا میاب ہو گئی،قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے تمام

بلوں کو منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کی

تحاریک کی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔اپوزیشن کے تحاریک کو مسترد

کروانے کیلئے تمام حربے ناکام رہے، اپوزیشن کی جانب سے بلوں کو مشترکہ

اجلاس میں بھیجنے کیخلاف شدید احتجاج اور واک آؤٹ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن نے

کورم کی نشاندہی بھی کی مگر ناکام رہی ۔ اپوزیشن رہنماؤں خواجہ محمدآصف،

سید نوید قمر اور مولانا اسعد محمود نے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق

متنازعہ قانون سازی کے ذریعے ملک میں ہنگاموں اور افراتفری کی بنیاد رکھی

جارہی ہے ،الیکشن کمیشن کو بھی متنازع بنایا جارہا ہے،حکومت زبردستی

انتخابی اصلاحات کر کے جھگڑے اور دھاندلی کا کام ابھی سے شروع کرنا

چاہتی ہے، اس صورتحال میں سپیکر صاحب آپ نے کارروائی نہ کی تو ہم اس

ایوان کی کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہوں گے،

حکومت کنٹونمنٹس کے الیکشن میں صرف 26، 27فیصد ووٹ لے سکی ہے ان

کے خدشات ہیں کہ آنے والے والے الیکشن اگر صاف شفاف ہوئے تو اپوزیشن

جیت جائے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت

میں ہوا ، اجلاس کے دوران وزیر قانون فروغ نسیم نے انتخابات ترمیمی بل

2021 کوغور اور منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے

کی تحریک پیش کی ، جس کی اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کی گئی ۔ مسلم

لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈرخواجہ آصف نے کہا کہ اس مسئلے پر اسپیکر کے

چیمبر میں میٹنگز ہوئیں ،میری اطلاع کے مطابق ا تفاق رائے بھی ہوا تھا،

خواجہ آصف نے کہا کہ جو ترامیم تجویز کی جارہی ہیں وہ آج سے ہی پری پول

دھاندلی کے انتظامات کیئے جارہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں شفاف اور منصفانہ

انتخابات ہوں جس میں ووٹ کی عزت کی جائے، خواجہ آصف نے کہا کہ یہ

اپوزیشن کا مسئلہ نہیں ،سرکاری پارٹی کا بھی مسئلہ ہے اور سب کامسئلہ

ہے، سپیکر کے ساتھ میٹنگ میں اتفاق کیا گیا کمیٹی تشکیل دی جائے گی، کمیٹی

میں پارلیمنٹ کی ہر جماعت کی نمائندگی ہو گی ، پہلے ہی سپیشل کمیٹی آپ

تشکیل دے چکے ہیں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کنٹونمنٹس کے الیکشن

میں صرف 26، 27فیصد ووٹ لے سکی ہے ان کے خدشات ہیں کہ آنے والے

والے الیکشن اگر صاف شفاف ہوئے تو اپوزیشن جیت جائے گی ،آج سے دھاندلی

کی اس ایوان سے بنیاد رکھی جا رہی ہے، آج اس کو اس طرح پاس کرانے کی

کوشش کہ مشترکہ اجلاس کو بھیجا جائے تو آج سے جھگڑا دھاندلی کا شروع ہو

چکا ہے، اس صورتحال میں اگر آپ نے یہ کاروائی کرنی چاہی تو ہم اس ایوان

کی کاروائی کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہوں گے۔ وفاقی

وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف غلط بیانی

کر رہے ہیں 70کے بعد جو الیکشن ہوا اس میں جو ہارا ہے اس نے کہا ہے

دھاندلی ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء نوید قمر نے کہا کہ حکومت

اور اپوزیشن میں ایک بہت بڑا خلاء ہے، اپوزیشن کی طرف سے ہر ممکن

کوشش کی گئی کہ ایسا ماحول ہو کہ ساری چیز کو بیٹھ کر سلجھایا جائے کہ

آئندہ الیکشن متنازع نہ ہوں، انہوں نے کہا کہ اس کا سافٹ ویئر کون سرٹیفائیڈ

کرے گا کہ سافٹ ویئر 100 فیصد صحیح ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے

رہنماء مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی اس کمیٹی کی رپورٹ

نہیں آئی اور اس سے پہلے پھر ازسر نو یہ چیز پارلیمنٹ میں آگئی، گزشتہ

انتخابات میں دھاندلی ہوئی، اس دھاندلی کے خلاف تین سال تحریک چلی ، اب

تک تحریک جاری ہے، یہ حکومت جعلی ہے اس کا مینڈیٹ جعلی ہے، اس طرح

کی متنازعہ قانون سازی کو روکیں ، یہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو

یہاں پر اقدام کیا جارہا ہے یہ ملک میں ہنگاموں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے،

افراتفری کی بنیاد رکھی جارہی ہے ،الیکشن کمیشن کو بھی متنازعہ بنایا

جارہا ہے، اس موقع پرسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر قانون فروغ نسیم کو بات

کرنے کا موقع دیا ،فروغ نسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے حتجاجا واک

آؤٹ کر دیا جبکہ رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کورم کی نشاندہی کر دی، گنتی

کرانے پر کورم پورا نکلا جس کے بعد فروغ نسیم کی جانب سے پیش کی گئی

تحریک پر رائے شماری کرائی گئی اور تحریک منظور کر لی گئی، اس کے بعد

،مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابات ( انتخابات ترمیم دوم ) بل2021ء

جبکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف ( نظر ثانی و غور مکرر)

بل 2021ء، انسداد زنا بالجبر ( تفتیش و سماعت) بل2021ء اور فوجداری قانون (

ترمیمی) بل2021ء غور اور منظوری کے لئے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے

کی تحاریک پیش کیں جنہیں رائے شماری کے بعد منظور کرلیا گیا ، وفاقی وزیر

تعلیم شفقت محمود نے قومی پیشہ ورانہ و تکینیکی و تربیتی کمیشن ( کمیشن)بل

2021 اور حیدر آباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز بل کو غور اور

منظوری کے لئے مشترکہ اجلاس کے سپر د کرنے کی تحریک پیش کی جسے

منظور کر لیا گیا۔

حکومت انتخابی اصلاحات بل ، حکومت انتخابی اصلاحات بل

حکومت انتخابی اصلاحات بل ، حکومت انتخابی اصلاحات بل

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply