mqm pti flags 314

حکومتی ٹیم متحدہ کو منانے میں ناکام

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی(سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں تحریک انصاف کے وفد نے بہادرآباد میں ایم کیوایم کی قیادت سے

ملاقات کی، متحدہ نے شکایتوںکے انبار لگا دیئے. اسد عمر نے کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی

کروا دی تاہم کنوینر متحدہ وزارت سے علیحدگی کے فیصلے پر قائم رہے، ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ حکومت زبانی دعووں کی بجائے

وعدوں پر عمل کرے خصوصا بلدیاتی اداروں کو فنڈز کی حتمی تاریخ دی جائے۔اسد عمر نے کراچی سے متعلق متحدہ کے مطالبات کو

جائز مانتے ہوئے انہیں پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی، پی ٹی آئی کے وفد میں گورنرسندھ عمران اسماعیل سمیت دیگر پارٹی رہنما شامل

تھے۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی اور متحدہ رہنماوں نے مشترکہ کانفرنس سے خطاب کیا، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ فروری کے پہلے

ہفتے وزیراعظم عمران خان کراچی کے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ کراچی کیلئے بڑے ترقیاتی منصوبوں

پر جلد کام شروع ہوگا۔اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ خالد مقبول کابینہ کا حصہ رہیں لیکن وہ اب بھی اپنے فیصلے

پر قائم ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں پر جلد کام شروع ہوجائے گا، اتفاق ہے کراچی کے لیے مل کر کام کریں گے، کراچی

والوں کو حقوق نہیں ملے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ کراچی کے لیے 162 ارب کے منصوبے ہوں گے، ایک ایک منصوبوں پر بریفنگ دوں

گا۔گورنر سندھ کی تبدیلی کے سوال پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ گورنر کی تبدیلی کی افواہ بھی نہیں سنی، گورنر عمران اسماعیل زبردست کام

کررہے ہیں، ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔اتحادیوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے سوال پر اسد عمر نے کہا کہ جب اسمبلی میں ووٹ

آتے ہیں جب ٹیسٹ ہوتا ہے، ابھی تک کوئی ایسا مرحلہ نہیں آیا جہاں ہمیں ووٹ کی کمی ہوئی، فی الحال ووٹ بڑھتے نظر آرہے ہیں کم

نہیں۔ؑ ایم کیوایم پاکستان کے تحفظات کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر اسد عمرنے رابطہ کیا۔ وزیر منصوبہ بندی نے

وزیر اعظم کو ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات بارے آگاہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی

کے ارکان کا اجلاس (آج)منگل کو بلا لیا ۔اجلاس میں اتحادی جماعتوں سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔ اجلاس میں

جہانگیر ترین، اسد عمر ، پرویز خٹک، عمران اسماعیل اور شہزاد ارباب شرکت کریں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اسد عمر اجلاس کے

شرکاکو ایم کیو ایم سے ملاقات بارے آگاہ کریں گے، حکومتی کمیٹی دوبارہ ایم کیوایم قیادت سے ملاقات کرے گی،، گورنر ہاوس سندھ میں

کراچی بحالی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میںوفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما شریک ہوئے تاہم ایم کیو ایم پاکستان کا کوئی رکن

شریک نہیںہوا. متحدہ کی جانب سیاجلاس میں وسیم اختر، فیصل سبزواری اور قمر نوید نے شرکت کرنی تھی جنہوں نے اجلاس کا بائیکاٹ

کیا دوسری طرفحکومت سے ناراض اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے واضح کردیا ہے کہ اب وزارت نہیں، معاہدے پر عمل درآمد اور ترقیاتی

پیکیج کی فراہمی ہی مسائل کا حل ہے۔ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے تحریک

انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان پہلا معاہدہ اسلام آباد میں اگست 2018 میں طے پایا تھا، جس پر گواہ کے طور پر ڈاکٹر عارف

علوی اور فیصل سبزواری کے دستخط تھے۔اتحادی جماعتوں کے درمیان دوسرا معاہدہ کراچی میں پہلے معاہدے کے 10 دن بعد 13 اگست

2018 کو طے پایا۔ جس میں گواہ کے طور پر عمران اسماعیل اور عامر خان نے دستخط کیے۔ دوسرے معاہدے میں کراچی اور حیدر آباد

کے لیے ترقیاتی پیکج، لاپتہ افراد کی بازیابی، پارٹی دفاتر کی فعالی کے نکات شامل تھے، اس معاہدے میں کوٹہ سسٹم کے تحت دی جانے

والی ملازمتوں کا جائزہ اور ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے معاملات بھی طے ہوئے تھے۔دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

کے بعد گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) بھی وفاقی حکومت سے ناراض ہوگئی۔گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈے اے) کے ترجمان

سردار رحیم کے مطابق جی ڈی اے کے تحفظات ابھی تک برقرارہیں اور ہم بھی حکومت سے ناراض ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند دن اور

انتظار کریں گے لہٰذا وعدے پورے کیے جائیں، ہم نے سندھ کے لیے ترقیاتی منصوبے اورنوجوانوں کے لیے روزگار مانگا ہے۔ان کا کہنا

ہے کہ ہم نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی طرز حکمرانی پر بھی اعتراض کیا ہے، سندھ میں کرپشن اور اقربا پروری سمیت کئی شکایات پر

وفاق نے جواب نہیں دیا۔سرداررحیم کا کہنا تھا کہ پیرپگارا کی ہدایت پر جلد مشاورتی اجلاس بلایا جائے گا۔دریں اثنا) تحریک انصاف اپنے

اتحادیوں کیساتھ معاملات حل کرنے کیلئے متحرک ہوگئی، مسلم لیگ ق کی سینئر قیادت سے رابطہ کیا گیا ہے جس میں رواں ہفتے ہی

مشترکہ بیٹھک کا فیصلہ ہوا ہے، مشترکہ اجلاس میں اتحادی حکومت کے امور پر بات چیت ہوگی،مسلم لیگ(ق) کا وفد رواں ہفتے

وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات کرے گا۔ذرائع کے مطابق وفاق میں جہانگیر ترین کی سربراہی میں قائم حکومتی کمیٹی نے مسلم لیگ ق کی

قیادت سے رابطہ کیا ہے، دونوں اتحادیوں کے درمیان رواں ہفتے اعلیٰ سطح کی مشترکہ بیٹھک ہوگی،جس میں اتحادی حکومت کے امور

زیر بحث آئیں گے جبکہ مسلم لیگ ق کی قیادت نے رواں ہفتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی ایک اور ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جس میں

پنجاب کے امور پر مشاورت کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق بھی اپنے مطالبات پر حکومتی عملدرآمد کی منتظر ہے،مسلم لیگ

(ق) نے بھی حکومت سے اپنے حلقوں کیلئے ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کررکھا ہے۔

Leave a Reply