حکومتی میڈیا ریگو لیٹری اتھارٹی ،ایوب خان آرڈنینس کی نقل قرار

Spread the love

اے پی این ایس کی جانب سے وفاقی کابینہ کے پاکستان میڈیا ریگو لیٹری اتھارٹی بنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت ، آگاہی مہم چلانے کافیصلہ کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اے پی این اے سیکرٹری جنرل سرمد علی کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس لاہور میں وائس پریزیڈنٹ مہتاب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں میڈیا ریگو لیٹر ا تھا رٹی کے میڈیا پر تباہ کن اثر کا جائزہ لیا گیا ، اجلاس میں پور ے ملک سے ممبران نے شرکت کی ، اس موقع پر ایک متفقہ قرار داد پیش کی گئی جس میں کہا گیا میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی پریس کی آزاد ی کوختم اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے ،اتھارٹی کو ایوب خان دور کے بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکشن آرڈیننس کے مشابہ قرار دیا گیا میڈیا اور پاکستان کی جمہوری قوتوں کی جانب سے اس کالے قانون کےخلاف جدوجہد کی جائیگی اور حکومت کو اس کو واپس لینے پر مجبور کیا جائیگا۔ قر ا ردا د میںمزید کہا گیا مجوزہ اتھارٹی نہ صرف آئین کے آرٹیکل 19اور 19(a)کےخلاف ہے بلکہ 18ویں ترمیم کی بھی خلاف وزی ہے ۔ ار ا کین کمیٹی کی جانب سے اس اتھارٹی کےخلاف ہر فورم پر جدو جہد کرنے کا عزم کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا وہ تمام اقدامات کئے جائیںگے جن سے وفاقی حکومت( پی ایم آر اے ) کے نفاذ کی تجویز کو واپس لے کر سٹیک ہولڈرز کےساتھ مشاور ت سے ایک قابل قبول میڈیا پالیسی کا نفاذ کرے۔ سابق وزیر عظم راجہ پرویز بھی خصوصی دعوت نامے پر کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے ، ایگز یکٹوکمیٹی کے ممبران نے راجہ پرویز اشرف کو وفاقی حکومت کی میڈیا پالیسی اور پاکستان ریگو لیٹر اتھارٹی کے میڈیا پر تباہ کن اثرات آگاہ کیا اور بتایا کس طرح یہ پالیسی آزادی اظہار رائے کو روکنے کا باعث بنے گی۔راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا صحا فت اور سیاست ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ، انہوں نے یقین دلایا وہ صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے.

Leave a Reply