حمزہ شہباز کو10روزکیلئےبیرون ملک جانےکی اجازت،پارلیمنٹ کو ختم کر دیں؟جسٹس فرخ عرفان

Spread the love

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہاز کو 10 روز کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ،جسٹس فرخ عرفان نے نیب کے اقدامات پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے قراردیا کہ کیا ملک نیب چلائے گی، پارلیمنٹ کو ختم کر دیں؟اگر نیب کسی کے خلاف تحقیقات کرے تو کیا اس کو بیرون ملک جانے سے روک دیا جائے؟ عدالت نے وقافی حکومت سے 15 روز میں جواب بھی طلب کر لیاہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نومبر میں حمزہ شہباز برطانیہ جانے کے لئے ایئرپورٹ پرپہنچے تو تو انہیںپتہ چلا کہ ان کانام بلیک لسٹ میں ہے،فاضل جج نے نے استفسار کیا آپ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟ حمزہ شہباز کے وکیل نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز محب وطن شہری ہیں ،انہوںنے تو پرویز مشرف کے دور میں بھی ملک نہیں چھوڑا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیوں شریف آدمی کا نام ای سی ایل میں ڈالا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ حمزہ شہباز کی درخواست قابل سماعت نہیں، عدالت عالیہ کو حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں، نیب کرپشن پر تحقیقات کر رہا ہے،فاضل جج نے ریمارکس دئیے کہ یہ قانون کی عدالت ہے اورسب کے لئے برابر ہے،ہم اس ملک کو بنانا ریپبلک نہیں بننے دیں گے، عدالتوں کو کسی کے لئے پارٹی نہیں بننا چاہیے، اس سے ملک تباہ ہو رہا ہے، ہمیں بتائیں ،کیسے حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا؟ بتائیں کیا امکانات ہیں کہ حمزہ واپس نہیں آئیں گے؟، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ اسحاق ڈار بیرون ملک فرارہیں، فاضل جج نے کہا کہ کہ اسحاق ڈار کے علاوہ اور بھی بہت سے باہربیٹھے ہیں،فاضل جج نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان بھی نیب کی سرزنش کر رہے ہیں، نیب جس طرح کام کر رہا ہے ججز نیب سے نالاں ہیں، ہمیں نام ای سی ایل میں ڈالنے کا طریقہ کار بتائیں، چیف جسٹس پاکستان نے بھی ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکتا ،حمزہ شہباز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیئرمین نیب نے حمزہ کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا، وفاقی حکومت خود ہی کارروائی کر رہی ہے، حمزہ شہباز شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے ،فاضل جج نے حمزہ شہباز کو ایک مرتبہ 10روز کے لئے بیروملک جانے کی اجازت دے دی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے حمزہ شہباز سے215ملین روپے کی گارنٹی جمع کروانے کی استدعا مسترد کردی ہے ،عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیاہے۔

Leave a Reply