حفیظ، وہاب اور اکمل برادران ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم

حفیظ، وہاب اور اکمل برادران ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم

Spread the love

لاہور(جے ٹی این سپورٹس نیوز) حفیظ وہاب اور اکمل

قومی ٹیم کے کئی نامور کھلاڑی ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم ہو

گئے، جبکہ فاسٹ بولر محمد عامر کو ایک بار پھر کنٹریکٹ مل گیا ہے۔ پاکستان

کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک کنٹریکٹ کا اعلان کر دیا ہے، تاہم

کرکٹر وہاب ریاض، محمد حفیظ، کامران اکمل اور عمر اکمل ڈومیسٹک سینٹرل

کنٹریکٹ میں شامل نہیں ہیں۔ قومی ٹیم کے سابق بولنگ کوچ وقار یونس سے

اختلافات کے باعث کرکٹ کو خیر باد کہنے والے فاسٹ بولر محمد عامر کو ایک

بار پھر ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ مل گیا ہے۔ ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کی

اے پلس کیٹگری میں عبداللہ شفیق، خوشدل شاہ، نسیم شاہ اور صہیب مقصود

سمیت 10 کرکٹرز شامل ہیں جبکہ محمد عامر، شرجیل خان، محمد وسیم جونیئر

اور شان مسعود سمیت 40 کرکٹرز اے کیٹگری میں شامل ہیں۔

=-،-= ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق چیئرمین

پی سی بی رمیز راجہ کے اعلان کے ساتھ ہی ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے

لیے 191 کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کنٹریکٹس کا اعلان کردیا ہے۔ چیئرمین

کے اعلان کے مطابق پی سی بی نے ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی پانچ مختلف کٹیگریز

میں شامل کھلاڑیوں کے ماہوار وظیفے میں ایک لاکھ روپے کا اضافہ کردیا ہے۔

157 میچز پر مشتمل یہ سیزن 15 ستمبر سے 30 مارچ تک جاری رہے گا۔ پیر

کو کیے گئے اعلان کے بعد اے پلس کٹیگری میں شامل 10 کھلاڑیوں کی ماہوار

تنخواہ اب اڑھائی لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ اے کٹیگری میں شامل 40 کھلاڑی اب

ماہوار ایک لاکھ 85 ہزار روپے ملیں گے۔ بی کٹیگری میں شامل 40 کھلاڑی اب

ایک لاکھ 75 ہزار روپے، سی کٹیگری میں شامل 64 کھلاڑی اب 1 لاکھ 65 ہزار

روپے، ڈی کٹیگری میں شامل 37 کھلاڑی اب ایک لاکھ 40 ہزار روپے ماہوار

وصول کریں گے۔ اے پلس کٹیگری کے کرکٹرز اب سالانہ تقریباً پانچ ملین روپے

تک کمائیں گے اور کٹیگری ڈی میں شامل کھلاڑی 3.75 ملین روپے تک کمائیں

گے۔ جن کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی پیشکش نہیں کی گئی، وہ اپنی

ایسوسی ایشن کے انتخاب کے لیے دستیاب رہیں گے اور وہ گزشتہ سال کی طرح

رواں سال بھی میچ فیس، ڈیلی الاؤنس اور انعامی رقم میں اپنا حصہ وصول کریں

گے۔

=-،-= کھلاڑیوں کی تمام توجہ مہارت اور فٹنس بہت ضروری، میز راجہ

چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا کہ بہت ضروری ہے ہم اپنے ڈومیسٹک

کھلاڑیوں کو اچھی تنخواہ دیں تاکہ وہ اپنے کیرئیر اور اہلخانہ کی فکر کی بجائے

تمام تر توجہ اپنی مہارت اور فٹنس میں بہتری لانے پر مرکوز کریں۔ انہوں نے

کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ ملک کے کرکٹرز کی دیکھ بھال

کرے اور وہ اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس کر رہے

تھے۔ رمیز راجہ نے کہا کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ہمارے

ڈومیسٹک نظام کو مضبوط کرے گا۔ یہ ہمارے کرکٹرز کی فلاح و بہبود سے

متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کا بھی باعث بنے گا۔

=-،-= ڈی ایس سی میں 20 کھلاڑی بلوچستان، کے پی اور دیگر علاقوں سے

پی سی بی نے 191 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سیزن 22-2021 کے لیے کنٹریکٹ

پیش کیے ہیں، جس میں سی سی اے ٹو ڈے ٹورنامنٹس کے 20 کرکٹرز شامل ہیں۔

ان 20 کرکٹرز میں سے 11 کا تعلق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز

علاقوں سے ہے کیونکہ پی سی بی نہ صرف ان علاقوں کے ٹیلنٹ کو آزمانے

کے لیے پرعزم ہے بلکہ انہیں قومی فریم ورک میں شامل کرنے میں بھی

مصروف ہے۔ ان 20 میں سے 11 کھلاڑیوں کا تعلق بلوچستان اور خیبرپختونخوا

کے علاقوں سے ہے، جن میں بلوچستان سے عبدالحنان (قلعہ عبداللہ)، آفتاب احمد

(لورالائی)، فہد حسین (جعفر آباد)، محمد ادریس (کوئٹہ)، محمد جاوید (پشین)،

ثناء اللہ (لورالائی)، سید زین اللہ (پشین) اور طارق جمیل (لورالائی)، سینٹرل

پنجاب سے حسیب الرحمن (لاہور)، محمد عرفان جونیئر (شیخوپورہ)، محمد

طبریز (سیالکوٹ) اور محمد وحید (لاہور)، خیبر پختونخوا سے محمد ابراہیم

(صوابی)، وقار احمد (لوئر دیر) اور یاسر خان (بنوں)، ناردرن سے اسد رضا

(فیصل آباد)، سندھ سے خزیمہ بن تنویر (کراچی)، مشتاق احمد کلہوڑو (سکھر)

اور جنید الیاس (کراچی) اورسدرن پنجاب سے محمد شرون سراج (ساہیوال) شامل

ہیں۔ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے

متعلق پالیسی کے تحت پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹر آف دی ایئر 2020 کا

ایوارڈ حاصل کرنے والے کامران غلام اور آف اسپنر ساجد خان کو بالترتیب سی

اور اے کٹیگری سے ترقی دے کر اے پلس کٹیگری میں شامل کرلیا ہے۔

=-،-= پرفارمنس و سینارٹی بنیاد پر کنٹریکٹ کا مطالبہ کیا تھا، کامران اکمل

قومی وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ پی سی بی نے

ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے رابطہ کیا تھا اور کہا کہ پرفارمنس اور

سنیارٹی کی بنیاد پر کنٹریکٹ دیا جائے، سارا ڈومیسٹک سیزن کھیلتا ہوں، اے

پلس کیٹگری کا حقدار ہوں۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ

بعض سینئر کھلاڑیوں نے گزشتہ برس بھی ایونٹس کے حساب سے کنٹریکٹ

لیے، وائٹ بال اور ریڈ بال کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو کیٹگریز کے لحاظ

سے تقسیم کیا گیا ہے۔

حفیظ وہاب اور اکمل ، حفیظ وہاب اور اکمل ، حفیظ وہاب اور اکمل

حفیظ وہاب اور اکمل ، حفیظ وہاب اور اکمل ، حفیظ وہاب اور اکمل

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply