معاملات حل، حسن علی نے فیصلہ واپس لے لیا، محمد عامر کا بھی گرین سگنل

معاملات حل، حسن علی نے فیصلہ واپس لے لیا، محمد عامر کا بھی گرین سگنل

Spread the love

ابوظہبی (جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) حسن علی محمد عامر

اسلام آباد یونائیٹڈ کے فاسٹ بولر حسن علی نے اہلخانہ سے مشاورت کے بعد پی

ایس ایل کے بقیہ میچز کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو روز قبل فاسٹ بولر حسن علی

نے پی ایس ایل کا بائیو سیکیور ببل چھوڑ کر وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے

کہا تھا پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز سے دستبردار ہو رہا ہوں، فیملی مسائل کے

باعث وہ پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی نہیں کر سکوں گا کیونکہ

کچھ چیزیں کرکٹ سے بڑھ کر اور فیملی سب سے بڑھ کر ہوتی ہے، دوسری

طرف فاسٹ بولر محمد عامر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اپنی دستیابی ظاہر

کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی، اگر میرے مسائل

حل ہوئے تو قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوں۔

=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں

شائقین کرکٹ کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ حسن علی ٹیم کی جانب سے پی ایس

ایل کے بقیہ میچز کھیلیں گے۔ حسن علی نے بتایا کہ ان کا خاندان ایک نجی مسئلے

سے دوچار تھا، جسے میری بیوی نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر حل کرلیا ہے،

میری بیوی نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گی، وہ چاہتی ہیں کہ

میں اپنی کرکٹ اور کیریئر پر توجہ دوں۔ حسن علی کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں

میرا بھرپور ساتھ دینے پر اپنی بیوی کو سیلیوٹ کرتا ہوں، اس کی مشاورت کے

بعد میں نے پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے لئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ اپنا سفر

جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں

کہا کہ یہ ہمارے لئے خوش قسمتی ہے کہ باقی ٹورنامنٹ میں حسن ہمارے لئے

دستیاب ہوں گے، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہیں کہ جو بھی معاملات تھے وہ

حل ہو گئے ہیں، ہم حسن علی کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے نیک خواہشات کا

اظہار کرتے ہیں۔

=-.-= پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، کھیلنے کیلئے حاضر ہوں، عامر

دوسری جانب ایک انٹرویو میں فاسٹ بولر محمد عامر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے

لیے اپنی دستیابی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں

ہوتی، اگر میرے مسائل حل ہوئے تو قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے کے لیے تیار

ہوں۔ پی سی بی کے سی ای او وسیم خان دو مرتبہ میرے گھر پر چل کر آئے،

میرے لیے یہ بہت عزت کی بات تھی، انہوں نے مجھے بہت عزت و تکریم دی،

ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا، میں نے ان کے روبرو اپنے مسائل اور ایشوز

رکھے اور نکات پیش کیے جس پر انہوں نے سننے کے بعد اپنی بھرپور معاونت

کا اظہار کیا۔ محمد عامر نے کہا کہ مسائل حل ہونگے تو میں بھی پاکستان کے لیے

دستیاب ہوں، میں باربار اس پر بات کروں گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ جان بوجھ کر

ایسا کررہا ہے اور اپنی صفائیاں پیش کر رہا ہے، ہمارا کلچر ایسا بن گیا ہے کہ

لوگ ان باتوں کو منفی لیتے ہیں-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

فاسٹ بالر محمد عامر نے مزید کہا کہ اگر اپنی ذات سے متعلق از خود فیصلہ کر

لیا جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسے کر لیا، یہ تو ہم سے بڑھ کر ہو گیا، فیصلہ

تو ہم کریں گے، ذاتی فیصلہ پر لوگ پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ محمد عامر نے کہا کہ

اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ میں موجود بعض افراد نے میرے فیصلے

کی منفی عکاسی کی، ایک اچھے کپتان کی یہی نشانی ہے کہ اسے اپنے کھلاڑی

کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے، کپتان کی طرف سے جو پیغام جائے کھلاڑی کے

لیے وہ مثبت ہونا چاہیے۔ فاسٹ بولر نے کہا پاکستان میں پی ایس ایل کو کھلاڑی

کے چناو کے لیے بنیادی حیثیت دے دی گئی ہے جو قطعی طور پر غلط ہے،

پاکستان سے بڑا کوئی نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔

حسن علی محمد عامر

Leave a Reply