حریم فاطمہ پہلی کلی نہ آخری، مجرموں کیساتھ سلوک پختون روایات کے مطابق

حریم فاطمہ پہلی کلی نہ آخری، مجرموں کیساتھ سلوک پختون روایات کے مطابق

Spread the love

پشاور(سینئر صحافی و تجزیہ کار سید اظہرعلی شاہ المعروف بابا گل) حریم فاطمہ پہلی کلی

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ خٹک کالونی کی رہائشی چارسالہ معصوم کلی

حریم فاطمہ جو گھر سے باہرنکلی لاپتہ ہو گئی اور پھر اس کی لاش گندے نالے

سے ملی، پوسٹمارٹم رپورٹ سے پتہ چلا 4 سالہ حریم کو جنسی تشدد کا نشانہ

بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ اندوہناک واقعے پر طبقہ فکر شدید مذمت

سمیت قاتلوں کی گرفتاری و نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

=–= خیبر پختونخوا کی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے پہلے آٹھ ماہ میں بچوں سے

زیادتی کے 182 کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے، جن میں سے چار کیسز میں بچوں کو

زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ ان میں ضلع چارسدہ کی ڈھائی سالہ بچی زینب

بھی شامل تھی جسے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچی کے والدین

کا کہنا تھا ملزم گرفتار ہوں تو ان سے پوچھیں انکی بیٹی کیا بگاڑا تھا جو انہوں

نے یہ جرم کیا۔ اس واقعہ پر ٹوئٹر پر زینب کے لئے انصاف اور ایک اور زینب

کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے، صارفین نے ملک میں بچوں کے قتل پر شدید غم

اور غصے کا اظہار کیا، سوشل میڈیا پر ڈھائی سالہ بچی کی تصویر زیر گردش

رہی جس میں اس واقعے کا 2018ء میں قصور میں ریپ کے بعد قتل کی گئی ننھی

زینب کے کیس سے موازنہ کیا جا تا رہا۔ اسی طرح کراچی میں 6 سالہ مروہ کو

ریپ کے بعد قتل کر دینے کا واقعہ بھی رونما ہوا، ملوث ملزموں کے فنگر پرنٹس

بھی میچ کر گئے، راولپنڈی میں بھی 7 سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل کا واقعہ

سامنے آیا، آگے کیا ہوا تاحال خاموشی ہے۔ کوہاٹ کی حریم فاطمہ کیساتھ پیش

آنیوالے واقعہ پر بھی کچھ اسی نوعیت کا ردعمل دیکھنے کو ملا۔

=–= اور کتنے بچے بچیاں، لڑکیاں، خواتین، انصاف کیلئے اور کتنے ہیش ٹیگ؟
——————————————————————————————

حریم فاطمہ ابھی حلال اور حرام زادے میں تفریق کرنے کے قابل نہیں ہوئی تھی،

وہ ابھی اس قابل بھی نہ تھی خطرہ بھانپ کر اپنے آپ کو بچانے کیلئے مزاحمت

کرتی، وہ تو محض موم کی گڑیا تھی جسے معمولی سی طاقت کیساتھ جس طرف

چاہیں موڑ لیں، وہ تو ابھی گڑیوں اور پالتو جانوروں کیساتھ کھیلنے اور پیار کرنے

کی عمر میں تھی۔ اخلاقی پستی کی بھینٹ چڑھنے والوں میں حریم فاطمہ نہ تو

پہلی کلی ہے نہ ہی آخری، ملک بھر سے اس طرح کی درندگی کی خبریں آئے

روز سامنے آتی ہیں، چند دن خوب شور مچتا ہے پھر اس طرح خاموشی چھا جاتی

ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، سوشل میڈیا پر بھی حریم شاہ کا نام ٹرینڈ کرتا رہا،

صارفین نے واقعے پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سے

سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ کسی نے لکھا یہ انسانیت کا ایک کڑوا سچ ہے

لیکن ہم اپنے ماضی سے کبھی سبق نہیں سیکھتے۔ کسی نے لکھا کبھی کسی والدین

کو اس سب سے نہ گزرنا پڑے۔ انصاف ہونا چاہیے۔ کئی ایک نے حکومت سے

درخواست کی اس ظالمانہ عمل کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ متعدد نے سوال

کیا اور کتنے بچے بچیاں اور کتنی لڑکیاں اور کتنی خواتین، انصاف کیلئے اور

کتنے ہیش ٹیگ؟۔ ہمارے قانون ساز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے، اعلی عدالتوں

کے ججز تک نے اپنے آپ کو اس طرح کے سفاکانہ واقعات سے لاتعلق رکھا ہے

جس کے نتیجے میں مرض دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے، کوہاٹ کے دلخراش

واقعے پر قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے یہی تجویز دی جا سکتی ہے کہ

حریم کے مجرم کی شناخت ہونے کے بعد اس کیساتھ پختون روایات کے مطابق

سلوک کیا جائے۔

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply