حریت رہنماﺅں کی جائیدادوں سے متعلق بھارتی رپورٹ بے بنیاد

Spread the love

سرینگر(جے ٹی این آن لائن) مقبوضہ کشمیرمیں میر واعظ عمر فاروق کی

سربراہی میں قائم حریت فورم نے نئی دلی کے تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر

نظربند حریت رہنماﺅں الطاف احمد شاہ، ایازمحمد اکبر،شبیر احمد شاہ اور دیگر

کی جائیداروں کے حوالے سے بھارتی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں کو محض

مفروضوں پر مبنی بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا

ہے کہ بھارت اپنے تحقیقاتی اداروں کو مظلوم کشمیری عوام کو زیر دست رکھنے

کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق

فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں تہاڑ جیل میں نظربند

حریت رہنماﺅں الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ ،شبیر احمد شاہ ،

ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، نعیم احمد خان، راجہ معراج الدین، شاہد الاسلام، فاروق

احمد ڈار اور تاجر ظہور احمد وٹالی کی جائیدادوں کے بارے میںبھارتی تحقیقاتی

اداروں این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے بیانات کوکو گمراہ کن

قراردیا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت تمام مسلمہ جمہوری اور اخلاقی اصولوں اور

قدروں کو بالائے طاق رکھ کر نظربند حریت رہنماﺅںکو بدنام کرنے پر تلی ہوئی

ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارتی حکومت کے اس اقدام کا واحد مقصد حریت قائدین کی

جائیدادوں کے حوالے سے من گھڑت اعداد و شمار پیش کرکے انتخابات میں فائدہ

حاصل کرنا اور کشمیریوں کی حق پر مبنی تحریک آزادی کو دبانا ہے۔فورم کے

ترجمان نے کہا کہ حریت قائدین کی جائیدادوں کے حوالے سے جو رپورٹ پیش

کی گئی ہے اس سلسلے میں بھارتی ایجنسیاں حقائق سے پوری طرح واقف ہیں کہ

یہ جائیدادیں ان رہنماﺅں کی جائز اور پشتنی جائیدادیں ہیں اور ان کو کسی بھی

ناجائز طریقے سے حاصل نہیں کیا گیا ۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر کی حقیقت

اور حساسیت بالکل واضح اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور بھارتی تحقیقاتی

اداروں کے ذریعے جاری مہم سے اس کی تاریخی متنازعہ حیثیت کونہ ماضی

میں تبدیل کیا جا سکا ہے اور نہ آئندہ اس قسم کی کوئی کوشش کامیاب ہو گی ۔

Leave a Reply