حریت رہنماؤں، شہدائے حول کو خراج عقیدت، مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

حریت رہنماؤں، شہدائے حول کو خراج عقیدت، مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال

Spread the love

سرینگر(جے ٹی این آن لائن کشمیر نیوز) حریت رہنماؤں شہدائے حول

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کشمیری عوام ممتاز

شہید حریت رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبد الغنی لون اور

شہدائے حول کو ان کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیلئے آج جمعتہ المبارک

کو مکمل ہڑتال کر رہے ہیں جبکہ کل مزار شہداء سرینگر کی طرف مارچ کریں

گے۔ ہڑتال کی کال میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم اور

کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے۔ 1990ء میں اس دن میر واعظ مولوی

محمد فاروق کو بھارتی ایجنسیوں کے ایجنٹوں نے سرینگر میں انکی رہائشگاہ پر

گولی مار کر شہید کر دیا تھا، جبکہ بعدازاں بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے

علاقے حول میں ان کے جنازے پر بھی اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سوگواروں

کو بھی شہید کیا تھا۔ بھارتی ایجنٹوں نے 2002ء میں اسی دن خواجہ عبدالغنی لون

کو اس وقت شہید کیا تھا جب وہ مزار شہداء سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب

کے بعد واپس آرہے تھے۔

=-.-= آزاد و مقبوضہ کشمیر سے متعلق مزید خبریں ( == پڑھیں ==)

کشمیر کے حریت رہنماء میر واعظ عمر فاروق کی طرف سے اعلان کردہ

پروگرام کے مطابق ہڑتال اور مارچ کے علاوہ کشمیر کاز اور کشمیریوں کیخلاف

بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائیگی۔

پورے مقبوضہ علاقے میں پوسٹر اور بینر بھی لگا دیئے گئے ہیں، پورے مقبوضہ

علاقے کی مساجد میں دعائیہ مجالس کا اہتمام کیا جارہا ہے جبکہ آزاد جموں و

کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی اور دعائیہ مجالس کا اہتمام

کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں فیصل مسجد اسلام آباد میں کل شہداء کی بلندی

درجات کیلئے خصوصی دعائیہ تقریب کا اہمتام اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا۔

=-.-= وادی میں بھارتی محاصرے، پابندیوں کا تیسرا برس، کشمیری شدید متاثر

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں محکوم لوگوں کو مسلسل

تیسرے برس بھی نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت طرف سے مسلط کردہ

محاصرے اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں

ہرقسم کی سرگرمیاں متاثر ہیں۔ عوامی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں پر

عائد پابندیوں نے کاوباری اور مزدور طبقے سمیت معاشرے کے تمام افراد کو

متاثر کیا ہے۔ نریندر مودی کی فاشسٹ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو

مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی ختم کرکے اسکا فوجی محاصرے کر لیا تھا

جو تاحال جاری ہے۔ بعد ازاں کرونا وبا کی آڑ میں مقبوضہ علاقے میں قدغنوں

اور پابندیوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ پابندیوں کے باعث محنت کش اور کاروباری

طبقے کا کام کاج ٹھپ ہو چکا ہے جبکہ نجی سیکڑز میں کام کرنے والے ہزاروں

کشمیری نوجوان بیروز گار ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں اس وقت تمام

کاروباری ادارے بند ہیں۔

=-.-= اہل کشمیر آزادی کی صبح ضرور دیکھیں گے، چیئرمین وائے پی ڈی ایم

چیئرمین یوتھ ونگ ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ خواجہ فردوس نے ایک بیان میں

کہا ہے کشمیری عوام ہرگز اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے

اور ان کی قربانیوں کیساتھ کسی کو کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ کشمیری

عوام شہداء کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔ وہ دن دور

نہیں جب کشمیری عوام کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیری عوام ضرور

آزادی کی صبح دیکھیں گے۔

حریت رہنماؤں شہدائے حول

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply