حرمین شریفین میں عمرہ زائرین کی مدد کے لیے 500 نئے ملازمین تعینات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حرمین شریفین

مکہ مکرمہ(جے ٹی این آن لائن نیوز)حرمین شریفین کی جنرل پریزیڈینسی کی طرف سے جاری ایک

بیان میں کہا گیا ہے کہ عمرہ کے مناسک کی ادائی کے لیے آنے والے زائرین کی مدد اور معاونت

کے لیے مزید 531 ملازمین تعینات کیے گئے ہیں۔ انہیں تین الگ الگ یونیفارم کے رنگوں میں تقسیم

کیا گیا ہے۔ایک گروپ میں 159 ملازمین شامل ہیں جنہیں مزید 18 سپروائزر کی نگرانی میں الگ

الگ ٹیموں میں تقسیم کیا کیا گیا ہے۔ یہ خادمین تین گھنٹے میں ایک ہزار معتمرین کو عمرہ کی ادائیی

میں مدد فراہم کرتے ہیں اور دن بھر میں 6 ہزار معتمرین کی مدد کر رہے ہیں۔ انہیں مسجد حرام میں

مطاف کے داخلی راستے، الشبیکہ، اجیاد، کدی اور باب علی پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔عرب ٹی

وی کے مطابق مسجد حرام میں ھجوم سے متعلق امور کے ڈائریکٹر جنرل انجینیر اسامہ الحجیلی نے

بتایا کہ جنرل پریزیڈینسی بیت اللہ میں آنے والے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے تمام ممکنہ وسائل

اور کوششوں کو بروئے کار لا ہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عازمین عمرہ کی مدد کے لیے زیادہ سے

زیادہ افرادی قوت فراہم کی گئی ہے تاکہ عازمین کو مناسک کی ادائی میں کسی بھی دشواری کا سامنا

نا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا کی وبا کے موقعے پر عمرہ زائرین کو وبا سے محفوظ رکھنے

لیے خصوصی ایس او پیز تیار کیے گئے ہیں اور ان پرسختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ایک

سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیت اللہ کے طواف کے دوران معذور افراد کو وہیل چیئرز فراہم

کی جا رہی ہیں۔حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ایک دوسرے عہدیدار انجینیر نزار بن حمزہ علا

الدین نے کہا کہ بیت اللہ کے طواف کے لیے تمام ضروری اقدامات کے ساتھ ساتھ کرونا کی وبا کی

روک تھام کے لیے بھی بھی ایس او پیز وضع کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طواف کے لیے تین

الگ الگ رنگوں میں ٹریک تیار کیے گئے ہیں جن میں مناسب فاصلہ رکھا گیا ہے۔ طواف کا پہلا

چکر 10 ویں ٹریک سے ہوتا ہے جو تیسرے ٹریک پر ختم ہو جاتا ہے۔

حرمین شریفین

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply