Millions of Muslims are Performing Hajj at Bait Ullah Macca

حج پالیسی 2019ء میں کیا ؟

Spread the love

(خصوصی رپورٹ ، جے ٹی این آن لائن)
حج 2019ء کیلئے پاکستان کے مقرر کردہ حج کوٹہ 1لاکھ 79ہزار 210 کے علاوہ سعودی حکومت نے 5000کا اضافی کوٹہ بھی دیا ہے ۔ اس طرح حج 2019ء کیلئے پاکستان کا کوٹہ 1لاکھ 84ہزار 210 ہے۔

179210 حج کوٹے میں سے 2019ء کیلئے سرکاری سکیم کا کوٹہ 1لاکھ 7ہزار 526 (60فیصد) حجاج اور پرائیویٹ سکیم کیلئے 71ہزار 684 حجاج (40فیصد) مقرر کیا گیا ہے۔

5000کا اضافی کوٹہ نئے رجسٹرڈ نان کوٹہ ہولڈرز پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا جائیگا۔

گزشتہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امسال بھی کسی کو مفت حج نہیں کروایا جائیگا۔

حج 2019ء کیلئے شمالی ریجن (اسلام آباد، پشاور، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان اور رحیم یار خان)کا پیکیج 436975روپے۔
جنوبی ریجن (کوئٹہ، کراچی اور سکھر) کاپیکیج 426975روپے۔

گورنمنٹ حج اسکیم کے تحت 15ستمبر 2017 کے بعد پیدا ہونیوالے نوائیدہ بچوں کے حج اخراجات شمالی و جنوبی ریجن سے بالترتیب 12910 اور 11910روپے ہونگے ۔

قربانی اختیاری (سپیشل) ہوگی، جو حجاج صاحبان گورنمنٹ سکیم کے تحت قربانی کرنا چاہتے ہیں انکو 19451روپے حج پیکیج کے علاوہ جمع کروانا ہونگے۔

بین الاقوامی مشین یریڈایبل پاسپورٹ، کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ اور میڈیکل سرٹیفکیٹ لازم ہوگا۔ مشین ریڈایبل پاسپورٹ کی کم از کم معیاد 10-2-2020تک ہونی چاہئے۔

سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستیں 25فروری سے لیکر 6مارچ تک وصول کی جائیں گی اور 8مارچ2019ء کو قرعہ انداز ی ہو گی۔ حج درخواستیں حبیب بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، ایم سی بی بینک، الائیڈ بینک، بینک آف پنجاب، میزان بینک ، بینک الفلاح، بینک الحبیب، زرعی ترقیاتی بینک، فیصل بینک، حبیب میٹرو بینک، عسکری بینک اور دبئی اسلامک بینک کی نامزد برانچو ں میں وصول کی جائیں گی۔

حجاج کا انتخاب شفاف انداز میں قرعہ اندازی کے ذریعے عمل میں لایا جائیگا۔

80سال سے زئد عمر رسیدہ افراد بمعہ مددگار/ محرم درخواست گزاروں (80سال سے زائدعمر مرد درخواست گزار بمعہ ایک صحتمند مددگار اور80سال سے زائد عمر کی خاتون درخواست گزار بمعہ ایک معاون صحتمند خاتون اور ایک مشترکہ محرم) کیلئے10ہزار کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اگر یہ درخواستیں 10ہزار سے زائد موصول ہوئیں تو ان کا انتخاب عمر کے لحاظ سے سینیارٹی کی بنیاد پر کیا جائیگا۔

ایسے درخواست گزار جو پچھلے تین سالوں (2018,2017,2016)سے مسلسل ناکام ہوتے آرہے ہیں ان میں سے 10ہزارد ر خو ا ست گزاروں کا انتخاب ایک الگ قرعہ اندازی کے ذریعے عمل میں لایا جائیگا۔ اس قرعہ اندازی میں ناکام درخواست گزاروں کو عمومی قر عہ اندازی میں بھی شامل کرکے کامیاب ہونے کا ایک مزید موقع دیا جائیگا۔

سرکاری سکیم کے کوٹے کی 1.5فیصد (1613) سیٹوں کو پالیسی کے مطابق بارڈ شپ کی بنیاد پر چند مخصوص شرائط کیساتھ بالکل شفاف انداز میں پر کیا جائیگا۔

غیر سرکاری اداروں کے مزدوروں (جو EOBI سے رجسٹرڈ ہوں) اور کم تنخواہ یافتہ سرکاری ملازمین کیلئے500نشستیں رکھی گئی ہیں۔ ان افراد کو ان کے متعلقہ ادارے نامزد اور ان کے اخراجات بھی وہی ادارے برداشت کریں گے۔ ان کو ایک مخصوص طریقہ کار کے مطابق منتخب کیا جائے گا۔

تمام درخواست گزار بشمول حج بدل اور نفل حج اداکرنےوالے سرکاری حج سکیم میں درخوسات دینے کے اہل ہوں گے۔ بشرطیکہ انہوںنے پچھلے پانچ سالوں 2014سے 2018تک) سرکاری حج اسکیم کے تحت حج ادا نہ کیا ہو۔ اس ضمن مںی صرف خاتون کے محرم کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ شرائط پرائیویٹ حج سکیم پربھی لاگو نہیں ہوگی۔

سفر حج کے لئے کسی بھی عمر کی خاتون کے ساتھ محرم کا ساتھ ہونا لازم ہوگا تاہم سعودی حکومت کے حج قوانین کی روشنی میں فقہ جعفریہ کی حاجن جس کی عمر 45سال سے زائد ہو وہ محرم کی لازمی شرط سے مستثنیٰ ہوگی۔

کوشش کی جائے گی کہ “Road to Makkah” پروجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر کراچی کے حجاج کی ایمیگریشن کراچی ائرپورٹ پر ہی کرلی جائے تاکہ سعودی ائرپورٹس پر حجاج کو انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس سال اگر تجربہ کامیاب رہا تو اگلے سال یہ پروجیکٹ دوسرے ائرپورٹس پر بھی شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پہلی مرتبہ پاکستانی حاج کے لئے E-Visa کی سہولت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

تمام عازمین حج کو نامزد ایرلانز (پی آئی اے، سعودی ایئر لائن اور ائر بلیو) کے ذریعے حاج مقدس روانہ کیا جائے گا۔
پی آئی اے ایویشن اور سول ایوایشناتھارٹی کے خصوصی تعاون سے کوئٹہ سے حجاج کو براہ رست حجاج مقدس پہنچایا جائے گا۔
سعودی حکومت سے منظوری ملنے پر سرکاری سکیم کے 50فیصد عازمین حج کو پاکستان سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا اور اسی طرح ہی ان کی واپسی بھی ہوگی۔ اور یوں ان کے پیسوں کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی بچت ہوگی۔

تمام حجاج کو مخصوص پیکنگ میں 5لیٹر زم زم پاکستان یا سعودی ائرپورٹ پر مہیا کیا جائے گا۔

حجاج محافظ سکیم جو ’’تکافل‘‘ کی بنیاد پرواقع کی گئی ہے حج پالیسی 2019ء میں بھی جاری رہے گی۔

مکہ مکرمہ میں حجاج کرام کو عزیزیہ طحہ قریشی میں ہی ٹھہرایا جائے گا اور حجاج کرام کو ان کی رہائش سے حرم پاک اور واپس ان کی رہائش گاہ پر چھوڑنے کے لئے 25گھنٹے ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جائے گی۔

حج 2019ء میں سرکاری حج سکیم کے 100% حجاج کرام کو مدینہ منورہ میں (مرکزیہ) مسجد نبوی کے پانچ سو میٹر کے دائرے کے اندر میںٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

سرکاری حج سکیم کے حجاج کرام کومشترکہ قیام و طعام کی سہولتیں سعودی قوانین اور رہائشی اجازت ناموں کے مطابق مہیا کی جائیںگی۔

عازمین حج کے لئے ایک جامع آگاہی مہم اور تربیت شروع کی جائے گی۔ اس سال نہصرف حجاج کو بلکہ ویلیفیئر سٹاف کوبھی تربیت دی جائے گی۔

سرکاری حج سکیم حجاج کو دوران قیام مکہ مکرمہ، مدینہ منظورہ اور (مشائر) منی، عرفات میں پاکستانی ذائقے کے مطابق تین وقت کا کھانا فراہم کیا جائے گا۔ کھانے کے اخراجات موجودہ حج پیکیج سے ہی ادا کئے جائیںگے۔ اس سال کھانے کے مینو کو مزید بہتر کیا گیاہے۔

حج گروپ آرگنائزرز اور انرولڈ نان کوٹہ ہولڈرز کمپنیوں کو ایک شفاف طریقہ کار کی روشنی میں کوٹہ دیا جائے گا۔ اس کی تفصیلات وزارت ہذا کی ویب سائٹ پر بھی آویزاں کی جائے گی۔

جو افراد پرائیویٹ سکیم کے تحت حج ادا کریں گے ان کے لئے وزارت حج پیکیج کا جائزہ لے گی تاکہ حجاج کو کم خرچ میںزیادہ سے زیادہ سہولیات بمہم پہنچائی جاسکیں۔

تمام HGOs کیلئے ضروری ہے کہ وہ کار کردگی کی گارنٹی کے طورپر اپنے کل پیکیج کا 5فیصد (پیکیج xکوٹہ) (نئی کمپنیوں کے لئے 10فیصد) سیکورٹی ڈیپازٹ کیش یا بینک گارنٹی کی صورت میں جمع کروائیں جو کہ تسلی بخش کارکردگی کیبناید پر واپس کردیا جائے گا۔

حجاج کرام کی طرف سے حج 2018ء میں دی گئی آرا کے عین مطابق پاکستان اور سعودی عرب میں دونوں حج سکیموں (سرکاری اور نجی سکیم) کے حج آپریشن کی نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط کیاجائے گا۔ اس سلسلے میں حجاج کیشکایات جو بذریعہ کال سینٹر، ایل میل اور خصوصی نگران ٹیموں کے ذریعے موصول ہوں گیے ان کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔

حج 2019ء میں حجاج کی زیادہ تعداد کومدنظر رکھتے ہوئے حجاج کے لئے حج میڈیکل مشن اہلکار، معاونین حجاج کے اہلکار، وزارت کے سیزنل سٹاف اور پاکستانی لوکل معاوین پر مشتمل عملے کو ضرورت کی بنیاد پر تعین کیا جائے گا۔

گلگت میں عارضی حاجی کیمپ بنایا جائے گا اور گلگت سے حجاج کو ٹیموں کے ذریعے سرکاری خرچے پر اسلام آباد ائرپورٹ لایا جائے گا۔

گلگت بلتستان ، بلوچستان اور صوبہ خیبرپختو نخوا کے دور افتادہ اضلاع سکردو، خضدار، چترال اور مظفر آباد کے حجاج کی سہولت کے لئے موبائل بائیو میٹرک ریفیکیشن کا بندوبست کیا جائے گا۔

مزید معلومات کیلئے وزارت کی ویب سائٹس فیس بک پیج یا حج انکوائری نمبر 0519205696 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply