حج مہنگا، سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ

Spread the love

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019 کی منظوری دےدی ہے جس کے تحت اس سال حکومت حج پرکسی قسم کو کوئی سبسڈی نہیں دے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سال 2019 کی حج پالیسی پیش کی گئی۔

کابینہ کا بتایا گیا کہ حج درخواستیں 20 فروری سے وصول کی جائیں گی۔اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ حکومت فی حاجی 45 ہزار روپے سبسڈی دے گی لیکن حکومت نے اس سال حاجیوں کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا وہ حج پراسیس کو خود مانیٹر کریں گے اور حاجیوں کو دی جانے والی سہولیات پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا گیا رواں برس ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے، جس میں سرکاری کوٹہ 60 فیصد اور نجی ٹورز آپریٹرز کا کوٹہ 40 رکھا گیا ہے۔ اس سال 80 سال یا زائد عمر کے افراد اور مسلسل تین سال سے ناکام رہنے والوں کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھجوایا جائےگا۔

حج کے اخراجات دو زونز میں تقسیم کردیئے گئے ہیں۔ شمالی زون کے حج اخراجات چار لاکھ 36 ہزار 975 روپے اور جنوبی زون کے حج اخراجات 4 لاکھ 27 ہزار 975 روپے ہوں گے۔ وزارت مذہبی امور حج سستا رکھنے کےلئے 45ہزار روپے فی حاجی سبسڈی مانگی گئی تھی جسے وفاقی کابینہ نے دینے سے انکار کردیا ہے۔

حج درخواستوں کی وصولی کےلئے 20فروری کی تاریخ تجویز کی ہے۔ دوسری دفعہ حج کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ 80سال سے اوپر کے افراد کو بغیر قرعہ اندازی کے کامیاب قرار دینے کا فیصلہ ہوا ہے ان کے لئے معاون لے جانا ضروری ہوگا۔کابینہ نے ای سی ایل میں شامل 172افراد میں سے 32کا نام نظر ثانی کمیٹی کو بھجوانے کا بھی فیصلہ کیا جبکہ ویزہ پالیسی میں نرمی کی بھی منظوری دی گئی ۔

Leave a Reply